مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiعلماے آخرتمحبت دنیا کے نتائج و اثرات

باب ۶ از ۶صفحات ۶۹–۷۲

محبت دنیا کے نتائج و اثرات

معلوم ہو کہ قرآن و سنت میں علماے دنیا کی جو اس قدر مذمتیں اور برائیاں آئی ہیں نیز علماے آخرت نے بھی ان کی قباحتوں کو تفصیل سے بیان فرمایااس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی محبت اور اس کی طرف میلان و رغبت کے نتائج واثرات اس قدر برے اور کثیر ہیں کہ بیان نہیں کیے جاسکتے ہیں۔ حدیث شریف میں اسی لیے فرمایا گیا کہ (حب الدنیا رأس کل خطیئۃ) دنیا کی محبت ہر خطا کی جڑ اور بنیاد ہے۔ عام دنیادار ایسے ہوتے ہیں جن کا فساد متعدی نہیں ہوتا ہے نہ عام و شامل کہ بہتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے، مگر علماے دنیا کا فساد کہاں تک پہنچ جائے یہ کسی کو نہیں معلوم۔ اس محبت دنیا کی وجہ سے علماے دنیا کئی اعتبار سے خسارے اور نقصان کا شکار ہو گئے۔

۱۔ علم برائے دنیا ہونے کی وجہ سے ان فضائل سے محروم ہو گئے جو علما کے لیے قرآن و حدیث میں وارد ہوئے نیز ان کے ثواب سے بھی محروم ہو گئے اور ان مذمتوں کے مستحق ہو گئے جو قرآن وحدیث میں ایسے علما کے لیے وارد ہوئی ہیں، یہ بہت بڑا خسارہ ہے جن کا تعلق ابدی و سرمدی زندگی سے ہے۔ اخلاص کی بنیاد پر ان کو جو بلند درجات حاصل ہوتے، جنت کی اعلی نعمتوں سے ہم کنار ہوتے، قبر و حشر میں عذابوں اور بلاؤں سے نجات پاتے اس سے حرمان ایک ایسا خسارہ ہے جسے صرف اللہ اور اس کے رسولﷺ جانتے ہیں اس کے بر عکس زیادہ

عذاب کے مستحق ہوئے۔

۲۔ دنیا کی محبت ورغبت نے ان کی توجہات تحصیل مال و جاہ کی طرف پھیر دیااور ان کے بہت سے عزیز اوقات دنیا کی نذر ہو گئے جو غفلتوں میں گزر گئے۔ نیز ان اوقات کو ذکر و فکر اور عبادت و ریاضت اور مطالعہ کتب دینیہ میں بسر کرکے بہت سے درجات و کمالات کی تحصیل کر سکتے تھے اور اپنے قلوب و نفوس کے تصفیہ و تزکیہ کے ذریعہ ان بلندیوں کو پاسکتے تھے جو وہم و گمان سے ورا ہیں۔ اسی طرح ان ساری خوبیوں اور درجات و کمالات سے محروم ہو گئے اور ابدی خسران کے شکار ہو گئے۔

۳۔ حب دنیا کا غلبہ جب ہوتا ہے تو پھر علمی و عملی کمالات کے اکتساب کی رغبت کم ہو جاتی ہے اور بظاہر جو عبادات نماز وغیرہ ادا کرتا ہے وہ دنیوی تفکرات کی آلودگیوں کے ساتھ ہوتی ہے نیز دین کے اکثر کاموں میں سستی، کاہلی و بے رغبتی پیدا ہو جاتی ہے۔ اکثر تو نماز جیسے فریضہ کے تارک ہو جاتے ہیں جو محویت و استغراق کے ساتھ ہونی چاہیے اور اس کی بنیاد پر جن جن کیفیات کا حصول ہونا چاہیے وہ نہیں ہو پاتاہے۔ اکثر دنیا کے کاموں کی وجہ سے بے وقت نمازیں ادا ہونے لگتی ہیں۔ غرضیکہ حرمان و خسارہ ہی خسارہ ہے۔

۴۔ حب دنیا کی لعنتوں سے ہے کہ حسد، بغض، طمع، حرص، تملق، چاپلوسی، بخل اور جبن جیسے اوصاف ذمیمہ پیدا ہوتے ہیں اور پھر ان سے آپسی نفرتیں کدورتیں چغلیاں غیبتیں وغیرہ پیدا ہوتی ہیں اور محبت دنیا کے غلبہ کی وجہ سے عام طور پراس کے سارے دینی کام معاوضہ کے طور پر ہوتے ہیں مثلاً تقریریں نعتیں آج مشاہدہ ہے کہ بڑے بڑے علما طے کرنے لگے اور ہر کام میں انھیں دنیا نظر آنے لگی، موٹی موٹی تنخواہیں مانگنے لگے اور ایک کا دوسرے کو برداشت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ سے دین کی دعوت و تبلیغ کا کام بند سا ہو گیا ہے اور بلا عوض کوئی کام کرنا اکثر پر نہایت گراں ہو گیا ہے اور ان کی مثال ایک بھکاری کی ہو گئی ہے۔ سنیت کا مذاق اڑنے لگا اور لوگ وہابیت کی طرف مائل ہونے لگے اور ہزاروں کی تعداد میں مائل بھی ہو گئے۔

پیروں میں نہایت گھناونے کام ہونے لگے، مریدوں سے مانگنے لگے اورباہم دست و گریباں ہو گئے اور نعروں میں بڑے بڑے القاب کے یا مدح وتعریف کی خواہشات کے اسیر اور تعصبات کے شکار ہو گئے۔ یہ چند وہ نقصانات ہیں جو ان کی نجی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں اگرچہ بعض دوسروں تک پہنچتے ہیں۔

۵۔ اپنے بچوں بچیو ں کو بجاے علوم دینیہ کے انگریزی اسکولوں کالجوں وغیر میں پڑھانے لگے اور انھیں ہر طرح سے اخروی کمالات اور دینی خدمات سے محروم کر دیادوسروں کو مدارس و جامعات میں پڑھانے کی ترغیب دیتے ہیں اور خود کا وہ عمل ہے جو مذکور ہوا۔

۶۔ ایسے علما کی محافل و مجالس میں صرف دنیا ہی کی باتیں ہوتی ہیں جو ان کی محفلوں میں بیٹھنے والوں کے لیے مزید رغبت دنیا کا سبب بنتی ہیں۔ اس طرح امر معروف و نہی منکر کے بجاے منکرات کے ارتکاب اور مامورات کے ترک کا جذبہ مزید قوی ہو گیا۔

۷۔ تحصیل مال و جاہ کی خاطر لوگوں کے چہرے اپنی طرف پھیرنے لگے اور اپنی برتری و تفوق کے اظہار کے لیے ایک دوسرے سے مناظرے مباحثے اور ایک دوسرے کے خلاف فتوی دینے لگے اور کسی کی بھی عزت و شہرت ان کے لیے ناقابل برداشت ہو گئی۔ جس کو اٹھتا ہوا دیکھا اس کی ٹانگیں کھینچنے لگے۔ استاد شاگرد سے، شاگرد استاد سے، باپ بیٹے سے ، بیٹا باپ سے ٹکرانے لگااور برائیاں کرنے لگا۔ سب نے اپنے اپنے حلقے بنا لیے اور اسی طرح بہت سی پارٹیاں وجود میں آگئیں اور اہل سنت کا شیرازہ منتشر ہو گیا۔

۸۔ جو اہل ثروت دینی کام کرنے والوں کی مدد کر سکتے تھے ان مشائخ اور علما نے ان کو امداد و اعانت سے روک دیااور ہر ایک نے اپنی جھولی بھرنے کے لیے کہیں خانقاہ کی تعمیر کے نام پر ، کہیں مدارس کے نام پر ساری وصولیابی شروع کر دی اور دوسروں کی برائی کا حال یہ ہے کہ اسلام و سنیت کا صحیح درد رکھنے والے ہمارے جوان علما کام بھی کرنا چاہیں تو ان کے پاس وسائل نہیں اور جن کے پاس وسائل ہیں ان کے پاس کام نہیں۔ یہ سب امور ایسے خساروں پر مشتمل ہیں

کہ بیان سے باہر ہیں۔

۹۔ مدارس و جامعات کے چندوں میں بے پناہ خرد برد ہونے لگی اور امانت و دیانت کا جنازہ نکل گیا۔

۱۰۔ اعمال و خدمات میں بجائے اخلاص، ریا و سمعہ پیدا ہو گیااور ہر ایک اپنی دینی خدمات کی ڈینگیں مارنے لگا۔

۱۱۔ جو مدارس و جامعات سرکاری مدد پانے لگے اور مدرسین کو تنخواہیں ملنے لگیں ان میں اکثر دھیرے دھیرے اپنا علمی معیار کھو بیٹھے اور وہ دنیوی تعلیم کی نذر ہو گئے اور اکثر جھوٹ فریب سے کام لینے لگے۔ مدرسین میں باہمی حسد بڑھ گیااور صدر مدرس وغیرہ کے جھگڑے اتنے بڑھے کہ بعض تو بند ہو گئے۔ ان چیزوں کی وجہ آے دن انھیں کفار و مشرکین کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا پڑتا ہے اور انھیں اپنے معاملات میں حکم بنانے لگے، ان کی بے پناہ تعظیم و تکریم کرنے لگے، دنیاداروں اور نیتاؤں کے پیچھے پیچھے پھرنے لگے، جاہل و فاسق کمینوں کے تابع ہو گئے اور انھیں سر پر چڑھا لیا اور انھیں کے اشاروں پر چلنے لگے۔

خاتمہ: معلوم رہے کہ موجودہ دور فتنہ و فساد کا دور ہے۔ حق باطل کے ساتھ اس قدر مخلوط ہو گیا ہے کہ عوام تو عوام خواص کے لیے بھی حق کو باطل سےجدا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ کیوں کہ دین کی پیشوائی آج بھی زیادہ تر علما و مشائخ کے ہاتھوں میں ہے اس لیے یہ مختصر تحریر وجود میں آئی تاکہ صحیح طریقے پر رہبر اور رہزن کو جانا جا سکے۔ نیز جو رہبری کے لائق ہیں ان کی تعظیم و تکریم اور مناسب خدمات کی جائیں اور رہزنوں سے قوم کو بچایا جائے۔

یہ چند وہ احساسات ہیں جنھیں آج کے زمانے میں ہر حساس ذی علم و ذی عقل مشاہدہ کر رہا ہے اور ماتم کر رہا ہے۔ و ما علینا إلا البلاغ