مواد پر جائیں

باب ۵ از ۶صفحات ۵۵–۶۹

علماے سو

علماے سویا علماے دنیا وہ ہیں جو سنیت سے خارج ہیں۔ اسی طرح وہ علما بھی ہیں جو عقائد حقہ کے بھی حامل سہی، مگر تحصیل علم سے مقصود رضاے الٰہی یا آخرت نہ ہو بلکہ دنیا ہو۔ نیت چوں کہ پوشیدہ امر ہے۔ جس طرح علماے آخرت کو پہچاننے کی علامات علما نے بیان فرمائیں اسی طرح انھیں بھی پہچاننے کی علامتیں ہیں اور ان کی علامتیں یہ ہیں کہ عالم آخرت ہونے کی جو علامتیں اور نشانیاں جو آپ نے پڑھی ہیں وہ نہ پائی جائیں۔ ان میں چند طرح کے لوگ ہیں؛ ایک وہ ہیں جو بد عمل ہیں، فرائض و واجبات تک کے تارک ہیں۔ علماے کرام نے ایسے علما کی مذمت میں بلعم بن باعور کے تعلق سے نازل شدہ آیات کو بھی ذکر کیا ہے، ارشاد خداوندی ہے:

وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَأَ الَّذِیَ آتَیْنَاہُ آیَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْہَا فَأَتْبَعَہُ الشَّیْطَانُ فَکَانَ مِنَ الْغَاوِیْنَ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاہُ بِہَا وَلَکِنَّہُ أَخْلَدَ إِلَی الأَرْضِ وَاتَّبَعَ ھَوَاہُ فَمَثَلُہُ کَمَثَلِ الْکَلْبِ إِن

تَحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْہَث اَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَث۔؂

ترجمہ: ان پر بیان کرو اس کی خبر جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگاتو وہ گمراہوں میں ہو گیااور اگر ہم چاہتے تو اٹھا لیتے، مگر وہ زمین پکڑ گیااور اپنی خواہش کا تابع ہوا۔ تو اس کی مثل کتے کی طرح ہے اگر اس پر حملہ کرو تو زبان نکالے اور چھوڑ دو تو زبان نکالے۔

بلعم بن باعور اتنا بڑا عالم تھا کہ طلبہ دین کے لیے بارہ ہزار دواتیں اور قلم سبھی باتیں لکھنے کے لیے رہتی تھیں اور بینائی دل کا عالم یہ تھا کہ جب نظر کرتاتھا تو عرش دیکھ لیتا تھا۔ علماے کرام فرماتے ہیں اس کی مذمت کی وجہ خواہش نفس کی پیروی اور تعلیم و تدریس وغیرہ میں بدنیتی تھی اس لیے کہ اس کا یہ کام اللہ تعالیٰ اور آخرت کے لیے نہ تھا۔ علماے سو کے تعلق سے متعدد احادیث کریمہ محدثین نے بیان فرمائیں جو ان کے اعمال و اوصاف کی نشان دہی کرتی ہیں۔ مثلاً علم کا مقصد رضاے الٰہی نہیں، بلکہ دنیا کی تحصیل ہے۔ دوم: ریاکاری۔ سوم: دوسروں کو نیک اور اچھی باتیں بتائیں گے ااور خود ان پر عمل نہیں کریں گے۔ اسی طرح دوسروں کو برائیوں سے روکیں گے اور فتویٰ دیں گے کہ یہ ممنوع ہے، یہ حرام ہے، اس کا ارتکاب نہ کرو، مگر خود ایسے امور کا ارتکاب کریں گے۔ چہارم: ان سے فتنے پھیلیں گے ، اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ پنجم: علم دین کو دنیا کے لیے خرچ کریں گے۔ ششم: علماے حق سے جدال کریں گے اور ان سے جھگڑے اور مناظرے کریں گے۔ ہفتم: جاہلوں سے مقابلہ کریں گے۔ ہشتم: لوگوں کو علم کے ذریعہ اپنی طرف مائل کریں گے۔ چند احادیث عرض ہیں:

۱۔ من تعلم علما لغیر اللہ أو أراد بہ غیر اللہ فلیتبوأ مقعدہ من النار؂

ترجمہ: جس نے غیر اللہ کے لیے علم سیکھا یا اس سے غیر اللہ کا ارادہ کیا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔‘‘

.................

۔ 1سورۃ الاعراف:۷؍۱۷۵، ۱۷۶

۔ 2سنن الترمذی، أبواب العلم، باب ماجاء فی من یطلب بعلمہ الدنیا، عن ابن عمر رضی اللہ عنہ: ۲۶۵۵

۷۔ وعن علی، قال، قال رسول اللہﷺ: یوشک أن یأتی علی الناس زمان لا یبقی من الإسلام إلا إسمہ ولا یبقی من القرآن إلا رسمہ مساجدھم عامرۃ و ھی خراب من الھدی علماؤھم شرھم من تحت أدیم السماء من عندھم تخرج الفتنۃ و فیھم تعود؂

ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام کا صر ف نام رہ جائے گااور قرآن کی صرف رسم رہ جائے گی، ان کی مسجدیں بظاہر آباد ہوں گی اور وہ ہدایت سے خالی ہوں گی، ان کے علما ان لوگوں میں سب سے بدتر ہوں گے جو آسمان کے نیچے ہوں گے انھی علما سے فتنے نکلیں گے اور انھی میں لوٹیں گے۔

۸۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ علمااگر علم کی حفاظت کرتے (خود کو ذلت اور ظالموں کی ملازمت سے بچاتے اور اہل دنیا کی مصاحبت جو کہ ان کے جاہ ومال کی طمع کی وجہ سے ہے، بچاتے اور باہمی حسد سے محفوظ رہتے) اور اسے اہل کے پاس رکھتے تو وہ اس کی وجہ سے اپنے اہل زمانہ کے سردار ہو جاتے، لیکن انھوں نے علم کو اہل دنیاکے لیے خرچ کیاتاکہ ان کی دنیا علم کے ذریعہ حاصل کریں تو یہ ان پر ہلکے ہو گئے۔ تمھارے نبیﷺ کو میں نے فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے ساری فکروں کو ایک فکر آخرت بنا لیا ، اسے اللہ تعالیٰ دنیا کی فکر سے کافی ہوگااور جس کی فکروں کو دنیا کے احوال نے پراگندہ کر لیا، اللہ تعالیٰ کو پرواہ نہیں کہ وہ دنیا کی کس وادی میں ہلاک ہو جائے۔؂

۹۔ حضرت زیاد ابن جدیر نے فرمایا کہ مجھ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ اسلام کو کیا چیز ڈھائے گی؟ کہا: نہیں، فرمایا کہ عالم کی لغزش اور کتاب

..................

۔1 رواہ البیہقی فی شعب الایمان: ۳؍۳۱۷

۔ 2مشکوٰۃ المصابیح، کتاب العلم،ص:۳۷، مجلس برکات، جامعہ اشرفیہ، مبارک پور، ہند، و رواہ ابن ماجہ و بیہقی

۔ نیز داناے غیوب ﷺ فرماتے ہیں:

: مَنْ تَعَلَّمَ عِلْماً مِمَّا یَبْتَغِیْ بِہِ وَجْہَ اللہِ عز و جل لا یتعلمہ إلالیصیب بہ عرضا من الدنیا، لم یجد عرف الجنۃ یوم القیامۃ؂

ترجمہ: جس نے وہ علم سیکھا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کی۔ یہ اسے نہیں حاصل کرتا ہے مگر اس لیے تاکہ اس کے ذریعہ دنیا کا سامان حاصل کرے، قیامت کے دن جنت کی خوشبو نہیں پائے گا۔‘‘

۳۔ من طلب العلم لیجاری بہ العلماء أو لیماری بہ السفھاء أو یصرف بہ وجوہ الناس الیہ أدخلہ اللہ النار؂

ترجمہ: جس نے اس لیے علم طلب کیا کہ وہ علما سے مناظرہ اور جھگڑا کرے، بیوقوفوں سے مقابلہ کرے یا علم کے ذریعہ لوگوں کے چہرے اپنی طرف پھیرے، اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں داخل کرے گا۔‘‘

علما سے مناظرے اور جھگڑے کا مقصد ریا و سمعہ کے طور پر لوگوں پر اپنے علم کا اظہار ہو اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کا مقصد یہ ہو کہ ہمیں ان سے مال و جاہ حاصل ہو۔ اس سے اہل حق کے وہ مناظرے خارج ہیں جو براے احقاق حق و ابطال باطل، اہل باطل کے ساتھ ہوتے ہیں۔

۴۔ عن ابن عباس قال، قال رسول اللہﷺ: إن أناسا من أمتی سیتفقھون فی الدین و یقرؤن القرآن، یقولون نأتی الأمراء فنصیب من دنیاھم و نعتزلھم بدیننا ولا یکون ذٰلک کما لا یجتنی من القتاد إلا الشوک کذٰلک لا یجتنی من قربھم إلا قال محمد بن

۔ 1سنن أبوداؤد، کتاب العلم، باب فی طلب العلم لغیر اللہ، باسناد صحیح عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ: ۳۶۶۴

۔ 2سنن الترمذی، ابواب العلم، باب ماجاء فی من یطلب بعلمہ الدنیا، عن کعب ابن مالک: ۲۶۵۴

الصباح کأنہ یعنی الخطایا؂

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ عن قریب فقاہت حاصل کریں گے اور قرآن پڑھیں گے، کہیں گے کہ ہم امیروں کے پاس آتے ہیں تاکہ ہم ان کی دنیا سے حاصل کریں اور ہم اپنے دین کے اعتبار سے ان سے دور رہیں اور ایسا نہیں ہو سکتا ہے (یعنی ان کا دین محفوظ نہیں رہ سکتا ہے) جیسا کہ کانٹے دار درخت سے صرف کانٹے ہی لیے جا سکتے ہیں اسی طرح ان کے قرب سے نہیں حاصل ہو سکتی ہے مگر خطائیں۔

۵۔ عن الاحوص بن حکیم عن أبیہ قال: سأل رجل النبیﷺ عن الشر فقال: لا تسألونی عن الشر وسلونی عن الخیر یقولھا ثلثا، ثم قال: الا ان شر الشر شرار العلماء و خیرالخیر خیار العلماء؂

ترجمہ: حضرت احوص بن حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبیﷺ سے شر کے بارے میں پوچھا، آپﷺ نے فرمایا:ہم سے شر کے بارے میں نہ پوچھو، خیر کے بارے میں پوچھو، اسے تین بار فرمایا، پھر فرمایا: سب سے بڑی شر بدترین علما ہیں اور سب سے بڑی خیر بہترین علما ہیں۔

۶۔ عن الحسن، قال: العلم علمان فعلم فی القلب فذٰلک العلم النافع و علم علی اللسان فذٰلک حجۃ اللہ عن رجل علی ابن آدم؂

ترجمہ: حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا: علم دو قسم کے ہیں ایک علم دل میں یہ علم نافع ہے، اور ایک علم زبان پر یہ اللہ تعالیٰ کی ابن آدم پر دلیل ہے۔

۔1 سنن ابن ماجہ، افتتاح الکتاب فی الایمان۔۔۔، باب الانتفاع بالعلم والعمل بہ، عن ابن عباس: ۲۵۵

۔ 2سنن الدارمی، المقدمۃ، باب التوبیخ لمن یطلب العلم لغیر اللہ، عن الاحوص بن حکیم عن أبیہ: ۳۸۲

۔ 2سنن الدارمی، المقدمۃ، باب التوبیخ لمن یطلب العلم لغیر اللہ، عن الحسن: ۳۷۶

اللہ میں منافق کا جھگڑا اور گمراہ پیشواؤں کا حکم اسلام کو ڈھا دے گا۔؂

۱۰۔ حضرت ابو دردا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک بروز قیامت بدترین لوگوں میں سے وہ ہے جو اپنے علم سے فائدہ نہ اٹھائے۔ ؂

۱۱۔ حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے کچھ ہولناک چیز ذکر کی اور فرمایاکہ یہ اس وقت ہوگا جب علم چلا جائے گا۔ میں نے عرض کیا، یارسول اللہﷺ! علم کیسے چلا جائے گا جب کہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو پڑھائیں گے، قیامت تک۔ فرمایا: تمھاری ماں تمھیں روئے، اے زیاد! ہم تم کو مدینے کے سمجھدار لوگوں میں سے جانتے تھے، کیا یہود و نصاریٰ تورات و انجیل نہیں پڑھتے ہیں، لیکن جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل نہیں کرتے ہیں۔ (احمد و ابن ماجہ و ترمذی وغیرہ) ؂

۱۲۔ حدیث میں ہے کہ بروز قیامت ایک مرد کو لایا جائے گااور جہنم میں ڈال دیا جائے گا ، اس کی آنتیں نکل جائیں گی، وہ آگ کے گرد اس طرح گھومے گا جس طرح گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے اور آنتوں کو ایسا روندا جائے گا جیسے کٹی ہوئی کھیتی کو روندا جاتا ہے۔ دوزخی آئیں گے اور اس سے پوچھیں گے کہ تم کو کیا ہوا ( کہ تم دوزخ میں ہو) کیا تم ہمیں نیک باتوں کا حکم نہیں دیتے تھے اور برائی سے منع نہیں کرتے تھے؟ وہ کہے گا کہ ہاں (دیا کرتا تھا) اے میری قوم! (لیکن معاملہ یہ ہے کہ) میں تم کو نیکی کا حکم دیتا تھا اور برائی سے منع کرتا تھا، لیکن میں علم مکرم پر عمل نہیں کرتا تھا۔ پس تم کو نیکی کا حکم دیتا اور میں خود نہیں کرتا اور میں تم کو برائی سے منع کر

...................

۔ 1سنن الدارمی، المقدمۃ، باب کراھیۃ اخذ الرأی، عن زیاد بن جدیر: ۲۲۰

۔ 2 ابن عدی فی الکامل۶؍۲۶۹، عن ابی ہریرہ

۔3 ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب ذھاب القرآن و العلم، ص:۲۹۳

کرتا اور خود برائی کرتا۔ (ماخوذ از بخاری و مسلم) ؂

فائدہ: اہل علم پر دو چیزیں لازم ہیں ایک خود برائی کو چھوڑنا۔ دوم، کوئی برا کام کر رہا ہے تو اسے منع کرنا اور اس کا انکار، ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے ترک کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتا ہے اسی لیے حدیث شریف میں ہے، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا، یارسول اللہﷺ ہم نیکی کا حکم نہ دیں جب تک ہم خود نہ کریں اور برائی سے نہ روکیں جب تک ہم خود نہ بچیں؟ فرمایا کہ نیکی کا حکم دو اگرچہ تم نہ کرو اور برائی سے منع کرو اگرچہ تم خود نہ کرو۔؂

۱۳۔ حدیث شریف میں ہے کہ معراج کی شب حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے کچھ ایسے لوگوں کو دیکھاجن کے ہونٹ قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، حضرت جبریل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں جنھیں یہ عذاب دیا جا رہاہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ کی امت کے وہ علما ہیں جو دوسروں کو نیک باتیں بتاتے تھے اور خود عمل نہیں کرتے تھے۔

معلوم ہو کہ حدیث نمبر ۹ میں آپ نے پڑھا کہ اسلام کو ڈھانے والی تین چیزیں ہیں؛ عالم کی لغزش، منافق کا جدال اور گمراہ پیشواؤں کا حکم۔ آج آپ غائر نظر سے دیکھیں تو معلوم ہو جائے گا کہ اسلام وایمان کو سب سے زیادہ نقصان انھیں چیزوں سے ہوا۔ سب کتاب و سنت سے استدلال کرتے ہیں اور سب خود کو حق پر بتاتے ہیں اور عوام و خواص کو اپنے اپنے مزعومات کا پابند بتاتے ہیں۔ اگر حضورﷺ اور ان کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور ان کے بعد صالح تابعین و ائمہ مجتہدین کی تعلیمات و ہدایات کی روشنی میں عقائد و افکار اور اعمال و اخلاق کا تعین کیا ہوتااور ان کی روش پر چلتے تو یہ فتنے وجود میں نہ آتے جو آئے، ان سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں کروڑوں مسلمان ایمان سے محروم ہو گئے اور مختلف فرقوں اور پارٹیوں

...................

۔ 1 صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب فتنۃ التی تموج کموج البحر، صحیح مسلم، کتاب الزہد و الرقائق، باب عقوبۃ من ۔۔۔

۔ 2 المعجم الاوسط للطبرانی، باب المیم، من اسمہ محمد

میں بٹ گئے اور بارگاہ حق کے مقربین کی شان میں گستاخیاں کرنے لگے۔ عوام الناس دلیر ہو گئے، علما کی توہین و تحقیر کرنے لگے اور سب قرآن و حدیث کو خود بلاواسطہ پڑھ کر خود کو صالح علما سمجھنے لگے، ترجمے پڑھ پڑھ کر مطالب بیان کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی راہ سے کہیں دور جا پڑے۔ اب کوئی یہ کہے کہ قرآن و سنت سے انسان کس طرح بھٹک سکتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے۔

قرآن پاک سے گمراہ ہونے کے اسباب:

قرآن اگرچہ تبیاناً لکل شیئ ہے یعنی ہر شئ کا روشن بیان، مگر اس کےباوجود خود قرآن فرماتا ہے کہ وہ ذریعہ ہدایت بھی ہے اور سبب ضلالت بھی۔ ذریعہ ہدایت ہونا تو واضح ہے کہ وہ کلام الٰہی ہے، اس سے بڑھ کر خدا کی طرف رہ نمائی کرنے والا کون ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت قدیم ہے، لیکن سبب ضلالت ہونا ضرور فکر کی دعوت دیتا ہے؛ اس کا سبب ضلالت ہو نا کیوں ہے؟ اس کے وجوہ کیا ہیں؟ اس کو علماے اعلام ہی زیادہ سمجھ سکتے ہیں۔ حقیر عفی عنہ کی نظر میں چند وجوہ ہیں:

الف۔ اصل مشیت ایزدی وہ ہادی بھی ہے اور ضال بھی۔ یہ عالم اس کی صفات کا مظہر ہے۔ یہاں ان سب ہی صفات کا ظہور ہونا تھا، جوہوا کچھ ہدایت یافتہ ہوئے، کچھ گمراہ اور کافر۔ وہ قادر مطلق ہے جس چیز کو چاہے ذریعہ ہدایت بنا دے، جسے چاہے سبب کفر و ضلالت اور جسے چاہے بلا سبب چن لے۔

ب۔ قرآن کا نزول کچھ اس طور پر واقع ہواکہ اس میں آیات محکمات بھی ہیں اور آیات متشابہات بھی۔ قرآن خود فرماتا ہے کہ جن کے دلوں میں کچھ زیغ ہے وہ متشابہات کی پیروی کرتے ہیں۔ پس ایک سبب یہ آیات ہوئیں۔ اسی طرح قرآن میں کچھ آیات ایسی ہیں جن میں بظاہر تعارض نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر ان میں وہ آیات بھی ہیں جو علم غیب کی نفی کرتی ہیں اور کچھ ایسی ہیں جو انبیا و مرسلین کے لیے علم غیب کا اثبات کرتی ہیں۔ جن کے دلوں میں کجی

تھی انھوں نے صرف آیات نفی کو دیکھااور انھی کو سند بناکر ان مقرب بندوں سے علم غیب کی نفی کردی اور گمراہ ہو گئے۔ اسی طرح قرآن و سنت میں سرکارﷺ کے نور ہونے کا بھی بیان ہے اور بشریت کا بھی جن کی بنیاد پر اہل زیغ نے ان کو اپنے جیسا بشر کہہ دیا۔ اس سے عقائد میں زیغ اور کجی پیدا ہوئی۔

اسی طرح قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مقرب بندوں کی مدحت و تعریف فرمائی۔ کہیں ان کے فضائل حمیدہ بیان فرما کر، کہیں ان کی دینی خدمات بیان فرماکر، کہیں اپنی نوازشات ذکر کرکے، کہیں بعض باتوں کی بنیاد پر عتاب بھی ہوا۔ جن کے دلوں میں کجی تھی انھوں نےانھی آیات عتاب پر نظر محصور رکھی۔ نیز قرآن و سنت کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات نے کچھ کلمات تواضع و انکساری اور اظہار عبدیت و بندگی کے طور پر فرمائے، ناسمجھوں اور گمراہوں نے اسے غلط روپ دیا اور یہ چیز بے ادبی و گمرہی کا سبب بن گئی۔

ج۔ شیطان اور شرارت نفس کی وجہ سے بعض نے کچھ اپنے مزعومات و خواہش نفس کے مطابق مقرر کر لیے جو سراسرحق کے خلاف ہے اور پھر اپنے انھی مزعومات و خواہشات نفسانی کے مطابق آیات میں تاویلات کیں اور انھیں اپنے مزعومات کے سانچے میں ڈھالا۔

د۔ قرآن میں بعض حقائق جس طریقے پر بیان ہوئے انھیں سمجھنا سب کے بس کی بات نہیں۔ کم علم، کم سمجھ یا ناسمجھ ان حقائق کی تہ تک نہیں پہنچ پاتے جس کی وجہ سے وہ بھٹک گئے۔ یہ تو وہ اسباب ہیں جن کا تعلق اکثر قرآن و سنت سے ہے۔

ہ۔ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے خواہ انبیا علیہم الصلوات و التسلیم ہوں یا اولیاے کرام علیہم الرضوان، لباس بشری میں دنیا میں جلوہ گر ہوئےاور بشر کی ہدایت کے لیے۔ افادہ و استفادہ اور افاضہ و استفاضہ کےلیے یہ ضروری ہے کہ مفید و مستفید اور مفیض و مستفیض میں کامل مناسبت رہے۔ ان حکمتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے اہل شقاوت نے صرف ان کے لباس بشری اور

قباے بشریت کو دیکھا۔ اپنی طرح انھیں اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، سوتے جاگتے، مسکراتے، شادیاں کرتے تصور کیا۔ یہ چیز ان کی عظمتوں سے انکار کا سبب بن گئی اور جس کے سبب بے ادبیوں اور گستاخیوں کے دروازے کھلےجنھوں نے انھیں کفر تک پہنچا دیا۔

و۔ حب مفرط عموماً انسان کو غلو تک پہنچا دیتی ہے۔ اکثر اس کے شکار لوگ اکثر جن سے عقیدتیں جڑی ہوتی ہیں، ان کی منزل سے کہیں آگے بڑھا دیتی ہیں اور کبھی تو کفر کی حد تک پہنچا دیتی ہیں۔ اس کا نتیجہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ انھیں ان سے بھی افضل مان بیٹھتے ہیں جس کی افضلیت یقینی ہوتی ہے۔ اسی طرح وہ مقرب شخصیات کی توہین و تنقیص تک پہنچ جاتے ہیں اور اپنی محبوب شخصیات میں کبھی وہ خدائی تک اوصاف مان لیتے ہیں۔ غرضیکہ کچھ گمراہ، شخصیات کو ان کی منزل سے نیچے لے آئے جیسے وہابیہ، اور کچھ عقیدت و محبت میں غلو کی وجہ سے بہت اوپر لے گئے جیسے شیعہ وغیرہ۔

ز۔ عقل ناقص پر اعتماد بھی اکثر اہل علم کی ضلالت کا سبب بن جاتا ہے جیساکہ فلاسفہ کے احوال سے واضح ہے جنھوں نے محض اپنی عقول ناقصہ کی وجہ سےبہت سے کفریات کا ارتکاب کیا اور بہتوں کو کافر بنا دیا۔ اسی طرح معتزلہ نے کیا، ان کی عقول ناقصہ نے جو سمجھایا اس کے مطابق انھوں نے آیات و احادیث میں تاویلیں کیں اور ظاہر نصوص کا انکار کیا۔

ح۔ کفر و ارتداد کا ایک بہت بڑا سبب یہ بھی ہوا کہ قرآن پاک میں نازل شدہ آیات جن کا تعلق بتوں اور معبودان باطل سے تھاان کو اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں پر ڈھال دیا اور جو ان بتوں کے اوصاف لاچاری و مجبوری، عدم نفع و ضرر، فریاد کو نہ پہنچنا اور کسی کی کوئی بات نہ سن پانا وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح ان کے بعد وصال حال کو عام مردوں پر قیاس کر لیا، اس نے ضلالت کے بہت دروازے کھولے، گمراہ عالموں کے شاطر دماغوں نے اس کے زریعہ خوب اغوا کا کام کیا اور اس طرح کی آیات دکھا دکھا کر عوام کو گمراہ کیا۔ مذہب وہابیت میں چند باتیں بہت پائیں گے: ایک تو یہی جو ابھی گزری۔ دوسرے شرک خفی کو شرک جلی کا روپ دے کرایمان والوں کو خوب

مشرک بنایا، بلکہ بعض مباحات جنھیں وہ پسند نہیں کرتے تھے انھیں بھی شرک و بدعت کے دائرے میں لا کھڑا کر دیا۔ تیسرے بعض شرعی الفاظ کے معانی و مفاہیم غلط متعین کرکے ان سے نتائج بد نکالے جیسے توحید وغیرہ۔ چوتھے عوام کو ذمہ دار علمااور مجتہدین سے بے تعلق کر دیا اور سب کو ان بزرگوں کے توسط کے بغیر قرآن و حدیث سمجھنے کی دعوت دی۔

ط۔ بعض نے قرآن و سنت کے صرف ظاہری الفاظ دیکھا، نہ ان کا شان نزول دیکھا، نہ یہ کہ وہ کس محل کے لیے ہیں نہ یہ دیکھا کہ ان میں تاویل ضروری ہے۔ غرضیکہ یہ چند اسباب ہیں جن سے لوگ گمراہ ہوئے اور سب میں مجموعی طور پر آپ دیکھیں گے کہ ہواے نفس کی پیروی ہے اور قرآن و سنت سے یہ غلط مفاہیم و معانی اخذ کرکے گمراہ ہونے والے علما ہی تھے جو قوم میں کچھ نہ کچھ گرفت رکھتے تھے، سادہ لوح عوام ان پر عالم ہونے کی وجہ سے اعتماد کرتے تھے۔ لہٰذا ان علما نے اس سے فائدہ اٹھا کر لوگوں کو گمراہ کیا۔

حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے دور میں جو حالات پیدا ہوئے اور اکبر بادشاہ جو کہ آغاز میں باقاعدہ شریعت کا پابنداور صبح کو مراقبانہ حالت میں اکتساب فیض کے لیے بیٹھا کرتا تھا۔ بعد میں جو اس میں تبدیلی آئی وہ دنیا کے کسی بادشاہ میں نہیں آئی اور رفتہ رفتہ دین الٰہی کے ایجاد تک پہنچ گیا۔ یہ سب علماے سو کی وجہ سے ہوا جیساکہ ملا عبد القادر بدایونی رحمہ اللہ تعالیٰ وغیرہ نے بڑی تفصیل سے تحریر کیا اور تذکرہ مجدد الف ثانی وغیرہ میں بڑی اچھی ترتیب سے بیان کیا گیا۔ اس کو تفصیل سے پڑھنے کے بعد ہر انسان بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ علماے سو کا فساد کہاں سے کہاں تک، ایک حاکم سے لے کر رعایا اور خواص سے لے کر عوام تک جا سکتا ہے اور اسلام و مسلمانوں کاایمانی اور دینی و دنیوی کیا نقصان و خسارہ ہو سکتا ہے۔

اسی طرح حضرت مجدد قدس سرہ کی صحبت بابرکت سے پھر جو اکبری سلطنت کے ارکان اور اکبر کے بعد جہاں گیر میں تبدیلی شروع ہوئی اور جہاں گیر سے شاہ جہاں اور اسی سے پھر حضرت اورنگ زیب جیسے صالح بادشاہ تک پہنچی۔ اس سے صالح علماے آخرت کی صلاح کا اندازہ

لگایا جا سکتا ہے۔ ان دونوں کو پڑھنے کے بعد اس قول کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ صلاح عالِم صلاح عالَم ہے اور فساد عالِم فساد عالَم ہے۔ علماے سو جو افساد کا کام کرتے ہیں ان کا فساد بہت متعدی ہے اور وہ کبھی پوری دنیا میں پھیل جاتا ہے۔ اس کی ایک اور واضح مثال ابن تیمیہ ہے جو آغاز میں بہت اچھا تھا اور جب بگڑا، اس کے غرور اورنفس امارہ نے فساد پر آمادہ کیاتو اس قدر فساد پھیلایا کہ آج ساری نجدیت و وہابیت ابن تیمیہ کے فساد کا نتیجہ ہے اور پوری دنیا میں اس کا فساد پھیل گیا اور آج سعودی کے جو حالات ہو گئے ہیں اہل حق خون کے آنسو روتے ہیں۔

حضرت مجدد قدس سرہ کے مکتوبات میں متعدد مکتوبات ایسے ہیں جن میں علماے سو کی مذمتیں اور ان کے دنیوی و اخروی نقصانات اور ان کے ذریعہ دینی و ملی نقصانات بیان فرمائے ہیں۔ چند ارشادات سپرد قلم ہیں:

۱۔ آپ قدس سرہ فرماتے ہیں: علما کے لیے دنیا کی محبت اور دنیا کی طرف رغبت ان کے رخ جمال پر بدنما داغ ہے اگرچہ ان سے مخلوقات کے لیے فوائد حاصل ہوں، لیکن ان کا علم خود ان کے لیے نفع بخش نہیں اگرچہ شریعت کی تائید اور ملت کی تقویت حاصل ہو، لیکن اس کا کوئی اعتبار نہیں؛ کیوں کہ تائید و تقویت تو کبھی اہل فجور سے بھی حاصل ہو جاتی ہے (نیز یوں تو دنیا داروں سے بھی مالی اعانت وغیرہ میسر آجاتی ہے) حضور سید عالمﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید فاجر مرد کے ذریعہ بھی کر دیتا ہے۔ إن اللہ یؤید ھذا الدین بالرجل الفاجر۔

اس طرح کے بد عمل علما، دنیا کی محبت و رغبت کے اسیروں کی مثال پارس پتھر کی طرح ہے کہ یہ اس سے املس اور لوہا چھوتا ہے اور اس سے لگ جاتا ہے تووہ سونا ہو جاتا ہے، حالاں کہ وہ (فارس) پتھر ہی رہتا ہے۔ نیز ان کی مثل اس آگ کی طرح ہے جو پتھر اور درخت میں چھپی ہوتی ہے، اس سے عالَم کو منافع حاصل ہوتے ہیں مگر پتھر اور درخت کو کچھ نہیں۔

لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ علم ان کے حق میں مضر ہے اس لیے کہ اس کی وجہ سے ان پراللہ

تعالی کی حجت تمام ہوتی ہے جیساکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ بروز قیامت سب سے سخت لوگوں میں وہ عالم ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے علم سے نفع نہیں دیا۔ لہٰذا اس کے حق میں نقصان دہ کیسے نہیں ہوگا جب کہ وہ علم جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساری اشیا میں عزیز تر اور اشرف موجودات ہے اس کوان علما نے متاع دنیا یعنی مال و جاہ وغیرہ کے جمع کا سبب بنا لیاجب کہ دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ذلیل و حقیر اور مخلوقات میں سب سے مبغوض تر ہے۔ ظاہر ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے یہاں عزیزتر ہے اسے ذلیل کرنا اور جو اس کے یہاں ذلیل ہے اسے عزت دینا نہایت قبیح ہے، بلکہ حق و حقیقت کے ساتھ مقابلہ ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ تدریس و افتا اس وقت (آخرت میں) نفع بخش ہیں جب کہ صرف رضاے الٰہی کے لیے ہوں اور حب جاہ، ریاست کے شائبہ ، حصول مال اور رفعت و بلندی کی طمع سے خالی ہوں اور اس کی علامت دنیا سے بے رغبتی اور زہدہے۔ پس وہ علما جو اس بلا میں مبتلا اور محبت دنیا کے اسیر ہیں علماے دنیا سے ہیں اور وہی علماے سو ہیں اور لوگوں میں بدترین اور دین کے چور ہیں۔ حالاں کہ وہ خود کو دین کا پیشوا اور ساری مخلوق سے خود کو افضل تصور کرتے ہیں اور ان کے گمان میں ہے کہ ہماری حیثیت ہے ۔ ارشاد خداوندی ہے:

اسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطَانُ فَأَنسَاھُمْ ذِکْرَ اللَّہِ أُوْلٰئِکَ حِزْبُ الشَّیْطَانِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّیْطَانِ ھُمُ الْخَاسِرُون؂

ترجمہ: ان پر شیطان غالب آگیا تو انھیں اللہ کی یاد بُھلا دی وہ شیطان کے گروہ ہیں سنتا ہے بیشک شیطان ہی کا گروہ ہار میں ہے۔

اکابر سے ایک شخص نے شیطان کو دیکھا کہ اغوا و اضلال سے فارغ بیٹھا ہو اہے۔ اس کا راز پوچھا تو وہ لعین بولااس وقت کے علماے سو نے میرے معاملے میں میری بڑی مدد کی ہے اور اضلال اور گمراہ کرنے کاکام انھوں نے اپنے ذمہ لے لیا ہے اور مجھے فارغ البال کر دیا ہے۔

......................

۔ سورۃ المجادلۃ: ۵۸؍۱۹

سچائی یہ ہے کہ یہ ضعف اور کمزوری جو اس زمانے میں شریعت کے امور میں واقع ہوئی اور یہ فتور جو ملت کی ترویج اور دین کی تقویت میں ظاہر ہوئی علماے سو کی نحوست اور ان کی نیتوں کے فساد سے ہے۔ ہاں جو علما دنیا سے بے رغبت ہیں اور جاہ و ریاست کی محبت اور مال و رفعت کی طمع سے آزاد ہیں تو وہ علماے آخرت سے ہیں اور انبیا علیہم الصلوٰۃ و التسلیمات کے وارث اور افضل الخلائق ہیں۔ یہ وہی ہیں جن کے (قلموں کی) سیاہی بروز قیامت شہدا کے خون سے تولی جائے اور وہی غالب آجائے گی اور عالم کی نیند کا عبادت ہونا ان کے حق میں ثابت ہے۔ یہ وہ علما ہیں جن کی نظر میں آخرت کا جمال اور اس کی تازگی مستحسن ہوئی اور دنیا کی قباحت و شناعت ظاہر ہو گئی۔ انھوں نے آخرت کو نظر بقا سے دیکھا اور دنیا کو داغ زوال و فنا سے داغ دار دیکھا۔ پس لامحالہ وہ فانی سے بھاگے اور باقی پر متوجہ ہوئے۔

اور عظمت آخرت کا شہود جمال لایزالی کے شہود کا ثمرہ اور پھل ہے اور دنیا کو ذلیل کرنا اور جو کچھ اس میں ہے اس کو حقیر جانناشہود عظمت آخرت کے لوازم سے ہے؛ کیوں کہ دنیا اور آخرت کی مثل دو سوکنوں کی طرح ہے اگر ایک راضی ، دوسری ناراض۔ پس اگر دنیا عزیز ہوگی تو آخرت حقیر ہوگی اور اگر دنیا حقیر ہوگی تو آخرت عزیز ہوگی۔ ان دونوں کا جمع کرنا جمع اضداد کے قبیل سے ہے۔ ہاں کچھ ان مشائخ نے حقانی نیتوں سے صورت دنیا کو اختیار کیا جو اپنے نفوس کی قید سے اور طبیعتوں کے تقاضوں سے پورے طور پر آزاد ہو چکے اور چھٹکارا پاچکے تھے۔ ان کو بظاہر دنیا کی طرف راغب پاؤگے، لیکن حقیقت میں ان کا دنیا سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ سب سے فارغ اور سب سے چھٹکارا پاچکے :

رِجَالٌ لَّا تُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَلَا بَیْعٌ عَن ذِکْرِ اللّٰہِ؂

وہ ایسے لوگ ہیں جن کوذکر الٰہی سے نہ سودا غافل کرتا ہے نہ خرید و فروخت۔‘‘

پس ان کو خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے منع نہیں کرتی ہے۔ پس وہ عین اس تعلق میں

................

۔سورۃ النور: ۲۴؍۳۷

بھی ہر مستی سے بے تعلق ہیں۔

حضرت خواجہ سید بہاء الدین نقش بند قدس سرہ فرماتے ہیں کہ میں نے بازار میں ایک تاجر دیکھاجس نے تقریباً پچاس ہزار دینار کی مقدار میں تجارت کی اور اس کا دل ایک لحظہ بھی حق سبحانہ سے غافل نہ ہوا’’ (مکتوب: ۳۳ دفتر اول)

حضرت مجدد قدس سرہ نے متعدد، مکتوبات میں علماے دنیا کی مذمتیں اور علماے آخرت کے لیے بہت عظیم فضائل و مناقب بیان فرمائے ہیں۔