باب ۳ از ۶صفحات ۳۱–۴۳
دوسری علامت
جو علامتیں عالم آخرت کو عالم سو سے ممتاز اور جدا کرتی ہیں ان میں دوسری علامت یہ ہے کہ مسائل و احکام شرعیہ کے عوض دنیا طلب نہ کرے۔ اس عمل خیر کے عوض دنیا طلب نہ کرنے کی کچھ نشانیاں اور دلائل ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
الف۔ اس کے دل میں دنیا حقیر و ذلیل ہو اور یقین رکھے کہ اس میں گندگی و کدورت ہے اور یہ فنا ہونے والی ہے۔
ب۔ دل میں عظمت آخرت ہو کہ وہ باقی رہنے والی چیز ہے، اس کی نعمتیں دائمی اور ابدی ہیں اور یہی قابل اختیار ہے۔
ج۔ یہ بھی علم میں رہے کہ دنیا و آخرت دونوں ایک دوسرے کی متضاد و مخالف ہیں، ان کی مثال دو سوکنوں کی طرح ہے، اگر ایک راضی تو دوسری ناراض، یا ترازو کے دو پلڑوں کی طرح ہے،
د۔ جس چیز کی وہ دوسروں کو تعلیم دے رہاہے پہلے خود اس پر عمل کرے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالَاتَفْعَلُوْنَ
کیوں وہ کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔’’
نیز آگے فرمایا:
کَبُرَ مَقْتاً عِنْدَ اللہِ أَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ
اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑے غضب کی چیز یہ ہے کہ وہ کہو جو کرتے نہیں ہو۔’’
اسی طرح جس گناہ سے دوسروں کو منع کرتا ہے پہلے خود کو اس سے بچائے۔ نیز حضرت شعیب علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قصے میں فرمایا:
وَمَا أُرِیْدُ أَنْ أُخَالِفَکُمْ إِلَی مَا أَنْہَاکُمْ عَنْہ
میں نہیں ارادہ کرتا کہ تمھاری مخالفت کروں ان میں جن سے تمھیں منع کرتا ہوں۔’’
تیسری علامت
عالم آخرت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ علوم نافعہ کی تحصیل میں وہ پوری رغبت رکھتا ہو، دنیا سے پرہیز کرتا ہو اور قیل و قال سے بچتا ہو۔حضرت امام محمد غزالی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ علم حاصل کرنے والوں کوحضرت حاتم اصم کی طرح ہونا چاہیے جو کہ حضرت شفیق بلخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے شاگرد تھے۔ حضرت شفیق نے فرمایا: تم نے میری کتنی صحبت اٹھائی؟ حضرت اصم نے کہا: تینتیس سال، فرمایا: اس مدت میں تم نے کیا علم حاصل کیا؟کہا: آٹھ مسائل ، فرمایا: إنا للہ و إنا الیہ راجعون، میری عمر تمھارے ساتھ بیت گئی اور تم نے صرف آٹھ مسائل سیکھے، بتاؤ وہ کون سے ہیں؟
....................
۔ 1سورۃ الصف: ۶۱؍۲
۔ 2سورۃ الصف: ۶۱؍۳
۔ 3سورہ ہود: ۱۱؍۸۸
حضرت حاتم نے کہا کہ میں نے اس مخلوق کو دیکھا کہ ہر ایک اپنے محبوب سے محبت کرتا ہے تو وہ اپنے محبوب کے ساتھ قبر میں داخل ہوگا۔ پس جب وہ قبر میں داخل ہو جائے گاتو اس کا محبوب جدا ہو جائے گا۔ لہٰذا میں نے حسنات اور نیکیوں کو اپنا دوست بنایا تاکہ جب میں قبر میں جاؤں تو میرا محبوب بھی میرے ساتھ قبر میں جائے۔ حضرت شفیق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا۔
دوسرا مسئلہ کیا ہے؟ انھوں نے عرض کی کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد:
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوَی فَإِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَأْوَی
یعنی جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرااور نفس کو بری خواہش سے روک لیا تو جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔‘‘
میں غور کیا تو مجھے معلوم ہو گیا کہ یہی حق ہے تو میں نے اپنے نفس سے جہاد کیا بری خواہشات کو دور کرنے میں یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طاعت پر ٹھہر گیا۔
تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے مخلوق کو دیکھاکہ ہر ایک کے پاس کوئی چیز قیمتی اور قدر والی ہے جسے وہ لیے ہوئے ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے۔ پھر میں نے رب کائنات جل و علا کے ارشاد:
مَا عِندَکُمْ یَنفَدُ وَمَا عِندَ اللّہِ بَاقٍ
یعنی جو تمھارے پاس ہے ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے باقی رہے گا۔‘‘
پس جب جب مجھے کوئی قابل قدر و قیمت چیز ملی میں نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف پھیر دیا تاکہ وہ اس کے پاس باقی رہے۔
چوتھا مسئلہ: میں نے مخلوق کو دیکھا کہ ان میں سے ہر ایک مال کی طرف ، حسب و شرف
....................
۔ 1سورۃ النازعات: ۷۹؍۴۰،۴۱
۔2 سورۃ النحل: ۱۶؍۹۶
اور نسب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ پس میں نے غور کیا تو دیکھا کہ وہ سب ‘لاشیئ’ ہیں۔ پھر میں نے مولیٰ عز و جل کے ارشاد:
إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقَاکُمْ
یعنی بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ مکرم وہ ہے جو سب سے بڑا متقی ہے۔’’
لہٰذا میں نے تقویٰ میں محنت کی تاکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں مکرم ہو جاؤں۔
پانچواں مسئلہ یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ وہ ایک دوسرے میں عیب نکالتے ہیں، طعن کرتے ہیں اور بعض بعض پر لعنت کرتے ہیں اور اس سب کی اصل حسد ہے۔ پھر میں نے رب عرش جل و علا کے ارشاد:
نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَہُم مَّعِیْشَتَہُمْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا
یعنی ہم نے دنیا کی زندگی میں ان کے درمیان معیشت بانٹ دی۔‘‘
پس میں نے حسد چھوڑ دیا اور لوگوں سے دور ہو گیااور میں جان گیا کہ قسمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پس میں نے عداوت چھوڑ دی۔
چھٹا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے مخلوق کو دیکھا کہ بعض بعض پر زیادتی کرتے ہیں اور بعض بعض سے قتال کرتے ہیں تو میں نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد :
إِنَّ الشَّیْطَانَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوہُ عَدُوّاً
یعنی بیشک شیطان تمھارا دشمن ہے پس تم بھی اسے دشمن رکھو۔‘‘ میں غور کیاتو میں نے صرف اسی کو دشمن جانا اور دشمن بنایا اور اس سے بچاو کے لیے کوشش و محنت کی؛ کیوں کہ اللہ
.................
۔1سورۃ الحجرات: ۴۹؍۱۳
۔2سورۃ الزخرف: ۴۳؍۳۲
۔3سورۃ الفاطر: ۳۵؍۶
تعالیٰ نے اس کے خلاف گواہی دی کہ وہ میرا دشمن ہے۔ پس میں نے اس کے علاوہ یگر مخلوق کی دشمنی چھوڑ دی۔
ساتواں مسئلہ یہ ہے کہ میں نے مخلوق کی طرف نظر کی تو دیکھا کہ ہر کوئی روٹی کا ٹکڑا طلب کرتا ہے اور اس کے لیے خود کو ذلیل کرتا ہے اور اس کی طلب میں حرام تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر میں نے رزاق عالم جل و علا کے ارشاد :
وَمَا مِن دَآبَّۃٍ فِیْ الأَرْضِ إِلاَّ عَلَی اللّہِ رِزْقُہَا
یعنی زمین میں کوئی چلنے والا نہیں ہے، مگر اس کا رزق اللہ کے ذمے ہے۔‘‘
میں غور کیا تو میں نے جان لیا کہ میں بھی انھیں زمین پر چلنے والوں (دابۃ) سے ہوں جن کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے تو میں اس میں مشغول ہو گیا جس کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور میں نے اپنا مال اس کے پاس چھوڑ دیا۔
آٹھواں مسئلہ یہ ہے کہ میں نے مخلوق کی طرف نظر کی تو دیکھا کہ وہ سب اپنی طرح مخلوق پر توکل اور بھروسہ کرتے ہیں۔ پس میں نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد:
وَمَن یَتَوَکَّلْ عَلَی اللَّہِ فَہُوَ حَسْبُہ
یعنی جو اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے کافی ہے۔‘‘
میں غور کیااور میں نے اسی پر بھروسہ کیا۔ پس وہی مجھے کافی ہے۔
حضرت شفیق قدس سرہ نے سننے کے بعد فرمایا: اے حاتم! اللہ تعالیٰ تمھیں توفیق دے، میں نے توریت ، انجیل، زبور اور قرآن عظیم کے علوم میں غور کیاتو میں نے بھلائی اور دیانت کے تمام انواع کو انھی آٹھ مسائل کے گرد گھومتا پایا،جس نے ان پر عمل کر لیا اس نے چاروں کتابوں پر عمل کرلیا۔
.......................
۔1سورہ ہود: ۱۱؍۶
۔2سورۃ الطلاق: ۶۵؍۳
چوتھی علامت
عالم آخرت چوں کہ متوجہ آخرت ہوتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ دنیا کا زیادہ استعمال آخرت میں نقصان کا باعث ہے جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے اور فقیر مؤلف اسے دوسری تحریر میں بیان کر چکا ہے۔ اس لیے اس کی یہ علامت علما و عرفا نے بتا دی ہے کہ وہ دنیا کو کم سے کم استعمال کرتا ہے اور بقدر حاجت پر اکتفا و قناعت کرتا ہے اور تاکید فرما دی ہے کہ کھانے پینے اور لباس وغیرہ میں اہل ثروت و دولت نے جو غلو و اسراف اختیار کر لیا ہے وہ بھی آخرت کے خسارے کا سبب ہے۔ اس تعلق سے کئی اعتبار سے کوتاہیاں ہیں۔ طالب آخرت کو چاہیے کہ وہ صرف اور صرف حلال ذریعہ رزق اختیار کرے۔
دوم: حاصل شدہ مال کو خرچ کرنے میں نہایت عقل مندی چاہیے ۔ وہ خود پر اور اپنی اولاد پر سنت کا لحاظ رکھتے ہوئے کھانے پینے اور لباس وغیرہ میں اوسط درجہ اور میانہ روی اختیار کرے۔ آج ایک تو لذت نفس کی خاطر بہت سے کھانے دستر خوان پر چنے جاتے ہیں۔ دوم: قیمتی کھانے بناتے ہیں۔ سوم: بہت زیادہ کھاتے ہیں کہ پیٹ میں ذرا بھی گنجائش نہیں چھوڑتے۔ چہارم: ہر تھوڑی دیر بعد بلا بھوک ہی کھاتے رہتے ہیں۔ پنجم: مصنوعی (ریڈی میڈ) اشیا کہیں نمکین کہیں پاپڑ، مٹھائی۔ اسی طرح مشروبات میں حد اعتدال سے تجاوز کرکے روپے خرچ کرتے ہیں۔ مکانات کی تعمیرات، ان کی فرش اور انھیں سجانے دھجانے میں بھی آج بے پناہ غلو ہوتا ہے۔اہل عقل و علم اسراف دیکھ کر حیرت سے تاکتے رہ جاتے ہیں۔ اہل دنیا نے ہر معاملے میں غلو سے کام لے کرغریبوں خاص کر متوسط طبقے کے لیے بہت سی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔
اگر لوگ اسلاف کی روش اور سیرت نبوی کی روشنی میں دولت خرچ کرتے اور کھاتے پیتے۔ اسی طرح لباس میں اور جوتوں چپلوں میں بھی میانہ روی اختیار کرتے تو آخرت کا بہت بڑا اجر پاتے اور دولت بچا کر غریبوں پر خرچ کرتے تو صدقہ کا ثواب پاتے۔ علما کو نظر میں رکھنا چاہیے
کہ اگر وہ عالم آخرت بننا چاہتے ہیں تو اول حلال ذریعہ سے کمائیں۔ علما و مشائخ کو نذرانے وصول کرنے میں اور عام اہل تجارت و حرفت کو کمانے میں خاص دھیان رکھنا چاہیے کہ وہ حلال طریقے سے کمائیں۔ دوم: جائز کاموں میں خرچ کریں ۔ سوم: اعتدال کے ساتھ خرچ کریں۔چہارم: حسنِ نیت کے ساتھ خرچ کریں۔
علما و مشائخ اور دیگر سبھی کو چاہیے کہ وہ دولت بچا کر غریبوں، بیواوں اور یتیموں پر خرچ کریں۔ خاص کر طالب روحانیت و آخرت کو چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے کم سے کم خرچ کرے۔ آج جو روحانیت ختم ہو رہی ہے اس میں بڑا ہاتھ شکم سیری اور رزق حرام کا ہے۔ اس سے سستی، کاہلی، بدعملی، دلوں کی قساوت، سختی اور بخل وغیرہ بری صفات پیدا ہوتی ہیں۔نیز جن علما و مشائخ کی پوری توجہ طلب آخرت کی طرف ہونی چاہیے وہ بھی ان دنیاداروں کو دیکھ کردنیا کی طرف مائل ہو گئے جس کے بے شمار برے نتائج پیدا ہو گئے اور ہو رہے ہیں۔ ایک تو وہ کثرت مال کی تحصیل میں لگ گئے ، دین کی تبلیغ کی پرواہ نہ رہی ، دوسرے: اپنے بچے بچیوں کو علم دنیا کی تحصیل پر لگا دیاجن پر وہ موٹی موٹی رقومات خرچ کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے تقریروں تحریروں اور دیگر دینی خدمتوں کے نذرانے وصول کرنے لگے۔ تیسرے: علوم دینیہ سے بے رغبتی بڑھ گئی۔ چوتھے: سرکاری امداد اور ملازمتوں کے پیچھے پڑ گئے۔ پانچویں: کثرت خرچ اور طلب مال کی وجہ سے حرام و حلال کی پرواہ چھوڑ دی۔ چھٹے : تحاسد کا شکار ہو گئے وغیرہ وغیرہ۔
علما و مشائخ کو چاہیے کہ وہ اپنے مریدین و متعلقین کو بھی خصوصیت کے ساتھ ہدایت کریں اور مذکورہ چیزوں سے لے کر شادی ، عقیقہ وغیرہ سب میں درمیانی راستہ اختیار کریں اور نیتوں کو درست کریں۔ علامہ سید بکری مکی عالم آخرت کی علامت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
و من علاماتہ أن یکون مجتنبا الترفۃ فی المطعم و التجمل فی المسکن و فی أثاثہ أی متاعہ و مجتنبا التنعم والتزین فی لباسہ و یکون مائلاً إلی القناعۃ و التقلل فی جمیع ذٰلک
ما أمکنہ اٰخذاً بالحزم و إقتداءً بالسلف۔
ترجمہ: اور علماے آخرت کی چند نشانیاں یہ بھی ہیں کہ کھانے، پینے اور رہن سہن میں بلا ضرورت تنعم سے پرہیز کرے، لباس میں بھی تزین و تنعم سے بچے اور تمام چیزوں میں قناعت اور کم سے کم پر اکتفا کرےاور جب تک ممکن ہو خرچ میں حزم و احتیاط اور اسلاف کے طریقے پر چلے۔
پانچویں علامت
امام مذکور (علامہ سید بکری مکی قدس سرہ) و دیگر علماے اعلام نے بیان فرمایا ہے کہ عالم آخرت وہ ہے جو امرا و وزرا ، اور سلاطین و حکام کی زیارتوں اور ان کی محبتوں سے بچتا ہو۔ آج کل کے اکثر بڑے اہل ثروت نیز حکومت کے اہل منصب اور بڑے نیتاؤں کی محبتیں اور ان کے ساتھ مجالست و مخالطت بھی وہی اثرات بد رکھتی ہے جس کی وجہ سے علما نے حکام و سلاطین کی محبتوں سے منع کیا ہے۔ امام موصوف چند برے اثرات تحریر کرتے ہیں
اول: ان کی محبتوں کا حامل ان کا تجمل اور زیب و زینت اور کثرت مال کو دیکھتا ہے تو اس کے دل میں ان نعمتوں کی حقارت پیدا ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے دی ہیں اور تحقیر نعمت بڑی بلا ہے، اس سے شکر نعمت کا جذبہ بھی فوت ہو جاتا ہے اور نعمت کی ناقدری پیدا ہوتی ہے۔
دوم: آج کل کے امرا و سلاطین اور اہل ثروت کسی بھی حال میں غلو و اسراف اور گناہوں و خطاؤں سے نہیں بچتے ہیں الا ما شاء اللہ۔ ان کا رعب و ہیبت ایسی ہوتی ہے کہ ان کی غلطیوں پر انکار سے ٹوکنا سب کے بس کی بات نہیں۔ لہٰذا یہ غلطیاں دیکھ کر خاموش رہے گا تو ‘‘مداہن فی الدین’’ ہوگا۔
سوم: عام طور پر لوگ ایسے لوگوں کو راضی کرنے کے لیے کلام میں تکلف کرتے ہیں، بے جا تعریفیں کرتے ہیں اور ان کی برائیوں کی بھی تحسین و تعریف کرتے ہیں اور ان کے جملہ افعال و اقوال کو اچھا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ چیز بہتان صریح میں داخل ہے اور اگر
....................
۔ 1کفایۃ الاتقیاء، ص: ۷۲
یہ تحسین و تعریف حصول دنیا کی طمع میں کر رہا ہے تو یہ حرام کھانا ہوگا۔ متقدمین علما و مشائخ اور دین دار حضرات ان کی محبتوں وغیرہ سے بچتے تھے اس حدیث کی وجہ سے جس کو حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے توسط سے حضور سرور عالمﷺ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: بے شک جہنم میں ایک وادی ہے، جب اسے کھولا جاتا ہے تو جہنم اس سے ستر بار پناہ مانگتا ہے جسے ریاکار قراّ (علما) کے لیے تیار کیا گیا ہے اور قرا میں سب سے سخت عذاب ان کے لیے ہے جوامرا کے یہاں بکثرت چکر لگاتے ہیں۔
چہارم: حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز نے امام حسن بصری رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ ہمیں ایسی قوم بتائیے جس سے میں حکم الٰہی (کی بجاآوری) میں مدد لوں، حضرت امام حسن نے تحریر فرمایا کہ اہل دین تو آپ کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں اور اہل دنیا کا آپ ارادہ نہیں کرتے۔ آپ اپنی صحبت کے لیے اشراف کو لازم پکڑ یے؛ کیوں کہ یہ لوگ اپنا شرف اس بات سے محفوظ رکھتے ہیں کہ خیانت کے میل سے میلا ہو۔
متقدمین علما و مشائخ اور صالحین کا مزاج اس سے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ ان کی صحبت سے بھی بچتے جو اپنے زمانے کے خلیفہ راشد اور سب سے بڑے زاہد تھے۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سلمہ سے فرمایا کہ تم سلاطین اور بادشاہوں کے دروازے پر نہ جاؤ؛ کیوں کہ تم ان کی دنیا سے کچھ نہیں پاؤ گے، مگر وہ تمھارے دین لے لیں گے جو افضل ہے۔
امام موصوف مذکور فرماتے ہیں:
ھذہ فتنۃ عظیمۃ للعلماء و ذریعۃ صعبۃ للشیطان علیھم لا سیما من لھجتہ مقبولۃ و کلامہ حلو۔
یہ علما کے لیے بڑا فتنہ ہے اور شیطان کے لیے ان پر مضبوط ذریعہ۔ یعنی ہتھیاراور آلہ ہے خاص کر اس کے لیے جس کا لہجہ مقبول ہو اور کلام میٹھا ہو۔
......................
۔1 کفایۃ الاتقیاء، ص: ۷۲
۔ 2احیاء العلوم، حصہ اول، ص: ۶۹، الباب السادس، فی آفات العلم، دار المعرفۃ، بیروت
کیوں کہ شیطان اسے برابر سمجھاتا رہتا ہے کہ ان کے یہاں تمھارا آنا جانا اورا نھیں وعظ و نصیحت کرنا ظلم سے روک دے گا اور شعائر کا قیام ہوگا، وہ نیک ہو جائیں گے تو رعایا اور متعلقین نیک ہو جائیں گے۔ وہ برابر سمجھاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ان کے یہاں آمد و رفت کو دین سمجھ بیٹھتے ہیں۔ پھر وہی حال ہوتا ہے جو اوپر مذکور ہوا کہ وہ بے جا تعریف اور ان کے برے اقوال و افعال کی تحسین شروع کر دیتے ہیں اور دین میں مداہنت کرنے لگتے ہیں، یہی ہلاکت ہے۔
معلوم رہے کہ یہ پرخطر گھاٹیاں بزرگوں نے ان علما کے لیے بیان فرمائیں جو دین دار اور صالح ہوتے تھے اور دنیا کی حرص و طمع سے پاک و صاف تھے۔ آج کل دین کی جگہ دنیا کی اور آخرت کی جگہ اس جہاں کی ایسی عزت بیٹھ گئی ہے کہ ہر وقت وہ طلب دنیا میں مگن رہتے ہیں اور ان اسباب و ذرائع کی طلب میں لگے رہتے ہیں جن سے دنیا کی عزت اور اس کا مال و متاع نصیب ہو۔ آج کے اکثر پیروں کو مال داروں کی بیعت پر جو خوشی ہوتی ہے وہ غریبوں کی بیعت سے نہیں، آج کے علما کو مال داروں ، نیتاؤں کے قرب سے جو مسرت ہوتی ہے وہ غریبوں سے نہیں خاص کر اہل ثروت اگر انھیں یاد کر لیں، ان کے گھروں پر آجائیں تو پھولے نہیں سماتے ہیں۔ ان کی مجلسوں میں نمازیں قضا ہو جائیں توفکر نہیں، ان کی ہاں میں ہاں کر کے بہت خوش ہوتے ہیں، ان کو اپنے انجام کی فکر کرنا چاہیے ، غریبوں کی دعوتیں چھوٹ جائیں، بلکہ قصداًنہ اجائیں تو کوئی فکر نہیں، مال داروں کی دعوت بسر و چشم قبول اور کسی حال میں نہیں چھوٹتی ہے۔ مال دار اور مشہور بااثر گدی نشین اور علما اگر بلائیں تو دوڑے چلے جائیں، غریبوں کے یہاں جانے میں ہزار عذر، مال دار اگر قرآن خوانیوں میں بلائیں تو خوشی میں آپے سے باہر ہو جائیں، غریب بلائیں توگرے پڑے چند لوگ جمع ہوں۔ منافع دنیا کی تحصیل کے لیے مشرک حکام اور نیتاؤں کے سامنے باادب کھڑے رہتے ہیں، ان کی محافل میں اگر تقریر کا موقع ملے تو تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں، ان کی نظر التفات کے ہمیشہ متمنی رہتے ہیں۔ اگر کوئی ان سے زیادہ قریب ہے
.............................
۔ 1 کفایۃ الاتقیاء، ص: ۷۲
تو یا تو حسد کا شکار ہو جائیں گے یا اسی کی تملق و چاپلوسی میں لگ جائیں گے۔ آج اس دنیا داری نے جو حالات پیدا کر دیے ہیں، دین دار اہل علم ان پر خون کے آنسو روتے ہیں۔
حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ ایک مکتوب میں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: فرِّ من الأغنیا کما تفر من الأسد بل أشد منہ (مال داروں سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ)
یہ ظاہر و باطن کے جامع، اہل علم و اہل قرب، بہت بڑے نباض اور دین کے مزاج سناش اور دنیا و آخرت کے سب سے بڑے عالم تھے ، صلاح و فلاح اور اچھائی برائی ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا تھا، یہ نفوس و قلوب کی آلائشوں اور گندگیوں کو آج کے اہل علم سے کہیں زیادہ پہچانتے تھے۔ جو انھوں نے نصیحتیں کی ہیں وہی صلاح و فلاح اور وہی سراسر خیر ہیں۔
معلوم ہونا چاہیے کہ ایک وہ لوگ ہوئے ہیں جو شجاعت و ہمت اور تقویٰ و دین داری میں کمال رکھتے ہیں اور ظاہر و باطن میں ہر گندگی سے پاک ہوتے ہیں جو کسی کے جاہ و جلال اور دولت و ثروت سے متاثر نہیں ہوتے ہیں نہ وہ کسی سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے حسن نیت سے امرا و حکام اور اہل دولت و ثروت کے یہاں جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
دوسرے وہ جو اس کے بر خلاف ہیں اور مذکورہ بالا لوگوں سے متاثر ہو سکتے ہیں اور طمع کے شکار ہوتے ہیں ان کو بزرگوں نے منع کیا ہے۔ آج کے حالات ایسے ہیں کہ علماے اہل سنت کو چاہیے کہ براے نفع دین و خلق روابط رکھیں ورنہ مخالفین ہر وقت منظم طور پر ایسے ہی لوگوں کو پکڑنے کے چکرمیں لگے رہتے ہیں۔ آج دین کے کام بغیر دولت و ثروت کے بھی مشکل ہیں۔
معلوم ہو کہ ایک وہ علما و مشائخ ہوتے ہیں جو حرص و طمع سے مکمل پاک ہوتے ہیں، انھیں نہ عزت کی طلب ہوتی ہے اور نہ کسی سے دولت کی اور ان کے اندر دوسروں میں اپنا اثر ڈالنے کی صلاحیت و قوت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے علماے اعلام نے اجازت دی ہے کہ وہ دینی مفادات کی خاطر امراو سلاطین کے یہاں آمد و رفت رکھ سکتے ہیں۔ تاریخ میں ایسے بہت سے نام
ہیں جن کی عظمت و بزرگی مسلم اور امرا وسلاطین ان کی بے پناہ عزت کرتے تھے۔ انھوں نے امرا و سلاطین سے عوام و خواص کی مدد کرا ئی، انھیں راہ راست پر لائے اور کبھی ان کی غلط باتوں پر خاموش نہیں رہے اور نہ ان سے کوئی حرص و طمع رکھی۔ امام غزالی قدس سرہ کے پیر و مرشد خواجہ ابو علی فارمدی قدس سرہ کسی ضرورت سے خلیفہ وقت کے یہاں جاتے تووہ آپ کو دیکھ کر مسند خالی کر دیتا، تعظیماً کھڑا ہو جاتا اور آپ کواپنی مسند پر بٹھاتا۔ کچھ خاص لوگ کہتے کہ آپ کے یہاں بڑے بڑے علما و ائمہ آتے ہیں، نہ آپ کسی کے لیے کھڑے ہوتے نہ کسی کو اپنی مسند پر بٹھاتے۔ ان کا اس قدر احترام کیوں کرتے ہیں؟ خلیفہ نے جواب دیا کہ یہ ہماری غلط باتوں اور غلط کاموں پر ٹوکتے ہیں اور دوسرے تحسین کرتے ہیں۔
اخبار الاخیار وغیرہ میں ہے کہ دہلی کا بادشاہ حضرت محبوب الٰہی سے کچھ پرخاش رکھتا تھا اور آپ کی طرف خلق کی رجوع اور آپ کی عزت و شہرت اسے کھٹکتی تھی ۔ اس نے آپ کا اثرو رسوخ کم کرنے کے لیے حضرت خواجہ ابو الفتح رکن عالم ملتانی کو دعوت دی، مقصد یہ تھا کہ ان کی عزت و شہرت اور ولایت و بزرگی اہل دہلی بھی جانتے ہیں۔ لہٰذا ان کی آمد پر خلق کا رجوع ان کی طرف ہو جائے گا۔ اس طرح حضرت محبوب الٰہی قدس سرہ کا اثرو رسوخ کم ہو جائے گا۔ جب حضرت رکن عالم تشریف لائے تو سب سے پہلے استقبال کو محبوب الٰہی پہنچے۔ بعد میں جب بادشاہ حاضر ہوا تو اس نے پوچھا: آپ کا استقبال سب سے پہلے کس نے کیا؟ آپ نے برجستہ کہا: جو دہلی میں سب سے بہتر ہے۔ حضرت محبوب الٰہی کے بارے میں یہ جملہ سن کر بادشاہ ہکا بکا رہ گیا۔ آپ جب تک دہلی میں رہے، لوگوں کی حاجت برآری کرتے رہے۔ لوگ کاغذ کے ٹکڑوں پراپنی حاجتیں لکھ کر آپ کی پالکی میں ڈال دیتے، کبھی کبھی اتنی ہو جاتیں کہ بیٹھنے کی جگہ نہ رہتی، آپ بادشاہ کو سناتے نہ اس سے کام کراتے۔
حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ حکومت میں اس قدر اثرو رسوخ رکھتے تھے کہ اگر چاہتے تو بڑا منصب حاصل کر لیتے، لیکن کسی منصب کی لالچ کیے بغیر بوریہ نشین رہ کر اصلاح کا کام شروع ک
کیا اگرچہ حق کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں بر داشت کیں۔ بالآخر اصلاح کا وہ کام کر دیا کہ مثال نہیں اور بادشاہ وقت جب آپ کا غلام ہو گیا تب بھی آپ نے یا آپ کی اولاد نے کسی جاہ و منصب کی طمع نہیں کی۔ جب کہ اورنگ زیب جیسے لوگ آپ کے فرزندخواجہ معصوم کے مرید تھے اور جہاں گیر سے لے کر آخر تک سب کو خاندان مجددیہ سے گہری عقیدت و محبت اور تعلق رہا۔ مگر ان بزرگوں نے بجز اصلاح اور خدمت خلق کچھ بھی ان امرا سے نہیں لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان دینی خدمتوں کی وجہ سے وہ عزت دے دی تھی اور خلق کا وہ رجوع تھا کہ سلاطین تاکتے رہ جاتے۔
غرضیکہ جتنے بھی صالحین کی سیرت پڑھیں گے جن کا تعلق امرا و حکام اور سلاطین وقت سے رہاان کا صرف خدا کے لیے رہا، انھوں نے بادشاہوں کی دنیا سے کچھ نہیں لیا۔ ایسے لوگوں کا اختلاط ہی بہتر تھا، حکام کو ظلم سے روکا، دین کا کام کیا، خلق کی خدمت کی۔
حضرت علامہ سید بکری مکی قدس سرہ فرماتے ہیں:
و کان یقال العلماء إذا علموا عملوا فإذا عملوا شغلوا فإذا شغلوا فقدوا فإذا فقدوا طلبوا فإذا طلبوا ھربوا
کہا جاتا ہے کہ علما کو جب علم حاصل ہو جائے تو وہ عمل کریں، پھر جب عمل کریں تو مشغول ہو جائیں، پھر جب مشغول ہوں تو دنیا سے بے رغبت ہو جائیں، پھر جب بے رغبت ہو جائیں گے تو انھیں ڈھونڈھا جائے گا، پھر جب انھیں ڈھونڈھا جائے تو وہ راہ فراراختیار کر لیں۔