مواد پر جائیں

باب ۴ از ۶صفحات ۴۳–۵۵

چھٹی علامت

یہ ہے کہ عالم آخرت کو چاہیے کہ فتویٰ دینے میں جلدی نہ کرے، بلکہ سائل سے کہہ دے کہ ان سے فتوی لے لو جو اس کے اہل ہیں۔ حزم و احتیاط کی وجہ سے امام غزالی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ عالم آخرت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ فتوی دینے میں جلدی نہ کرے، بلکہ رکے اور بچے تاکہ چھٹکارے کا کوئی راستہ مل جائے۔ اگر کوئی اس کا اہل

......................

۔کفایۃ الاتقیاء ص: ۷۲،۷۳

نہیں مل رہا ہے تو دیکھے کہ جس کے بارے میں اس سے پوچھا جا رہا ہے اسے یہ نص کتاب اللہ یا نص حدیث یا اجماع سے تحقیقاً جانتا ہے یا قیاس جلی سے تو فتویٰ دے اور اگر ایسی چیز پوچھی جائے جس کے بارے میں اسے شک ہے (حکم تحقیقاً نہیں جانتا ہے) تو لاأدری (میں نہیں جانتا ہوں) کہہ دے۔ اور اگر اس سے ایسی چیز پوچھی جائے جسے وہ ظن و تخمین کے طور پر جانتا ہے تو فتوی دینے میں احتیاط کرے اور اپنے سے دفع کرے اور غیر کے حوالے کر دے اگر غیر اسے حل کر سکتا ہو۔

معلوم ہو کہ فتویٰ دینے والے اور لینے والے آج بہت قسم کے ہیں۔ اصل فتویٰ دینا اس مجتہد کاکام ہے جو ایک زمانہ ہوا کہ ختم ہو گئے۔ بعد میں فقہاے اعلام نے یہ ذمہ داری سنبھالی جو اپنے مجتہد کے اصول و فروع کو سامنے رکھ کر فتوی دیتے ہیں۔ اس زمانے میں ایسے بھی مفتی انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں ۔ خدا کا شکر ہے کہ اس دور انحطاط میں بھی جزئیات جدیدہ کی گتھیاں سلجھانے والے افراد موجود ہیں اگرچہ کم ہیں، لیکن آج کے دور کا بڑا المیہ یہ ہے کہ اب جو مدرسے سے فارغ ہو کر سند فضیلت لے کر نکلتا ہے وہ خود کو مفتی سے کم کہلانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اکثر ایسے ہیں جنھیں اصول و فروع کا کچھ پتہ نہیں ، بہت سے تو ایسے ہیں جو عربی عبارت کا ترجمہ نہیں کر سکتے ہیں۔ حد تو یہ ہے بعض حضرات اردو بھی باضابطہ نہیں جانتے ہیں، بلکہ بعض حفاظ تک فتویٰ دینے لگے۔ اب نفس کا اس قدر غلبہ ہے کہ لاأدری (میں نہیں جانتا ہوں) کہنا تو ہین سمجھتے ہیں جس امام مسجد یا معلم مکتب سے سوال کر دیا جائے وہ کچھ نہ کچھ اٹکل پچو بتا ضرور دیتا ہے۔ دین کے تعلق سے اس قدر نا سمجھی بڑھ گئی ہے کہ نام کے مولوی علما و مفتیان کرام سے ٹکرانے لگے، ذمہ دار علما کی آرا پر تنقید کرنے لگے اور فتنے اٹھا نے لگے۔

فتویٰ لینے والوں میں اب خلوص نیت بہت کم ہے، واقعتاً فتویٰ بہت کم لوگوں کو درکار ہوتا ہے، فتویٰ کے پیچھے کوئی نہ کوئی ذاتی معاملہ اور پرخاش مخفی ہوتی ہے۔ کوئی ذاتی رنجش فتویٰ منگاتی ہے اور پھر اس پر اس فتویٰ کو لے کر فتنے اٹھانا شروع کردیتے ہیں اور انھیں ان پر منطبق

کرتے ہیں جن سے کوئی ذاتی نزاع ہوتا ہے، کبھی بد عقیدہ لوگ اہل سنت سے ایسے سوالات بصورت فتویٰ پوچھتے ہیں جن میں مفتی ہاں میں فتویٰ دے تو پھنسے اور نہیں میں دے تو فتنہ اٹھانے کا موقع ملے۔ مثلاً سوال کریں گے کہ امام حرم کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ اس صورت میں سنی مفتی ان کے عقائد و افکار باطلہ کی وجہ سے ہاں کرتا ہے تو غلط اور اگر نہیں کرتا ہے تو عوام کو دکھاتے ہیں کہ دیکھیے! ان کے یہاں امام حرم کے پیچھے نمازجائز نہیں۔ اسی طرح خود اپنے بھی فتنوں کے لیے سوال کرتے ہیں۔

بزگان دین اور صوفیہ کرام اسی لیے فرمایا کرتے تھے کہ ایں کارما نیست (فتویٰ دینا ہمارا کام نہیں ہے) ایسا نہیں کہ ان میں فتویٰ دینے کے اہل نہیں تھے۔ بڑے بڑے باصلاحیت مفتی ہوئے ہیں جنھوں نے تصوف کی چادر اوڑھ رکھی تھی، مگر چوں کہ ایسے علما موجود ہوتے تھے جن کا ہر وقت اشتغال ہی علوم ظاہرہ اور فتاویٰ سے تھااس لیے وہ انھیں اس معاملے میں مقدم رکھتے تھے۔ دوسرے اس حزم و احتیاط کی وجہ سے جس کا ذکر ہو رہا ہے۔ تیسرے ان کے یہا ں فتنوں کی وجہ سے اصلاح کا موثر طریقہ فتوووں کے بجاے روبرو محبت سے افہام و تفہیم ہوتا تھااور مجرم کو ایسے طریقے پر تنبیہ کرتے کہ امر معروف اور نہی منکر کا حق بھی ادا ہو جاتا۔ اور اسے اپنے جرم کا احساس بھی ہو جاتا اور وہ لوگوں کی نظر میں ذلیل بھی نہ ہوتا۔ کبھی کبھی وہ اپنے تصرف باطن سے ضلالت سے ہدایت کی طرف، معصیت سے صلاح کی طرف کھینچ لیتے تھے۔ آج کے مفتیان کرام کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے، سائل کو پرکھنے اور اس کا مقصد سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نیز عوام کا معیار بھی نظر میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ معلوم رہے ہم اس تعلق سے دوسری تحریر میں پوری تفصیل سے بات کر چکے ہیں، لہٰذا وہاں دیکھیں۔

ساتویں علامت: یہ ہے کہ علوم سے اس علم کا قصد کرے جس کا حصول اسے سعادت آخرت تک پہنچائے (أن یکون القصد من العلوم العلم الذی ینیلہ و یوصلہ الی سعادۃ الآخرۃ و ھو علم الباطن و مراقبۃ القلب و معرفۃ طریق الآخرۃو سلوکہ) (کفایۃالاتقیاء، اح

احیاء العلوم وغیرھما)

ایسا علم علم باطن ہے اور مراقبہ قلب یعنی قلب کی نگرانی و حفاظت اور راہ آخرت کی معرفت اور اس پر چلنا ہے۔ ؂

علامہ سید بکری قدس سرہ آگے فرماتے ہیں کہ جب اس کا قصد علم سعادت کا حصول ہو تو زیادہ تر تعلق علم باطن سے رکھے تاکہ اس کے ذریعہ ان امور کو جان سکے جو اعمال کو فاسد اور برباد کر دیتے ہیں اور قلب کی تشویش اور انتشار کا باعث ہوتے ہیں اور اپنے قلب کی سیاست اور اصلاح میں لگا رہے تاکہ اس کی تادیب ہو سکے اور اخلاق حمیدہ سے آراستہ ہو سکے اوراسے چاہیے کہ مجاہدہ کے ذریعہ طریق آخرت کے انکشاف کی امید اور توقع رکھے؛ کیوں کہ یہ چیز مشاہدے تک پہنچاتی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَالَّذِیْنَ جٰھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنّھُمْ سُبُلَنَا؂

جو لوگ ہماری راہوں میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم انھیں ضرور اپنی راہیں دکھائیں گے۔

پس مجاہدہ اور خلوت میں خداے تعالیٰ کے ساتھ جلوس و ہم نشینی اور شواغل دنیاسے قلب کو پاک کرنے سے علوم دین کے دقائق منکشف ہوتے ہیں اور قلب سے بے شمار حکمت کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ پس قلب کا تصفیہ شواغل سے پاک کرنا ہے اور خلوت میں جلوس مع اللہ الہام کی کنجی اور کشف کا سرچشمہ ہے۔ پس بہت سے تحصیل علم کرنے والے ایسے ہیں جو ایک لمبی مدت تک علم حاصل کرتے ہیں اور جو کچھ سیکھا ہے اس سے ایک کلمہ بھی تجاوز نہیں کرپاتے ہیں ۔ لہٰذا کوئی نئی بات سواے مسموع کے نہیں جان پاتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو علم حاصل کرنے میں مہم و مقصود اور اہم پر اقتصار کرتے ہیں اور عمل میں کثرت کرتے ہیں اور مراقبہ قلب سے کام لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے ایسے لطائف حکمت کھول دیتا ہے کہ اہل عقل کی عقلیں

.........................

۔ کفایۃ الاتقیاء، ص: ۷۴

۔ سورۃ الروم:۳۰؍۶۹

حیران رہ جاتی ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ نے فرمایا:

مَنْ عَمِلَ مَا عَلِمَ وَرَّ ثَہُ اللہُ عِلْمَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ؂

جس نے اپنے علم پر عمل کیااللہ تعالیٰ اسے ایسا علم دے گا جسے وہ نہیں جانتا ہے۔

کتب سابقہ میں ہے: اے بنی اسرائیل! تم یہ نہ کہو کہ علم آسمانوں میں ہے زمین پر اتار کر کون لائے گااور نہ یہ کہو کہ علم زمین کی تہوں میں ہے اسے کون وہاں سے کھود کر لائے گا اور نہ یہ کہو کہ وہ سمندر پار ہے کون سمندر عبور کر کے لائے گا؟ علم تمھارے دلوں میں رکھا گیا ہے، تم روحانیوں کے آداب سے آراستہ ہو جاؤ میرے سامنے اور صدیقین کے اخلاق کے حامل ہو جاؤ، تم اپنے دلوں میں علم ظاہر کر لوگے اتنا کہ وہ تمھیں ڈھک لے گا اور پورے طور پر تمھیں اپنی آغوش میں لے لے گا۔ ؂

ساتویں علامت

ساتویں علامت سے اتصاف اور اس کا طریقہ:

جو کچھ بھی ساتویں علامت میں بیان ہوا اسے اگر عملاً انسان دیکھنا چاہے توارباب کشف صوفیہ محققین کی سیرتوں اور ان کے بیان کردہ حقائق و معارف کو پڑھے بآسانی سمجھ لے گا کہ حرف حرف صحیح اور درست ہے۔ علم ظاہر و علم سعادت حاصل کرنے والے جب اس پر عمل کرتے ہیں تو یہی چیز علم باطن کی صورت ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے چند امور درکار ہیں:

۱۔ زیادہ تر شغف علم شریعت سے ہو ۔ علم شریعت سے مراد صرف وہ علم نہیں ہے جس پر عمل اعضاے ظاہرہ سے ہوتاہے، بلکہ شریعت ان تمام اعمال کو شامل ہے جن کا تعلق قالب سے ہو یا قلب کے مامورات سے ہویا منہیات سے۔ اسی طرح ان تمام اوصاف حمیدہ کو شامل و عام ہے جو رسول کائناتﷺ نے اپنے فیضان صحبت سے صحابہ کرام میں پیدا کیے اور انھیں متصف کیا۔ اسی طرح ان اوصاف رذیلہ و ذمیمہ سے قلب و قالب کو اجتناب ہو جن سے اجتناب کا

.............................

۔ 1 احیاء العلوم: ۱؍۱۰۶

۔ 2 کفایۃ الاتقیاء، ص:۷۴

حکم ہوا ہے۔ جیسے حب دنیا، حب مدح، حب جاہ و منصب ، حسد، بغض، طمع، حرص اور تعلی وغیرہ۔ اسی طرح تقوی و پرہیز گاری اختیار کرتا ہے اور تزکیہ نفس و تصفیہ قلب مجاہدات کے ذریعہ کرتا ہے تو یہ چیز اسے صفاے قلب تک پہنچاتی ہے جس سے بارگاہ الٰہی اور ملائکہ کرام سے اسے مناسبت پیدا ہوتی ہے۔ قلب و نفس کی تادیب و تہذیب، یہی تصفیہ و تزکیہ ہے جس کا قرآن و سنت میں ہمیں حکم دیا گیا اور اسی سے اخلاص پیدا ہوتا ہے جس کو قرآن و سنت جگہ جگہ بیان کرتے ہیں۔

۲۔ اللہ تعالیٰ نور ہے، فرشتے بھی نورانی ہیں، بندے عناصر و نفس امارہ کی وجہ سے اس بارگاہ سے مناسبت نہیں رکھتے ہیں۔ لہٰذا ایسے وقت میں ایسے انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو عام بندوں کے لیے بارگاہ الٰہی تک نور حاصل کرنے کا واسطہ ہو سکے اور جو دونوں طرف مناسبت رکھتا ہو، اسی کا نام مرشد کامل ہے جو اپنی باطنی توجہات و تصرفات نور الٰہی کو بے نور سینوں اور لطائف میں منتقل کرتا ہے۔ خیال رہے کہ حقیقی تقویٰ یا تقویٰ کا اعلیٰ مرتبہ بغیر ایسے مرشد کامل کے حاصل نہیں ہو پاتا ہے۔ اب مرشد کامل کی صحبت و محبت اور اکتساب فیض و نور اور شریعت پر عمل اس منزل تک پہنچا دیتا ہے کہ اس کے قلب و نفس میں وہ علوم و معارف بذریعہ کشف والہام یا بطریق فراست مومنانہ فائض ہونے لگتے ہیں جن کو علم باطن سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جن کوصرف قرآن و سنت کے ظاہر سے اخذ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ الحاصل اس منزل پر پہنچنے کے لیے ایک تو احکام حلال و حرام اور نوافل و مستحبات جاننے کی ضرورت ہے جن کوتفصیل سے فقہ بیان کرتا ہے تاکہ اس پر عمل کرکے تقوی کا حصول ہو سکے۔

دوم: ان شمائل و فضائل سے اتصاف کی ضرورت ہے جو صاحب خلق عظیمﷺ نے امت کو عطا فرمائے ہیں اور ان رذیل و مذموم اخلاق و عادت اور اوصاف سے خود کو پاک کرنے کی ضرورت ہے جن کو قرآن و سنت میں معیوب بتایا گیا ہے۔

سوم: تصوف سیکھنے کی ضرورت ہے، یہ بھی خیال رہے کہ فقہ کے علاوہ دیگر علوم، فضائل

و شمائل اور ان سے اتصاف اور اوصاف ذمیمہ سے اور ان سے اجتناب کے طریقوں کو صوفیہ محققین نے تفصیل سے اپنی مبسوط کتب میں بیان فرما دیا ہے اور سرکارﷺ کے اخلاق و اعمال پر جس گہرائی سے انھوں نے عمل کیا ہے وہ عام طور پر دوسروں کو نصیب نہیں ہوا۔ یہ بھی معلوم رہے کہ بعض علما کو جو مذکورہ بالا اوصاف کے حامل تھے اللہ تعالیٰ نے انھیں محض اپنے فضل سے درجہ قرب عطا فرما دیا، مگر ایسے حضرات انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ امت کے عام واصلین حق سبحانہ جو قرب و معرفت اور کشف و الہام اور حقائق و معارف کے وارث ہوئے وہ مذکورہ بالا اوصاف و کمالات علمیہ و عملیہ کے ساتھ ساتھ مرشد کامل اور مجاہدات کے ذریعہ واصل ہوئے۔ ان امور کو ہم بالتفصیل دوسری تحریر خاص کر کتاب ‘‘تصوف اور اس کے فوائد’’ میں بیان کر چکے ہیں۔

یہ بھی معلوم رہے کہ یہ واضح حقیقت ہے کہ شریعت کے ظاہر و باطن پر عمل میں استقامت بغیر مرشد کامل کے نصیب نہیں ہو پاتی ہے۔ محض علم عمل کو مستلزم نہیں ہے جیسا کہ بڑے بڑے فقہا و علما کے حالات گواہ ہیں اور آج تو علما و فقہا کے اعمال کا مشاہدہ بآسانی ہر انسان کر سکتا ہے۔ لہٰذا اکثر دیکھا جاتا ہے کہ اگر کوئی کسی خاص فن میں مہارت یا خاص منزل حاصل کر لیتا ہے تو وہ مذکورہ بالا رذائل نفس؛ کبر ، حسد، حب دنیا و حب مدح وغیرہ کا زیادہ شکارہو جاتا ہے۔ لہٰذا ائمہ نے عالم آخرت ہونے کی علامت وہی بتائی جس کا ذکر ساتویں علامت میں ہوا۔ آج عام پڑھا لکھا اور علامتوں سے واقف چاہے تو علما و مشائخ میں بآسانی امتیاز کر سکتا ہے کہ ان میں کون عالم آخرت ہے، کون نہیں، کون خدا تک پہنچا سکتا ہے، کون نہیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ عقائد اہل سنت کہ جن کا حاصل ہونا عالم آخرت کی بنیادی شرط ہے۔ ان کا جو علم علما نے فرض عین قرار دیا ہے اگر کوئی بالتفصیل حاصل کر لے تو اسے زیادہ سے زیادہ آپ یہ کہ سکتے ہیں کہ اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت برہانیہ حاصل ہے اگر اسی ایمان کے ساتھ جاتا ہے تو نجات کے لیے کافی ہے، مگر یہ معرفت بھی عمل کو مستلزم نہیں ہے۔ جن علما کو یہ

علم بذریعہ تدریس و تکرار حاصل ہے ان کے اعمال بھی عیاں ہیں۔ ہر حساس جانتا ہے کہ ظاہر و باطن میں کس قدر بداعمالیوں میں مبتلا ہیں اور کس قدر اوصاف رذیلہ سے متصف ہیں اور ان میں سے بہت لوگوں کا وجود کس قدر سراسر فتنہ بنا ہوا ہے۔ بڑا افسوس اس بات کا ہے کہ وہ انھیں امور وعلوم میں مگن ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے دنیا میں آنے کا سارا مقصد حاصل کر لیا۔ یہ بھی دھیان رہے کہ کسی مرشد سے بیعت مقصد مذکور کے لیے کافی نہیں ہے۔ اول تو اس زمانے میں مرشد کامل جو موصل الی اللہ ہوں نایاب ہیں۔ اکثر علماصرف علمی و خانقاہی شہرت کی بنیاد پرکسی کے مرید ہیں، دوسرے مرشد کامل اگر مل بھی جائے تو اس سے بیعت کے بعد اگر اکتساب فیض و نور نہیں کرتا ہے اور صوفیہ کرام علیہم الرضوان کے اس مقررہ نظام پر عمل نہیں کرتا ہے جو تصفیہ و تزکیہ کے لیے انھوں نے مقرر کیا ہے اس وقت تک وہ منزل نہیں پا سکتا ہے جو زیر بیان ہے۔

فائدہ: اگر کوئی طالب روحانیت ہو اور اسے مرشد کامل نہ مل پائے توروحانیت کس طرح حاصل کی جائے؟ اس کو میں نے ایک مختصر علاحدہ رسالے میں بیان کر دیا ہے۔اگرچہ بغیر مرشد کامل مشکل ہے پھر بھی متوقع ہے۔

آٹھویں علامت

علماے اسلام ارباب شریعت و طریقت نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اپنے علوم میں صاحب شریعتﷺ کی تقلید پر اعتماد کرے اور آپﷺ کے اقوال وافعال کی پیروی پر بھروسہ ہو۔ نیز علوم کے کشف، اسرار، ان کی حکمتوں اور دقائق کی جان کاری میں اعتماد و بھروسہ حضور عالم ماکان ومایکونﷺ پر ہو۔ ؂

حضرت امام غزالی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اپنے علوم میں اعتماد اپنی بصیرت اور صفاے قلب کے ذریعہ ادراک پر ہو نہ کہ کتابوں اور صحیفوں پر اور نہ آپﷺ کے غیر کی تقلید پر۔ جن کی تقلید ان علوم میں کی جائے گی وہ صرف آپﷺ کی ذات مقدسہ ہے۔ صحابہ کرام کی جو

.....................

۔ کفایۃ الأتقیاء، ص:۷۵

تقلید ہوتی ہے وہ صرف اس بنیاد پر کہ ان کے افعال دلالت کرتے ہیں کہ انھوں نے حضورﷺ سے سنا ہے۔ پھر جب صاحب شریعتﷺ کی تقلید کرے آپ ﷺ کے افعال و اقوال کو قبول کرنے میں تومناسب یہ ہے کہ آپﷺ کے اسرار کوبھی سمجھنے میں حریص ہو؛ کیوں کہ رسولﷺ کا کوئی فعل اسرار سے خالی نہ تھا۔

لہٰذا ضروری ہے کہ حضورﷺ کے اعمال و اقوال کے اسرار کی کھوج بین میں سخت حریص ہواگر وہ اسرار کو جاننے کی کوشش نہیں کرتا ہے، بلکہ صرف ان امور کے لفظ پر اکتفا کرتا ہے جن کو بیان کیا گیاتو وہ وعاء العلم (علم کا برتن) ہے، عالم نہیں ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ فلاں علم کا برتن تھا ، اس کا نام عالم نہیں رکھا جاتا ہے۔ جب کہ اس کا حال صرف لفظ ہو حکمتوں اور اسرار پر مطلع نہ اور جس نے قلب سے پردہ اٹھا دیا اور نور ہدایت سے روشن کر لیا تو اب وہ متبوع مقلد ہو گیا، پھر اسے غیر کی تقلید نہیں کرنا چاہیے۔ ؂

تنبیہ: یہاں چند چیزوں کا خاص دھیان رکھیں:۱۔ امام غزالی قدس سرہ جو تقلید کی نفی کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ عالم آخرت کو مقلد نہیں ہو نا چاہیے اس سے مراد اسرار و حکم میں تقلید ہے نہ کہ احکام فقہیہ میں۔ ائمہ مجتہدین کی تقلید تو لازم و واجب ہے، خود حضرت امام قدس سرہ بھی مقلد ہیں۔

۲۔ دوسرے اسرار اور حکمتوں کا حصول ہر عالم کو میسر نہیں ہوتا ہے، نہ سب میں ان کے انکشاف کی صلاحیت ہے۔ اسرار و حکم سے مراد اگر وہ معارف و حقائق نہیں جن کا حصول صفاے قلب و نفس کے وقت بذریعہ الہام و کشف ہوتا ہے تو اس کے لیے وہ علم و عمل ضروری ہے جو اس مولف عفی عنہ نے اس سے ذرا قبل بیان کیا اور اگر وہ اسرار و حکمتیں مراد ہیں جن تک وہ علما و صالحین پہنچتے ہیں جوعلم قرآن وسنت اور اس کے متعلقات میں مہارت رکھتے ہیں، وہ احکام کی علتیں اور حکمتیں پالیتے ہیں۔ ایسے علما کا وجود بھی آج کے دور میں نایاب ہے۔ آج کے دور میں ہم

..................

۔1 کفایۃ الاتقیاء، ص: ۷۵

جیسے کم علم والوں کے لیے بہتر ہے کہ قسم اول کے اسرار و حکم کے لیے صوفیہ محققین کی کتابیں پڑھیں۔ ان بزرگوں نے علوم باطنہ کشفیہ و الہامیہ اور معارف و حقائق کی صورت میں ذخیرہ جمع کر دیا ہے۔ خاص کر ائمہ طریقت؛ حضور شیخ ابن العربی، و حضور مجدد و منور الف ثانی قدس اللہ تعالیٰ اسرارھم نے اس کام کو اس منزل تک پہنچا دیا ہے کہ اس سے زیادہ کا تصور نہیں کیا جا سکتاہے۔ وفوق کل ذی علم علیم

یہ حضرات کشف صحیح و الہام صریح کے مالک تھے اور علوم ظاہرہ میں بھی حد کمال کو پہنچے ہوئے تھے اور ان تمام خوبیوں سے آراستہ تھے جو ایک انسان کامل میں ہونا چاہیے۔ اور اگر دوسری قسم کے اسرار و حکم مراد ہیں توان کو بھی علماے اعلام نے کافی حد تک بیان فرما دیا ہے جن پر بعد کے خواص و عوام نے اعتما د کیا ہے۔ لہٰذا انھیں مطالعہ کیا جائے، حفظ کی جائے اور ان کی تقلید کی جائے۔ آج کے علما تقلیدہی کے دائرے میں آتے ہیں، اجتہاد کی منزل میں نہیں جن کو تقلید جائز نہیں ہے۔ واللہ أعلم بالصواب

مجتہدین جامع علوم ظاہر و باطن اور اولیاے وقت تھے:

دنیا میں سب سے زیادہ جو مذاہب مشہور و مقبول ہوئے اور خیر القرون کے بعد اہل سنت جن میں منحصر ہو گئے وہ چار ہیں اور چارو ں کے امام جہاں علوم ظاہر میں اجتہاد کی منزل پر پہنچے ہوئے تھے وہیں علم باطن اور اوصاف حمیدہ و خصال محمودہ کی اعلی منزل اور درجہ ولایت پر فائز تھے۔ جو علما ظاہر وباطن کے جامع تھے انھوں نے تفصیل سے ان کے کمالات بیان فرمائے ہیں کہ یہ ائمہ مذہب پانچ خصائل کے جامع تھے؛ (۱) زہد (۲) صلاح (۴) علم بعلوم عقبیٰ جو خلق کے لیے نفع بخش ہیں (۵) تفقہ فی مصالح الخلق فی الدنیا جنھوں نے اپنے تفقہ سے رضاے الٰہی کا ارادہ کیا۔ پھر علماے اعلام نے ان چاروں ائمہ مذاہب؛ امام اعظم ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک و امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم کے مذکورہ بالا فضائل کو تفصیل سے بیان فرمایا اور ان کی استقامت کا

تذکرہ کیا۔ ؂

ان بزرگوں نے قرآن وسنت سے اصول پھر اصول سے فروع کا استنباط کیا۔ یہ سب کرنے کے بعد علوم و فنون کی جن پرخار وادیوں اور محنت و مشقت کی جن پرخطر گھاٹیوں سے انھیں گزرنا پڑا، پھر تعلیم و تدریس اور ابواب فقہ کی تفصیل و تدوین کا عظیم بار اٹھاتے ہوئے بھی جو عبادت و ریاضت کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان کی حیات کا لمحہ لمحہ جس قدر مصروف تھا اس کے باوجود مذکورہ بالا فضائل میں کمال اس بات کی بین دلیل ہے کہ تائید الٰہی ان کے شامل حال تھی اور یہ سب چیزیں ان کی ولایت و بزرگی اور خدارسیدگی کی پختہ دلیلیں ہیں۔ اس کے علاوہ امت کے معتمد اولیا، ارباب کشف و الہام نے خود ان کے اور ان کے مذاہب کے مقبول عند اللہ ہونے کی خبر دی ہے اور ان کے باطنی کمالات کا بچشم بصیرت مطالعہ کیاہے اور بیان کیا ہے کہ یہ حضرات جامع الصفات اور علماے آخرت کے مقبول علما و ائمہ تھے۔ امت کے علما ، فقہا ، محدثین ، مفسرین اور متکلمین جتنے دینی علوم کے طبقات ہیں جو خود بڑی بڑی منزل کے حامل تھے اور بہت سے علوم شریعت اور علوم طریقت میں اجتہاد کی منزل پر فائز تھے ایسے حضرات نے ائمہ کرام کی تقلید و اتباع پر فخر کیا۔

حضرت مجدد الف ثانی اور ان کے فرزندان گرامی، امام عبد الوہاب شعرانی شافعی اور ان کے مرشد کامل، کشف و الہام صحیح کے مالک سید علی خواص قدس اللہ تعالیٰ اسرارھم العالیہ جیسے بزرگوں نے ائمہ اربعہ کے فضائل و کمالات بیان فرمائے اور ان کی ولایت و بزرگی کی صراحت فرمائی۔ ان کے مقلدین و اتباع کو چاہیے کہ ان کے سارے اوصاف و کمالات میں ان کی پیروی کرتے، لیکن علماے اعلام نے یوں فرمایا ہے:

وفقھاء العصر لم یتبعوھم إلا فی خصلۃ واحدۃ و ھی الفقہ و تفاریعہ لأنھا تصلح للدنیا کما تصلح للآخرۃ’’ یعنی فقہاے زمانہ نے ان ائمہ کی پیروی صرف ایک خصلت میں کی

..............

۔ 1ملخص از کفایۃ الأتقیاء، ص:۷۶

کی وہ فقہ اور اس کی تفریعات ہیں جو دنیا کی صلاحیت رکھتی ہیں جیسا کہ آخرت کی صلاحیت رکھتی ہیں۔؂

امام غزالی جیسا شہباز علوم شریعت و طریقت و حقیقت پانچ امام ، چار مذکور اور پانچویں سفیان ثوری کا ذکر کرنے کے بعد یوں گویا ہوئے:

وکل واحد منھم کان عابدا زاھدا و عالما بعلوم الآخرۃ و فقیھا فی مصالح الخلق فی الدنیاو مریدا بفقھہ وجہ اللہ تعالیٰ فھذہ خمس خصالاتبعھم فقھاء العصرمن جملتھا علی خصلۃ واحدۃو ھی التشمیر و المبالغۃ فی تفاریع الفقہ لأن الخصال الأربع لا تصلح الا للآخرۃ و ھی الخصلۃ الوحدۃتصلح للدنیا والآخرۃان أرید بھا الآخرۃ قلّ صلاحھا للدنیا، شمروا لھا وادعوا بھامشابھۃ أولٰئک الأئمۃ و ھیھات أن تقاس الملائکۃ بالحداّدین۔ ؂

ترجمہ: پس ان اماموں میں سے ہر ایک عابد زاہد، علوم آخرت کا عالم اور ان منافع خلق میں فقیہ تھے جن کا تعلق دنیا سے ہے اور اپنے فقہ سے ذات الٰہی کا ارادہ کرنے والے۔ پس یہ پانچ خصلتیں ہیں جن کی پیروی سارے فقہا نے ایک خصلت پر کی اور وہ ہے فقہ کی تفریعات میں جد و جہد اور تفصیلات مہیا کرنا؛ کیوں کہ چاروں خصلتیں صلاحیت نہیں رکھتی ہیں، مگر آخرت کی اور یہ خصلت دنیا و آخرت دونوں کے لیے ہو سکتی ہے، اگر آخرت کا ارادہ کیا جائے اس کا نفع دنیا میں کم ہے۔ اس کے لیے کوشش کی اور اس کے ذریعہ ان مذکورہ اماموں سے مشابہت کا دعوی کیا۔ افسوس! فرشتوں کو لہاروں پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ہے۔‘‘

دھیان رکھنا چاہیے کہ علم اور علما کے تعلق سے کافی تفصیلات صوفیہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی کتب میں موجود ہیں اور اس معاملے میں جن حقائق تک وہ پہنچے ہیں اور غیروں کی اس

....................

۔ 1کفایۃ الأتقیاء، ص: ۷۶

۔ 2کفایۃ الأتقیاء، ص: ۷۷

تعلق سے جو رہنمائی کی ہے وہ انھیں کا حصہ ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ علماے آخرت کی جو علامتیں اور نشانیاں علماے آخرت نے بیان فرمائی ہیں وہ ان کی خود ساختہ نہیں ہیں، قرآن و حدیث کی ہدایات کی روشنی میں بتائی ہیں اور ان کے مقابل علماے سو کی بھی علامات اسی روشنی میں بیان فرمائیں۔

علما کی تقسیم علماے آخرت اور علماے دنیا کی طرف یہ صرف ان بزرگوں کی اختراعات سے نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول عالم ماکان ومایکونﷺ نے جہاں علما کے فضائل و مناقب بیان فرمائے ہیں وہیں ان کے اوصاف رذیلہ اور ان کے لیے وعیدیں بھی بیان فرمائیں۔ اس لیے لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سارے علما نہ تو نیک ہیں اور نہ برے، بلکہ کچھ نیک ہیں ، کچھ برے، دونوں میں امتیاز بہت ضروری ہے تاکہ نیکوں سے لوگ وابستہ ہوں اور بروں سے بچیں۔ اس کی پہچان انھیں علامتوں سے ہوتی ہے۔