باب ۱ از ۶صفحات ۵–۲۱
تقدیم
مُبَسْمِلاً وَّ حَامِدًا وَّ مُصَلِیًّا وَّ مُسَلِمًا
نیک اور صالح علما کی ضرورت ہر زمانے میں رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی؛ اس لیے کہ امت کی کشتی کو ابتلا و آزمائش کی بھنور سے نکال کر ساحل مقصود تک پہنچانے والے یہی حضرات رہے ہیں، مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اہل علم ہی کے ایک گروہ کی وجہ سےامت کے آسمانوں پر فتنوں کی گھنگھور گھٹائیں بھی امنڈتی رہیں جس کے اندھیرے میں نہ جانے کتنوں کا کاروانِ حیات زندگی کی رہ گزر سے دور جاکر بدعت و لادینیت کی ہلاکت خیز وادیوں میں گم ہو گیا۔ اسی لیے قرآن و سنت نے سکے کے دونوں پہلؤں کو دکھاتے ہوئےاگر ایک گروہ کی تعریف و توصیف کی ہے تو دوسرے کی مذمت، ایک کو رحمٰن کا نمائندہ بتایا تو دوسرے کو شیطان کا۔ پھر دونوں گروہوں کی واضح علامات بتا دیں کہ کس کی پیروی کی جائے اور کس سے دور رہا جائے۔ چناں چہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا یَسْـَٔلُکُمْ اَجْرًا وَّ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ
ایسوں کی پیروی کرو جو تم سے کچھ نیگ نہیں مانگتے اور وہ راہ پر ہیں۔
پتا چلا کہ علماے آخرت وارثین انبیا ہونے کے سبب دعوت و تبلیغ کے بدلے بدلہ نہیں مانگتے، بلکہ ان کا ہر کام خلوص و للٰہیت اور رضاے الٰہی کے لیے ہوتا ہے۔ جب کہ دوسرا گروہ جسے علماے سو یا علماے دنیا کہتے ہیں ان کی خدمات اخلاص سے خالی اور اتباع نفس کے لیے ہوتی ہیں۔
................
۔ سورۃ یٰس: ۳۶؍۲۱ 1
٭ریسرچ اسکالر، شعبہ فارسی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
اچھے اور برے علما کی شناخت کے لیے آج عوام کے پاس کوئی کسوٹی نہیں جس سے وہ ناپ سکیں؛ اس لیے کہ جو علامتیں قرآن و سنت اور کتب تصوف میں بیان ہوئی تھیں وہ آج علما ہی کے پاس ہیں؛ اس لیے بیچارے عوام الناس ہر خوش لباس کو جو علما کے بھیس میں ہو اپنے لیے خضرِ راہ اور نجات دہندہ سمجھ کرمقتدیٰ بنا لیتے ہیں جس سے اپنے صنم کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی بدعملی کے دریاے عمیق میں غرق ہو جاتے ہیں۔
بحر العرفان حضرت مفتی آفاق احمد صاحب مجددی علیہ الرحمۃ و الرضوان کی ذات بڑی ہی علما نواز ہے۔ موصوف نے اگر ایک طرف الجامعۃ الاحمدیہ کی بنیاد رکھ کر عطرکی نگری قنوج میں علما کی کاشت کی ہےتو دوسری طرف علماے آخرت بنانے کے لیےذکر و مراقبہ کے ذریعہ علما کی صحیح تربیت کا کام بھی زور و شور سے جاری کیا ہے۔ چناں چہ فجر تا اشراق، عصر تا مغرب اور بعد عشا کی روحانی محفلیں نہ جانے کتنے تاریک سینوں کو ذکرِ الٰہی سے منور کر چکی ہیں۔
زیر نظر کتاب ‘‘علماے آخرت’’ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ موصوف کا کہنا ہے کہ ‘‘تربیت کے بعد جو اہم کام علما کر سکتے ہیں وہ غیر عالم مبلغین کبھی بھی نہیں کر سکتے۔’’ کتاب میں قرآن و حدیث، اقوال علما اور تصوف کی کتابوں سے اچھے اور برے علما کی علامتیں دل نشین انداز میں بیان کی گئی ہیں۔ جگہ جگہ مؤلف کے تجربات نے رنگ و روغن کا کام کیا ہے۔ کوئی عالم کتاب میں مذکور علامتیں پڑھ کر اپنے گریبان میں جھانکے اور نفس لوّامہ کی ملامتیں قبول کر لےتو پھر وہ روحانی و ربّانی عالم بن کردنیا و آخرت میں سرخرو و سرفراز ہو جائےگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو پڑھ کر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین بجاہ سید المرسلین و اٰلہ و اصحابہ اجمعین
بِإِسْمِہِ تَعَالیٰ
حَامِدًا وَّ مُصَلِیًّا وَّ مُسَلِمًا
۱۔ معمولی علم و عقل کا مالک مسلمان یقین سے جانتا ہے کہ آخرت کی فلاح و نجات اور ابدی و سرمدی نعتوں کا حصول دین کو صحیح طور پر ماننے اور اس پر عمل کرنے سے وابستہ ہے۔
دین کیا ہے؟ حدیث جبریل سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کامل کے تین حصے ہیں۔ (۱) ایمان یعنی عقائد حقہ (۲) اسلام یعنی اعمال صالحہ (۳) احسان یعنی اخلاص۔
قرآن و سنت کی روشنی میں علماےاہل سنت نے عقائد حقہ کو متعین کر دیا، تفصیل سے بتا دیا، لکھ دیا اور اس کے لیے ایک مستقل علم ’’علم عقائد و کلام’’ وجود میں آگیا۔ اس تعلق سے علماےاہل سنت کی خصوصیت رہی اور ان پر خاص فضل الہٰی رہا کہ انھوں نے قرآن میں تدافع و اختلاف سے کام نہیں لیا، بلکہ ہر آیت پر ایمان ر کھا، ہر حرف کی تصدیق کی اور سب کو اس کے محل پر رکھا۔ اس کے بر خلاف جملہ فرق باطلہ نے بھی اپنے مزعومات و مخترعات کو قرآن و سنت سے ثابت کرنے کی کوشش کی، مگر اس طرح کہ بعض کو مانا اور بعض کا انکار کردیا۔
رہے اعمال صالحہ تو وہ گونا گوں حیثیت کے ہیں ان کو کافی حد تک تفصیل سے قرآن و سنت نے بیان فرمادیا علماےکرام نے مزید تفصیلات فراہم کیں اور ان کو عبادات و معاملات و عقوبات وغیرہ میں تقسیم کیا اور ثبوت کی نوعیت کے اعتبار سے انھیں فرائض و واجبات، سنن و مستحبات اور مباحات میں منقسم کیا۔ یہ ساری تفصیلات فقہا و مجتہدین کی مرہون منت ہیں جنھوں نے وہ کچھ کیا جو ان سے پہلے کسی بھی امت کے علما نہیں کر سکے۔
قرآن و سنت نے دو اور چیزوں پر بھی مزید بہت زور دیا ہے؛ ایک تزکیہ نفس، دوم تصفیہ قلب پر اس کی تفصیلات کی طرف محققین صوفیہ متوجہ ہو ئے، انھوں نے بھی اس تعلق سے بے مثال کام کیا اور قرآن و سنت وغیرہ میں جو اچھے اخلاق و عادات اور فضائل و شمائل کی بنیاد پر تعریف کی گئی ہے اور ان کی صفات حمیدہ بیان کی گئی ہیں جو جنت میں لے جانے والے ہیں اور
جن کی وجہ سے اچھا صالح معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ نیز ان کے مقابل برے اخلاق و عادات اور مذموم صفات کی بنیاد پر جن کی مذمت کی گئی ہے اور جن سے معاشرے میں برائیاں پیدا ہوتی ہیں، ظلم و زیادتی جنم لیتی ہے اور جہنم کی طرف لے جاتی ہیں صوفیہ کرام رحمہم اللہ نے انھیں تفصیلاً بیان فرمایا اور ان کا منشا بھی بتایا کہ وہ نفس امارہ کی بعض صفات و شرارتیں ہیں اور دلوں کی گندگی، عدم صفائی اور نفوس و قلوب کا جب تزکیہ و تصفیہ میسر آتا ہے تب ہی دین کامل کا تیسرا حصہ جسے احسان سے تعبیر کیا گیا ہے، حاصل ہوتا ہے۔
۲۔ قرآن و سنت کے علوم اور ان کے حاملین بعض علمااور ان کو حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے قرآن و سنت میں بے شمار فضائل و مناقب بیان فرمائے اور ان کی تحصیل کی ترغیب طرح طرح سے دی۔ یہ فیضان نبوت تھا کہ علوم قرآن و سنت کی طرف رغبت بڑھتی چلی گئی اورعلما نے تحصیل علوم اور ان کی ترویج و اشاعت کا وہ کام کیا کہ دنیا میں کوئی قوم نہیں کرسکی۔ ایسے بڑے بڑے مجتہدین، فقہا، محدثین، مفسرین اور متکلمین وغیرہ پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان علوم کی بدولت ان کو دنیا ہی میں وہ عزت و کرامت بخشی کہ خلق کا اس قدر رجوع رہا کہ بادشاہان وقت و سلاطین زمانہ بھی دیکھتے رہ گئے، ان کی عزت اور عقیدت و محبت پر رشک کرتے رہ گئے اور آخرت میں جن بلند درجات کی بشارت و خوش خبری ان بزرگوں کو ملی وہ کسی کو نہ ملی۔
قرآن و سنت کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن۔ ان کے علوم اوران کے معارف و حقائق بے شمار۔ یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کا کوئی ساحل نہیں، جس نے جیسے عواضی کی ویسے ہی ان کی تہوں سے موتی چنے۔ اس لیے ان میں مختلف مراتب پیدا ہو گئے جن کو شمار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہم ان کو یوں تقسیم کرتے ہیں ۔ ایک ان علماکا طبقہ ہو گیا جو قرآن و سنت کے علوم ظاہرہ اور علوم باطنہ دونوں کا جامع تھا اور دونوں میں حد کمال کو پہنچا ہوا تھا۔ ان میں بھی کچھ ایسے تھے جو درجہ اجتہاد پر فائز تھے، کچھ ان سے نیچے، پھر ان میں جنھوں نے علوم شرعیہ کی خدمت کی، ان کا
استنباط و استخراج اور ان کی ترویج و اشاعت وغیرہ کی طرف زیادہ تر توجہ رہی۔ وہ ان ناموں سے مشہور و معروف ہوئے جوا ور پر گذرے۔ بعض نے مجاہدات و ریاضات کا راستہ اختیار کیا ، اپنے اندر کشف و الہام کی صلاحیت پیدا کی اور ان کے ذریعہ معارف و حقائق سے آگاہ ہوئے اور لوگوں کی تسلیک اور علوم باطنہ کی ترویج و اشاعت وغیرہ ہی کو خاص مشغلہ بنایا۔ وہ مشائخ اور صوفیہ وغیرہ کے ناموں سے جانے پہچانے گئے۔
اہل ایمان کی عقیدتوں کا محور دونوں ہی طبقے رہے۔ کوئی کم، کوئی زیادہ جو علما کے نام سے مشہور ہوئے ان کی علمی و دینی خدمات نے اور جو مشائخ و صوفیہ کے نام سے مشہور ہوئے انھوں نے اپنی روحانیت ، تصرفات و کرامات ، کثرت ذکر و تلاوت ، تقویٰ و پر ہزگاری، خوف و خشیت الہٰی، آہ و زاری، شب بیداری، قناعت و توکل اور دنیا و مافیہا سے دوری وغیرہ کی وجہ سے بہت کچھ عقیدتوں اور محبتوں کے نذرانے حاصل کیے اور انھی طبقات سے گرویدگی و عقیدت اور ان کے علو مرتبت کا نتیجہ ہے جو آج بھی علماو صوفیہ کہلانے والے عوام کی عقیدت و محبت کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
دوم ان علماکا طبقہ جنھوں نے علوم شریعت یا علوم ظاہرہ میں کمال حاصل کیااور وہ وہیں تک محدود رہے۔ سوم وہ طبقہ جنھوں نے بقدر ضرورت علوم شریعت بھی حاصل کیا، مگر باطن کا غلبہ رہا۔ علما و مشائخ کی یہ خدمات عالیہ عوام کی مزید گروید گی اور محبت کا سبب بنیں۔
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکرمﷺ نے جہاں علوم قرآن و سنت کے حاملین و طلبہ کے بے پناہ مناقب و فضائل بیان فرمائے وہیں مذمتیں بھی بیان فرمائیں اور جیسی فضیلتیں ویسی ہی بڑی مذمتیں بیان ہوئیں۔ ظاہر ہے جیسا ان کا نفع عام و کثیر اور اہم ویسا ہی ان کا ضرر بھی۔ یہ صلاح عالم کا بھی سبب ہیں اور فساد عالم کا بھی۔ ایمان کا کام کرتے ہیں اور یہی کفر و ارتداد کا بھی، یہی شریعت کی ترویج و اشاعت کرتے ہیں اور یہی دور کرنے کا بھی، یہی قوم کو متحد کرتے اور جوڑتے ہیں اور یہی توڑتے اور انتشار پھیلاتے ہیں، خلق کا مرجع یہی طبقے رہے۔ یہ جدھر قوم کو
قرآن و سنت کی روشنی میں یہ اپنے کردار و اعمال اور عقائد و نظریات کے اعتبار سے دو قسم میں منقسم ہو گئے۔ (۱) علماےآخرت (۲) علماےسو ۔
عام اہل ایمان میں اس قدر صلاحیت نہیں کہ وہ اچھے برے کی تمیز کر لیں، نیک و بد کو پہچان سکیں، صالح اور غیر صالح کو ایک دوسرے سے جدا کر سکیں کہ کون صلاح و فلاح کا سبب ہے اور کون خسران و فساد کا، کون کس قدر حق پر ہے اور کون ناحق پر، کس کی راے درست اور شرع کے مطابق ہے، کس کی نہیں، ہمیں کس کو مقتدا کے لیے اختیار کرنا چاہیے ،کس کو نہیں، کون رہبر ہے اور کون رہزن، عوام تو عوام بہت سے اہل علم بھی ان سب امور میں صحیح اور درست فیصلے کو نہیں پہنچ پاتے کہ کون ان فضائل و مناقب کا مستحق ہے جو قرآن و سنت میں وارد ہوئے اور کون نہیں۔
مشائخ: آج کے دور میں جو اصل مشائخ تھے وہ ہیں نہیں إلا ماشاءاللہ، جنھیں خدا ہی جانتا ہے۔ رہبر بہت ہیں، مگر ظاہر و باطن میں اکثر پیری کے اوصاف سے عاری ہیں۔ اب مطمح نظر دنیا ہے، ہر ایک عزت اور مال کا طالب ہے، سب اپنا ہی سکہ چلانے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں۔ صرف اپنے اپنے حلقہ ارادت بڑھانے کی فکر ہے، اس پیری مریدی میں سراسر دنیا کے فائدے ہیں، نذرانے بھی ملتے ہیں، خدمتیں بھی ہوتی ہیں اور تعریفیں بھی۔ راحت ہی راحت ہے، عیش ہی عیش ہے۔ اس لیے ہر ایک اسی کی طرف دوڑ رہا ہے۔ پیر حضرات تو اب خود گھر گھر جا کر خلافت نامے عطا کر رہے ہیں تاکہ حلقہ بڑھے۔ آج کے اکثر پیروں سے دین کو فائدہ کے بجائے نقصان پہنچ رہا ہے۔ کوئی کسی کو برداشت نہیں کر رہا ہے پیروں کی آپسی چپقلش مریدوں تک پہنچ رہی ہے۔
لہٰذا ان میں بھی حلقہ بندیاں ہیں۔ اکثر پیروں کی اپنی اپنی پارٹیاں ہو گئی ہیں، مریدوں کی تربیت سے کوئی غرض نہیں، ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ ہمارے مریدوں کا التفات دوسرے کی
طرف نہ ہو، سارے نذرانے ہمیں کو ملیں۔ لہٰذا وہ اکثر اپنی نجی محفلوں میں دوسروں کی برائیاں کرتے ہیں، اس سے کئی طرح کے نقصان ہوئے۔
۱۔ ایمان و سنیت والوں میں آپس میں بجائے محبتوں کے نفرتیں پھیلیں۔
۲۔ ان نفرتوں کی وجہ سے بغض، کینہ، حسد، غیبت و چغلی، تذلیل و تحقیر وغیرہ جیسے محرمات وجود میں آئے۔
۳۔ نیکی اور تقویٰ پر مدد ختم ہوئی، جب کہ قرآن پاک ہمیں دعوت دے رہا ہے:
‘‘وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللہَ اِنَّ اللہَ شَدِیۡدُ الْعِقَابِ’’
ترجمہ: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے۔
اب ایک کے مرید دوسرے کی مدد کرنے کو تیار نہیں، حتی کہ ایک پیر کے سیٹھ دوسروں کو چندہ دینے کو تیار نہیں، ہر پیر چاہتا ہے کہ صرف ہماری جھولی بھرے اور ساری آمدنی ہماری خانقاہ میں آئے۔
۴۔ کسی پیر کے مرید دوسرے کے وعظ و نصیحت سننے کو تیار نہیں، کتابیں پڑھنے کو تیار نہیں، ان کی صحبت میں بیٹھنا تو کجا ان سے مصافحہ کے لیے تیار نہیں۔ آپسی اختلافات کے نتائج و شنائع ہم نے دوسری تحریر میں بہت کچھ بیان کر دیے ہیں۔ یہ موٹے موٹے چند نقصانات ہیں۔
آج کے اکثر پیر یہ سب کچھ کر رہے ہیں، کھلے ہوئے احکام شرع پر عمل سے دور ہیں، نمازیں ترک کررہے ہیں۔ بعض داڑھیاں منڈوا رہے ہیں، بعض دیگر جرائم کا شکار ہیں۔ عوام ان سب کو نہیں پہچان پا رہی ہے اور سب میں قدیم صوفیہ رحمہم اللہ تعالیٰ کی عظمتیں تصور کر رہی ہے۔ انھیں صاحب کرامات و تصرفات اور خدا رسیدہ تصور کر رہی ہے۔ ان پیروں کے
..............
۔1 سورۃ المائدۃ:۵؍۲
تعلق سے عوام کو کئی اعتبار سے دھوکہ ہو رہا ہے، کچھ پیر ایسے ہیں جو عقیدتاً سنی نہیں ہیں، مگر مرید کرتے ہیں اور جو سنی ہیں ان میں غالب اکثریت ان کی ہے جو نہ تصوف سے علماً واقف نہ عملاً و حالاً، مگر احکام شریعت پر ایک حد تک عمل کرتے ہیں، لیکن مریدوں کی شرعی تربیت کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ ظاہر ہے ایسے پیروں سے روحانیت کے حصول کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا ہے، نہ شریعت پر عمل کا کوئی متعد بہ جذبہ پیدا ہو سکتا ہے، ہاں ایسے پیروں سے یہ فائدہ ضرور ہے کہ ان کے مریدین سنیت پر قائم رہتے ہیں۔
تیسری قسم کے وہ پیر ہیں جو اعتقاداً سنی ہیں، مگر ان میں عملی کمزوریاں ہیں اور فاسق معلن کے درجے میں ہیں۔ ان میں بعض عجیب و غریب توہمات کا شکار ہیں اور روحانیت کا عجب تصور پیش کرتے ہیں۔ ان کے مریدین بھی اگرچہ کافی حد تک سنیت پر قائم ہیں، مگر جہالت و نادانی کی وجہ سے عجیب عجیب نکات بیان کرتے ہیں اور اپنے عیبوں پر پردہ ڈالنے کے لیے شریعت پر عمل کو ملاؤں کا کام قرار دیتے ہیں۔ عوام الناس ان سب کو ولی تصور کرتے ہیں، ان میں اور بھی اقسام ہیں۔ غرضیکہ عوام توعوام بہت سے علماپر حق مشتبہ ہو گیا ہے۔
علما: آج جو علماکہلاتے ہیں ایک وہ ہیں جو مدارس سے سندیں حاصل کیے ہوئے ہیں دوم وہ ہیں جو تھوڑے دنوں کہیں کسی مدرسے میں رہ لیے، ان کے پاس سند بھی نہیں۔ اول علمی اور عملی اعتبار سے کئی طبقے کے ہیں ایک طبقہ تو ضرور ان علماکا ہے جو آج کے دور کے اعتبار سے قرآن و سنت کا متعد بہ علم رکھتا ہے اور ان کو پڑھتا پڑھاتا ہے۔ یہ اکثر مدرسین کا طبقہ ہے جو اپنے اپنےظرف و استعداد، محنت و مشقت، مطالعہ و تکرار اور تعلیم و تعلم کی وجہ سے علوم شریعت کو قائم کیے ہوئے ہے اور اس کی ترویج و اشاعت میں لگا ہوا ہے۔ یہ پھر بھی اس دور جہالت میں غنیمت ہے۔ اس طبقہ میں اعمال و اخلاق کے لحاظ سے کئی طبقے کے لوگ ہیں ایک وہ ہے جو احکام شریعت پر عمل کرتا ہے اور عام اوصاف رذیلہ سے پاک ہے، نہ غیبت کرتا ہے، نہ باہمی اختلاف میں پڑتا ہے، ان میں کچھ اہل قلم بھی ہیں، کچھ صرف تدریس و تعلیم پر قانع ہیں جو اس
دور کے اعتبار سے بہت غنیمت ہیں۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جس کے اندر عملی کمزوریاں بہت ہیں، مگر ان کا فساد زیادہ متعدی نہیں ہے۔ تیسرا طبقہ وہ ہے جو کسی وجہ سے مشربی، صوبائی وغیرہ نقصانات کا شکار ہے اور اپنوں کے رد و قدح میں لگا رہتا ہے اور جس نے اصلاح کا وہ راستہ اختیار کر رکھا ہے جس سے بجائے اصلاح کے افساد (فساد پھیلانے) کا کام ہو رہا ہے۔ اہل سنت کی تفریق میں سب سے زیادہ دخل اسی طبقے کو ہے۔
علما کہلانے والوں کا ایک طبقہ وہ ہےجو علمی اعتبار سے متوسط درجے کا ہےاور کچھ قرآن و سنت کو سمجھتا ہے، عمل اور فتنہ و فساد کے اعتبار سے یہ بھی اول کے مشابہ ہےاور اگر کسی پیر سے جڑے ہوتے ہیں تو یہ افساد میں اپنے مشائخ سے بھی دو قدم آگے ہیں۔ تیسرا طبقہ وہ ہے جو صرف نام کا عالم ہے، جو نہ قرآن و سنت کو بلا واسطہ اپنی صلاحیت سے سمجھنےکی لیاقت رکھتا ہے نہ تراجم وغیرہ کی مدد سے اور نہ اسے علم کی کوئی رغبت ہے۔ جنھوں نے مدارس و جامعات سے سندیں حاصل کر لی ہیں، ان میں طبقات بہت ہیں، مگر ہم ان کو کسی اعتبار سے انھی تین قسموں میں بانٹ سکتے ہیں۔ عوام کے پاس کوئی ایسا آلہ نہیں ہے جس سے وہ علم کو ناپ سکیں یا تول سکیں اور اندازہ لگا سکیں کہ ان میں کون عالم شریعت ہے، کون نہیں۔ یہ طبقہ فتنہ و فساد میں بڑوں سے بہت آگے ہے، اسے نہ عقائد سنت معلوم ہیں، نہ صحیح اسلام، بس چند سنی سنائی باتیں ہیں جو حق و ناحق میں امتیاز کے تعلق سے اس نے اپنے ذہن و دماغ میں بسا رکھی ہیں۔
دینی زمام کے مالک:
اکثر ادوارِ اسلام میں دینی لگام یا تو علما کے ہاتھ رہی یا مشائخ کے۔ آج بھی دینی رہبر یہی کہلاتے ہیں اور عوام انھی کی طرف رجوع کرتی ہے۔ یہ جس راہ پر عوام کو چلاتے ہیں، وہ چلتے ہیں، جس بات کو حق بتاتے ہیں، وہ مانتے ہیں۔ علم اور روحانیت ایک مخفی امر ہے۔ عوام تو عوام خواص تک کو کسی کی روحانیت جاننے کا اور اس کا صحیح علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں۔ روحانیت جاننے کے لیے کشف و الہام کی ضرورت ہے۔ علما کے تعلق سے عوام کو بالخصوص کوئی
ایسی راہ نہیں معلوم ہےجس سے صحیح عالم اور غیر عالم میں فرق و امتیاز کر سکیں؛ کیوں کہ سب لبادہ ٔعلما میں ہیں۔
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ تو خوب جانتے ہیں کہ کون عالم ان فضیلتوں کا مستحق ہےجو قرآن و سنت میں بیان ہوئیں اور کون نہیں۔ یہ پروردگار جل و علا اور اس کے رسول اعظمﷺ کے عظیم احسانات میں سے ہےکہ انھوں نے بتا دیا ہے کہ کون عالم آخرت ہے اور کون عالم دنیا، کون عالم خیر ہے اور کون عالم شر ہے اور وہ علامتیں بیان فرما دی ہیں جن کے ذریعہ اچھے برے میں ہم کافی حد تک تمیز کر سکتے ہیں۔
تنبیہ: دنیا اور آخرت کی کامیابی اور اخروی فلاح و نجات کے لیے آج اس حقیر کی نظر میں سب سے اہم مسئلہ رہبر و ہادی کا صحیح انتخاب ہے۔ اس میں ذرا سی چوک بہت بڑے خسارے کا سبب ہو سکتی ہے اور صحیح انتخاب اس قدر عظیم فلاح کا باعث ہو سکتا ہے جسے بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اعلیٰ درجے کا رہبر وہ ہےجو دین کامل کا حامل ہو یعنی علوم شریعت و طریقت کا جامع ہو، جذبہ تربیت و دعوت سے سرشار ہواور خدا کے بندوں کو خدا تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتاہو اور مقاصد شریعت سے اچھی طرح آگاہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر دنیوی فلاح و کامرانی سے بھی واقف ہو تو بہت خوب۔ یہ وہی شخص ہو سکتا ہے جو عقیدتاً سنی ہو، اعمال صالحہ میں استقامت رکھتا ہو، اخلاق حمیدہ سے آراستہ ہواور اخلاق رذیلہ سے پاک و صاف ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے باضابطہ کسی مرشد کامل و مکمل کی صحبت میں مقامات و احوال حاصل کیے ہوں اور مریدوں کی تربیت کرنا جانتا ہو۔
دوسرے مرتبے کا رہبر وہ قرار دیا جا سکتا ہے جو بقدر ضرورت علوم شریعت بھی رکھتا ہو، روحانیت و تصوف بھی، تسلیک کی صلاحیت بھی اور مذکورہ بالا خوبیوں کا حامل ہو۔
تیسرے مرتبے میں وہ علماے شریعت آسکتے ہیں جو علوم شرع میں کمال رکھتے ہوں، باعمل بھی ہوں اور فتنہ و فساد سے پاک، بجاے افساد کے اصلاح کا کام کرناجانتے ہوں، احکام
شریعت کی تبلیغ و ترویج کرتے ہوں، اپنے متعلقین میں احکام شرع پر عمل کی ترغیب اور زور دیتے ہوں اور اخلاق حمیدہ سے آراستہ ہوں۔ اگر اتفاق سے آج ایسے علما عوام کو میسر آجائیں تو بھی دین و دنیا کی فلاح و کامرانی کا کافی بڑا کام ہو سکتا ہے۔
اگر مدارس میں ذمہ دار علمااصلاح و تربیت کا مزاج شریعت کے مطابق قائم کر لیں اورطلبہ کی بہترین شرعی تربیت کی جائے اور جذبہ دعوت سے سرشار باعمل علماپیدا ہوں اور ہر درجے کے طلبہ کی لائق تربیت ہو جائے تو کم علم علما،حفاظ و ائمہ مساجد بھی شریعت یعنی عقیدہ و عمل کا کافی حد تک اچھا کام کر سکتے ہیں۔ صلاح عالِم صلاح عالَم اور فساد عالِم فساد عالَم کا سبب ہے۔ علماے آخرت سب سے بڑی خیر ہیں اور علماےدنیا اور علماےسو سب سے بڑی شر ہیں۔ ان میں امتیاز بڑا مشکل کام ہے۔ ایک بڑا کام ذمہ دار ائمہ، علمااور مشائخ نے یہ کیا کہ قرآن و سنت کی روشنی میں وہ علامتیں بیان کردی ہیں کہ جن کے ذریعہ دونوں میں امتیاز کیا جاسکتا ہے اور دونوں کو الگ الگ پہچانا جاسکتا ہے۔ علماےآخرت کو اپنی رہبری کے لیے منتخب کیا جاسکتا ہے۔ حضرت حجة الاسلام امام محمد غزالی قدس سرہ نے احیاءالعلوم شریف میں اور دیگر ائمہ و علمانے بعض دیگر کتب میں علماےآخرت اور علماےسو کی علامتیں بیان فرمائی ہیں جنھیں تفصیل سے ہم یہاں سپرد قلم کرتے ہیں جو بہت حد تک آج کےدور میں رہبری کا کام کر سکتی ہیں۔
علماے آخرت:
۱۔ عالم آخرت ہونے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ عقائد اہل سنت کا پابند ہو؛ کیوں کہ اہل سنت ہی فرقہ ناجیہ ہیں۔ معلوم ہو کہ سنی ہونے کا دعویٰ بہت سے فرقے کرتے ہیں، دعویٰ الگ چیز ہے اور سنی ہو نا الگ چیز ہے۔ ہمارے بہت سے بھائی ہیں جوا ہل حق وغیر اہل حق میں امتیاز نہیں کرتے ہیں اور وہابیوں دیوبندیوں کو بھی اہل سنت سمجھ بیٹھتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے بیٹھتے ہیں۔ وہ سنی کو غیر شیعہ سمجھتے ہیں حالاں کہ یہ فرقے عقائد اہل سنت کے پابند نہیں ہیں ۔ قرآن و حدیث نے جو کمالات و اوصاف اور ادب و احترام اللہ تعالیٰ کے مقرب
بندوں کے بیان فرمائے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان نےعملاً جس طرح عقیدت و محبت کے گوہر لٹائے وہ ان میں پائے نہیں جاتے ہیں، اس کی وضاحت علماے اہل سنت نے اپنی کتابوں میں تفصیل سے کردی ہے۔ لہٰذا وہاں سے طلب کی جائے۔
۲۔ عالم آخرت کی دوسری نہایت اہم اور بنیادی شرط یہ ہےکہ علم سیکھنے اور سکھانے سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہو، کوئی دنیوی غرض و منفعت حاصل کرنے کی نہ ہو۔ جس نے رضاےالہٰی اور دار آخرت کے علاوہ کوئی نیت کی اس کے لیے سوائے خسران و ہلاکت کے کچھ نہیں اور اس کا شمارعلماےآخرت کے بجائے علماےدنیا میں ہوگا۔ علماے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص اللہ تعالی سے استہزاکرتا ہے، اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کسی بادشاہ کے سامنے خدمت کے لیے کھڑا ہے، لیکن اس کی غرض بادشاہ کے بعض غلاموں اور باندیوں کو ملاحظہ کرنا ہے، ایسا شخص نہایت غضب اور سزا کا مستحق ہے۔
حضرت سیدنا امام محمد بن اسماعیل بخاری قدس سرہ نے اپنی کتاب بخاری میں سب سے پہلی حدیث نیت کے تعلق سے ذکر کی ہے، یعنی ‘‘إنما الاعمال بالنیات’’ اعمال صرف نیتوں سے ہیں یعنی اچھے اعمال اگر حسن نیت سے کیے جائیں تو ثواب ہے ورنہ نہیں۔ معلوم ہو کہ برے اعمال جو حرام و ناجائز ہیں وہ حسن نیت سے اچھے نہیں ہوتے اور اعمال صالحہ یعنی نیک اعمال میں اگر بری نیت کر لی جائے تو وہ برے ہو جاتے ہیں، جیسے یہی علم دین اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتوں سے ہے، اگر اسے اللہ تعالیٰ اور دار آخرت کے لیے حاصل کیا جائے تواس کے اجر و ثواب اور اس کے دینی و دنیوی نفع کو بندہ شمار نہیں کرسکتا ہے۔ ایسے اہل علم کے لیے قرآن و حدیث میں بے پناہ فضائل وارد ہوئے ہیں اور یہ ایسا شرف ہے جو شرف نسب پر بھی فوقیت رکھتا ہے، اس کی فضیلت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اعظمﷺ نے ایسے علماکی رفعت و بلندی اور فضیلت و منقبت بیان فرمائی اور حضرت امام بخاری قدس سرہ نے سب س
سے پہلے حدیث نیت وارد کر کے معلمین و متعلمین سب کو ہدایت کردی کہ تعلیم و تعلم سے پہلے اپنی اپنی نیتیں درست کر لیں۔ اس کے تعلق سے چند امور ذہن میں رکھیں۔
الف۔ اعمال مقصودہ یعنی جن سے مقصود ہی عبادت ہے ان میں نیت فرض ہے۔ جیسے نماز روزے وغیرہ اور دیگر عبادات جو دوسری عبادتوں کا وسیلہ ہیں جیسے وضو وغیرہ، ان میں احناف کے نزدیک اگرچہ نیت فرض نہیں، لیکن بغیر نیت ان کا بھی ثواب نہیں ملتا ہے۔ غرضیکہ ہر عمل صالح کا ثواب پانے کے لیے دو امر ضروری ہیں؛ ایک ایمان، دوم اچھی نیت۔
ب۔ اعمال صالحہ خواہ فرض کے درجے کے ہوں یا سنن و نوافل و مستحبات کے، ان کا بھی ثواب بغیر حسن نیت نہیں ملتا ہے۔ لہٰذا ہرعمل صالح کا ثواب پانے کے لیے نیت شرط ہے۔
ج۔ مباحات کہ از روے شریعت جن کا کرنا نہ کرنا برابر ہے، جیسے کھانا پینا، سونا، اپنے احباب سے گفتگو وغیرہ اس حد تک جس کی شریعت نے اجازت دی ہے، ان مباحات کو اگر اچھی نیت سے کیا جائے تو یہی اجر و ثواب کا سبب ہیں۔ اور بری نیت سے کیا جائے تو عقوبت و سزا کا ذریعہ ہیں۔ کھانا کوئی اس نیت سے کھائے کہ بدن میں قوت و طاقت رہے گی جس کے ذریعہ ہم کثرت سے عبادت کریں گے، دین پھیلائیں گے، خداے تعالیٰ کی راہ میں ریاضات و مجاہدات کریں گے تو یہی کھانا بڑے اجر و ثواب کا سبب ہے اور بے شمار فوائد و منافع کی طرف لے جاتا ہے۔ بدن میں قوت ہو تو عبادت بھی سنت کے مطابق اور کثرت سے کر سکتا ہے، اسلام و سنیت کی ترویج و اشاعت کا بڑا کام کر سکتا ہے۔ دعوت و تبلیغ کے لیے بھاگ دوڑ اور تقریریں تحریریں سب ہی بدنی قوت کی طالب ہیں۔ علوم دینیہ کی تعلیم و تعلم بھی قوت بدن پر منحصر ہے۔ دین کے لیے ہر محنت قوت اور طاقت چاہتی ہے۔
اگر ہم اپنی نیتیں درست کر لیں تو ایک منٹ میں کروڑوں نیکیاں حاصل کر سکتے ہیں اور جائز و مباح کام جو ہم دنیا کے لیے کرکے عذاب مول لے رہے ہیں وہی ثواب بن جائیں گے۔ اس کا
تعلق کھانے پینے، رہنے سہنے، لباس، گھر مکان بنانے، نیز دعوتوں، شادیوں اور دنیوی عصری تعلیم و تعلم وغیرہ سے ہے۔ اس سے غفلت ہمارے بڑے اخروی خسارے کا سبب ہوتی ہے۔ علما و مشائخ کو چاہیے کہ وہ خود بھی نیتوں کو درست کریں اور اپنے مریدین و متعلقین کی بھی درست کرائیں۔ نیز تقریروں وغیرہ میں اس پر کافی زور دیں۔ اس کے بغیر وہ عالم آخرت نہیں بن سکتے ہیں۔ اور اگر اسی کھانے سے بری نیتیں کر لی جائیں تو برا اور عذاب تک پہنچانے والا ہے۔ غرضیکہ کھانے اور دیگر غذاؤں اور طاقت ور چیزیں کھانے سے جو قوتیں حاصل ہوتی ہیں اگر ان طاقتوں کو دین کے لیے استعمال کر لیا جائے تو دینی و دنیوی منافع بھی بے شمار حاصل ہوتے ہیں اور ان کو اگر محرمات کے ارتکاب، ظلم و جور اور دنیا کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی ابدی خسارے کا سبب ہیں۔
بری نیتیں:
علم دین حاصل کرنا اگر رضاے الٰہی اور ثواب کے لیے نہیں ہے، بلکہ دنیا کے لیے ہے تو وہ بری نیت میں داخل ہے۔
چند بری نیتیں یہ ہیں مثلاً علم دین اس لیے حاصل کیا کہ اس کے ذریعہ مال کمائے گا۔ جیسے آج کل کے مقرربن جائیں گے تو اتنا اتنا نذرانہ لیں گے، اگر شاعر بن گئے تو اتنا لیں گے، مدرس بن جائیں گے تو اس قدر لیں گے، امامت کریں گے تو اتنا لیں گے وغیرہ وغیرہ۔ معلوم رہے کہ فقہاے متاخرین نے گو کہ امامت وغیرہ کا معاوضہ لینا جائز قرار دیا ہے، مگر جب عمل کا معاوضہ لے لیا اور یہی نیت ہے تو اب ثواب نہیں رہا۔
دوسری بری نیت یہ ہے کہ اس لیے حاصل کیا کہ خلق میں عزت ہوگی اور ہمیں ان پر مرتبہ حاصل ہوگا۔ تیسری بری نیت یہ ہے کہ لوگ ہمارا احترام کریں گے اور عزت کریں گے۔ چوتھی بری نیت یہ ہے کہ اپنے ہم زمانہ لوگوں کا تکبر خود سے دفع کرے گا تاکہ وہ لوگ اپنے آپ کو ہم سے بڑا نہ سمجھیں۔ ایک بری نیت یہ بھی ہے کہ پڑوسیوں کی اذیت دفع کرے گا۔
علماے دین فرماتے ہیں جو اس قسم کی نیتیں کرے گا وہ خود کو غضب الٰہی کا نشانہ بناتا رہے گا ، علماے سو میں منسلک ہوتا رہے گا اور خود کو ان وعیدوں کا مستحق بناتا رہے گا جو علماے سو کے حق میں وارد ہوئی ہیں۔
معلوم رہے کہ جب اسلامی حکومتیں اور اسلامی قوانین و احکام رائج تھے اس وقت جتنے بڑے بڑے عہدے اور مناصب ہوتے تھے وہ علما کے سپرد ہوتے تھے۔ کوئی قاضی، کوئی قاضی القضاۃ، کوئی شیخ الاسلام، کوئی صدر الصدور وغیرہ وغیرہ۔ چوں کہ ان عہدوں سے عزت اور دولت دونوں ہی وابستہ ہوتی تھیں اس لیے اکثرمحنتیں انھی مناصب اور عہدوں کی تحصیل کے لیے ہوتی تھیں اور یہ چیزیں باہمی تحاسد کا بھی سبب بنتی تھیں۔ کبھی کبھی یہ چیز اپنی برتری اور تفوق ثابت کرنے کے لیے دوسروں کی تحقیر تک پہنچا دیتی تھیں۔امرا و سلاطین کی نظر میں اپنا علمی تفوق ثابت کرنے کے لیے بعض تو بہت کچھ نازیبا حرکتوں کے شکار ہو جاتے تھے اور ان کی وجہ سے بہت سے محرمات، مثلاً غیبتوں، چغلیوں، آبروریزیوں وغیرہ کے شکار ہو جاتے تھے اور آئے دن مناظرات و مباحثات ہوتے رہتے تھے۔ اسی طرح علم کا جو مقصد تھا یعنی رضاے الٰہی اور ثواب آخرت وہ بالکل فوت ہو جاتا تھا۔
اسی طرح مذہبی و مسلکی جوش اور عقیدت و محبت کبھی کبھی تعصبات تک پہنچا دیتی تھی اور چاروں مذاہب کے بڑے بڑے علما بعض دفعہ اس کا شکار ہو جاتے تھے۔ نیز تدریس و تعلیم میں مہارت رکھنے والے بھی اکثر اچھی نیت کے بجائے بری نیت کے حامل ہو جاتے۔ نفس امارہ کی خاص چال اور شرارت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی برتری اور علو چاہتا ہے۔ درس گاہوں میں اساتذہ کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ طلبہ کے سامنے ایسی علمی تقریریں کریں کہ ہماری علمیت کی دھاک بیٹھ جائے۔ یہ ساری وہ نیتیں تھیں جو جادۂ حق سے دور کر دیتی تھیں۔ یہاں بے موقع نہ ہوگا اگر ہم حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی قدس سرہ کا وہ واقعہ نقل کریں جسے مؤلف ‘‘حضرات القدس’’ علامہ بدر الدین سرہندی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمایا:
غجدوان میں ایک بہت بڑے محقق عالم تھے، ان کا ایک شاگرد حضرت خواجہ عبد الخالق سے متاثر ہو کر مرید ہو گیااور اکتساب فیض کرنے لگا۔ مذکورہ عالم صاحب کو معلوم ہو گیا، انھیں بہت گراں گزرا کہ ہم اتنے بڑے عالم اور ہمارا شاگرد کسی دوسرے کی عقیدت کا شکار ہو۔ چناں چہ جب وہ درس گاہ میں پڑھنے آتا تو وہ عالم اس پر اور حضرت خواجہ قدس سرہ پر چوٹ کرتے۔ جب ان کا یہ عمل حد سے بڑھا تو اس شاگرد نے جو کہ صاحب کشف ہو گیاتھا ایک دن ان سے کہہ دیا کہ آپ راتوں کو زناکاریاں کرتے ہیں اور پھر ایسے بزرگوں پر طعن کرتے ہیں۔ واقعہ چوں کہ سچ تھا، ان عالم پر بڑا گہرا اثر پڑا اور انھوں نے جرم کا اعتراف بھی کر لیا، اسی شاگرد سے کہا کہ تمھیں یہ جرم کیسے معلوم ہو گیا؟ اس نے کہہ دیا کہ جن پر آپ روز طعن و تشنیع کرتے ہیں ان کے فیضان سے ہم آپ کے وہ اعمال و کرتوت دیکھ لیتے ہیں جو آپ تنہائیوں میں کرتے ہیں۔ مولانا کا مزاج بدلا، اب انھیں یقین ہو گیا کہ حضرت خواجہ یقیناًبزرگ آدمی ہیں۔ ایک دن ہمت کرکے حضرت خواجہ قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں چالیس سال سے طلبہ کی تدریسی اور علمی خدمت کر رہا ہوں، آپ توجہ فرمائیں اور بتائیں کہ میرا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہے کہ نہیں؟ حضرت خواجہ قدس سرہ نے فرمایا کہ میں عرض کروں گا اورجب معلوم ہو جائے گا، بتاؤں گا۔ مولانا صاحب برابر خدمت میں جاتے رہے۔
ایک دن حضرت خواجہ قدس سرہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا ہے کہ ان مولانا سے کہو کہ انھوں نے ایک دن بھی کبھی ہماری خاطر نہیں پڑھایا ہے، جب یہ پڑھانے بیٹھتے تو نیت کرتے، آج میں ایسی تقریر کروں گا کہ طلبہ عش عش کر اٹھیں گے، میری علمی عظمت کا سکہ ان کے دلوں میں بیٹھ جائے گا اور مجھے سب سے بڑا عالم سمجھیں گے وغیرہ وغیرہ۔ مولانا سن کر رو پڑے اور تامل کرنے کے بعد بتایا کہ واقعتاً میں نے ایک دن بھی رضاے الٰہی کے لیے تعلیم نہیں دی۔
یہ واقعہ آج کے سارے علما کے لیے عبرت و نصیحت ہے۔ نفس کا اس قسم کا حربہ اکثر
بڑے علما و مقررین پر کامیاب ہو جاتا ہے اور اکثر لوگ علما کی علمی شوکت کی وجہ سے تعظیم و تکریم وغیرہ اس طرح کرتے ہیں کہ نفس پورے طور پر حاوی ہو جاتا ہے اور وہ تکبر و عجب وغیرہ کا شکار ہو جاتے ہیں اور بہت سے تو ایسے ہیں جو ہمہ و قت اسی تعظیم و تکریم کے خواہاں رہتے ہیں۔ اگر کسی نے اس قدر تعظیم نہ کی تو اسے برا سمجھتے ہیں۔ آج کے اکثر مشائخ بھی اسی بلا میں مبتلا ہیں۔ اب پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے اور آج اکثر اہل سنت کے باہمی جھگڑے اور تعصبات اسی کا نتیجہ ہیں۔
یہ بھی معلوم رہے کہ آج کے دور میں اپنے ملک میں ہم دیکھتے ہیں کہ مدارس و جامعات میں عام طور پر طلبہ کے والدین دینی جذبے کے تحت لاتے ہیں۔ ان بچوں کو کوئی خاص دینی شعور نہیں ہوتاہے نہ ان کی اچھی یا بری کوئی نیت ہوتی ہے۔ جب مدارس میں پروان چڑھتے ہیں اور ان کا شعور کچھ بیدار ہوتا ہے اور مقررین و شعرا غیرہ کے نذرانے دیکھتے ہیں اوربڑے علما و مشائخ کی تعظیم و تکریم ملاحظہ کرتے ہیں تو ان کی نیتیں بدلنے لگتی ہیں اور بہت سے اس دنیا کی نیت کا شکار ہو کر برباد ہو جاتے ہیں۔ مدارس و جامعات میں اب ایسے صالح مدرسین کا وجود ختم سا ہو گیا ہے، اس لیے طلبہ کو جس وقت تھامنے کی ضرورت ہوتی ہے، انھیں کوئی تھامتا نہیں ہے؛ اس لیے بگڑ جاتے ہیں۔ غرضیکہ تحریر و تقریر، تعلیم و تدریس اور پیری مریدی وغیرہ کا حال اسی طرح دیگر ذرائع خدمت سب دنیا کی نذر ہوتے جا رہے ہیں اور شہرت و عزت اور دولت کی خواہشات بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ ان سب کا وبال اگر یہیں تک محدود رہتا تو اتنا افسوس نہ ہوتا۔ سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان کے نتائج و اثرات اس قدر برے برآمد ہوتے ہیں کہ بیان سے باہر ہے اور آج اہل حق کا باہمی انتشار و اختلاف اسی کا نتیجہ ہے۔
معلوم ہو کہ نیت چوں کہ قلب کے ارادے کا نام ہے اور وہ چھپی ہوئی چیز ہے، اس لیے علماے کرام نے کچھ علامتیں مقرر کی ہیں جن سے پتہ چل جاتا ہے کہ عالم آخرت کون ہے اور عالم دنیا یا عالم سو کون ہے۔ چند علامتیں یہ ہیں: