باب ۲ از ۶صفحات ۲۲–۳۱
پہلی علامت
نماز باجماعت اور سنت موکدہ کا پابند: علماے کرام نے تو صرف بلا عذر شرعی تارک جماعت کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ عالم آخرت نہیں، بلکہ علماے سو سے ہے۔ آج تو ایسا حال ہےکہ بہت کم پانچ نمازوں کے پابند ملیں گے۔ اکثر تو ایک دو وقت تک کی نہیں پڑھتے۔ پس کہیں لوگوں میں پھنسں گئے تو مجبوراً پڑھ لی۔ بعض ایسے ہیں جو حضر میں پڑھ لیتے ہیں اور سفر میں غائب کر دیتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جوپابند ہیں مگرجماعت سے بہت کم پڑھتے ہیں، جو مساجد کے امام ہیں ان کی مجبوری ہے، یہی معاش کا ذریعہ ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ مدارس و جامعات میں نماز کا جذبہ ہی نہیں پیدا کیا جاتا ہے۔
اس دور کے عجیب حالات ہیں، علما کہلانے والوں کی اکثریت مدارس و جامعات تو براے حصول معاش قائم کر رہی ہے۔ مقصود رضاے الٰہی، ثواب آخرت یا اسلام و سنیت کی ترویج و اشاعت نہیں ہے؛ اس لیے طلبہ کی تربیت پہ ان کی کوئی توجہ نہیں ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کچھ طلبہ مدرسے میں رہیں تاکہ انھیں دکھا دکھا کر چندہ لیتے رہیں اور سرکاری امداد بھی ملتی رہے۔ پرانے علما نے جو مدارس تبلیغ سنیت کے لیے قائم کیے تھے انھیں بھی دنیا کا شکار کر دیا۔ نماز سے کوئی دل چسپی نہیں، جب اساتذہ خود نہیں پڑھتے تو طلبہ پرزور کس طرح دے سکتے ہیں۔
کرنے کے کام:
آج سب سے اہم ضرورت مدارس کی اصلاح کا ہے۔ طلبہ کو آغاز ہی سے مخلص بنایا جائے، اور اخلاص کے فضائل کثرت سے بیان کیے جائیں، انھیں برابر اخلاص کے فوائد سے آگاہ کیا جائے۔ ان کی تقریریں تحریریں سب رضاے الٰہی، ثواب آخرت اور خدمت دین کے لیے ہوں۔
دوم: علوم دینیہ کی رغبت کثرت سے پیدا کی جائے۔ اس کا طریقہ وہی ہے جو قرآن و سنت نے اپنایا ہے کہ فضائل و مناقب اور فضائل و منافع سے آگاہ کیا جائے اور کثرت سے بار بار آگاہ کیا جائے کہ علم کی بدولت آخرت اور دنیا میں کیا ملتا ہے اور جاہل رہنے کے نقصانات کیا ہیں اور بندہ کن کمالات سے محروم رہتا ہے اور دنیوی و اخروی خسارہ کیا ہے۔
سوم: علم پرعمل کو لازم کیا جائے۔ خاص کر نماز باجماعت کے تعلق سے سخت اقدامات اختیار کیے جائیں اور نوافل تک پر زور دیا جائے اور صرف جبراً نہیں، بلکہ اس میں شوق و محبت پیدا کیا جائے اور جذبہ پیدا کیا جائے کہ جہاں رہیں نماز کی دعوت دیں۔
چہارم: انھیں اخلاق حسنہ سے آراستہ کیا جائے اور رذیل افعال واخلاق سے پاک کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔خاص کر فتّین نہ بنایا جائے، آپس میں محبت کرنے والے، ہر سلسلہ و مشرب کے علما و مشائخ کی قدر کرنے والابنایا جائے، کذب و افترا، تحقیر و تذلیلِ مسلم، زنا و لواطت، چوری، غیبت اور چغلی وغیرہ مباحث و تناقض سے پاک کرنے کی بھر پور کوشش کی جائے۔
پنجم: داعیانہ اوصاف اور قائدانہ کمالات سے آراستہ کیا جائے اور جس قدر جذبہ دعوت پیدا کیا جاسکتا ہے کیا جائے اور باضابطہ اس معاملے میں تربیت پر دھیان دیا جائے، دعوت کے فضائل، فوائد اور طریقوں سے مکمل آگاہ کیا جائے۔ نیز فرق باطلہ کے طرق دعوت سے بھی باخبر کرنا بے پناہ ضروری ہے۔
ششم: طلبہ و طالبات کی فکریں بلند کی جائیں، ان میں مخفی صلاحیتوں کو بیدار کیا جائے، جس چیز کی جس میں زیادہ صلاحیت ہے اسے اسی کام کے لیے تیار کیا جائے اور ان کے ذہن و دماغ میں اچھی طرح بسایا جائے کہ خدا کی بخشی ہوئی طاقتوں کو اپنوں پر خرچ کے بجاے دوسروں پر خرچ کریں۔ اس کے فضائل و منافع سے خبر دار کیا جائے۔
ہفتم: انھیں تحصیل معاش کے جائز طریقے بتائے جائیں اور سمجھایا جائے کہ علوم دینیہ کی تحصیل اور اس پر عمل صرف خدا کے لیے کریں، قوم جو اپنی طرف سے دے دے اسے قبول کریں اور جن خدمتوں کا وہ معاوضہ لے رہے ہیں ان کے علاوہ وہ جو اسلام و سنیت کے لیے کر سکتے ہیں، رضاے الٰہی کے لیے کرتے رہیں اور اگر تھوڑا وقت خرچ کرکے کوئی ذریعہ معاش اپنا سکتے ہیں تو اپنائیں وہ بھی نیک نیتی کے ساتھ تاکہ ان کی ساری خدمتیں؛ امامت و تدریس، تقریر و
تحریر اور دعوت و تبلیغ سب خدا کے لیے ہو جائے۔
معلوم رہے کہ ان سب کے لیے ایک خالص نظام تربیت مقرر کرنے کی ضرورت ہے اور برابر اصلاحی مجالس و محافل منعقد کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن و سنت کا طریقہ ترغیب و ترہیب اور ان آیات واحادیث کا انتخاب ضروری ہے جن کا تعلق انھیں امور سے ہے۔ نیز صوفیہ کرام کی روش اور ان کا طریقہ تربیت اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی دھیان رہے کہ ظاہر و باطن میں ایمان و سنیت کا صحیح نفاذ جب ہوتا ہے کہ تزکیہ نفس و تصفیہ قلب کی نعمت ہاتھ آجائے اوریہ کام صوفیہ کاملین کا ہے جو آج مفقود ہیں۔ ایک طریقہ آج کے زمانے میں یہ اپنایا جا سکتا ہے کہ حضرت امام غزالی قدس سرہ کی احیاء العلوم وغیرہ اور دیگر صوفیہ محققین کی کتب تصوف کا انتخاب کر لیا جائے۔ ان بزرگوں نے ایک بڑا کام یہ کیا ہے کہ اخلاق حسنہ و سیئہ کی فہرست بھی لکھ دی اوراخلاق حسنہ سے آراستہ کرنے اور اخلاق سیئہ کے ازالے کی تدابیر بھی تفصیل سے بیان کر دی ہیں۔ خاص کر احیاء العلوم جو ایک جامع کتاب ہے اور تربیت کے لیے بہت کافی ہے۔
عدم تربیت کے نقصانات:
مدارس و جامعات میں تربیتی فقدان نے طلبہ کو جن نقصانات اورخساروں سے دوچار کیا ہے وہ بیان سے باہر ہیں۔ چند یہ ہیں:
۱۔ ثواب آخرت اور ان فضائل و مناقب سے محروم رہ گئے جو علماکے لیے وارد ہوئے ہیں، یہ بہت بڑا خسارہ ہے۔
۲۔ علوم دینیہ کی رغبت ختم ہو گئی۔ رفتہ رفتہ علم اٹھتا ہی گیا اوراب بہت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ علم محنت چاہتا ہے، اس کے لیے مشقتیں برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔ جب اس کی قدر و قیمت دلوں سے نکل جائے گی تو کیوں کوئی اس کے لیے محنت کرے گا؟ مطلوب جس قدر عزیز ہوتا ہے اسی قدر انسان اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دین پر دنیا غالب
آگئی اس کے لیے ہر کوئی محنت کرنے کے لیے تیار ہے۔
۳۔ بد عملی سے اسلام و سنیت کا بڑا نقصان ہورہا ہے اورہماری بد اعمالیوں کو دیکھ کر یافرق باطلہ دکھا کر لوگوں کو سنیت سے محروم کر رہے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ بدعملی ہماری نشانی بن گئی ہے۔
۴۔ انحطاط علم کی وجہ سے ہم مسائل و احکام کے درجات نہیں جانتے ہیں۔ ہم جس کو جو چاہتے ہیں کہہ دیتے ہیں۔ خود تارک فرض ہیں اور دوسروں کو ترک مستحبات کی وجہ سے نشانہ تنقید بناتے ہیں اور جس پر جو چاہتے ہیں حکم صادر کر دیتے ہیں۔
۵۔ ہم مختلف پارٹیوں اور جماعتوں میں بٹ گئے اور سب ایک دوسرے سے ان بنیادوں پر نفرت و کراہت کرنے لگے جو محبت و الفت کا سبب تھیں، جیسے پیری مریدی وغیرہ۔ ان نفرتوں کی وجہ سے خواہ علما اور ان کے شاگردوں میں ہوں یا پیروں اور ان کے مریدوں میں ، ہم بہت بڑے اخروی خسارے کا شکار ہو گئے، گناہوں پر دلیر ہو گئے اور کھلے محرمات کا ارتکاب کرنے لگے۔ حد تو یہ کہ برے اعمال کو ہم نیک اعمال سمجھنے لگے، جیسے غیبت، چغلی، ایذاے قلب مومن اور علما کی تحقیر و تذلیل اور کچھ لوگوں کا تو شعار یا اوڑھنا بچھونا ہی یہی کام ہیں۔
۶۔ جاہل پیروں اور پیشہ ور مقرروں کو خوب پنپنے کا موقع ملااور مل رہا ہے جو بجاے ہدایت کے ضلالت کا کام کر رہے ہیں۔ عوام الناس ان کو ولی و بزرگ سمجھتے ہیں، مال و منال کے سارے نذرانے بھی ان کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اس سے آج ذمہ دار علما کو دینی کام کرنے میں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پیروں اور ان کی اولاد کو علم و عمل کی زحمتوں کے بغیر جو عقیدتوں کے نذرانے، دست بوسی، قدم بوسی اور دیگر افعال تعظیم و تکریم کے ذریعہ مال و نوال ہدایا و تحائف کی صورت میں مل رہے ہیں یہ سب چیزیں علم سے بے رغبتی کا سبب بن گئی ہیں۔ ان کے شہزادوں کو علم و عمل سے کوئی سروکار نہیں۔ انھیں دیکھ کر دوسرے بھی سوچ رہے ہیں کہ جب اس قدریہ دنیا کی نعمتیں اس طریقے مل رہی ہیں تو یہی کامیابی ہے، لہٰذا پیر بن جاؤ۔ اہل
علم جانتے ہیں کہ یہ خسارہ اپنے دامن میں کس قدر نقصان رکھتا ہے۔ جاہل پیروں اور ان کے شہزادوں کی دینی مجالس و محافل میں جو تعظیم و تکریم کی جاتی ہے اسے دیکھ کر خون کے آنسو بہتے ہیں۔ ذی استعداد علما بیٹھے رہتے ہیں انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں، نہ کوئی انھیں موٹے نذرانے دینے والا یا ان کی آمد پر ان کے لیے کوئی کھڑا ہونے والانہ اناؤنسر اور پیشہ ور مقرر ان کا صحیح تعارف کرانے والے، شہزادے کیا آگئے سب کچھ ان کے لیے، ان کی مدح و تعریف میں وہ مبالغے اور تعظیم و تکریم کے وہ جوہر دیکھنے میں آتے ہیں کہ حساس انسان محوِ حیرت بنا رہ جاتا ہے اور ذی علم انصاف پسند لوگ دین کی دھجیاں اڑتے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔
۷۔ فتنوں کے دروازے کھل گئے، دینی سمجھ ختم ہو گئی اور سنیت بکھر کر رہ گئی ہے۔ آج حال یہ ہے کہ کوئی باصلاحیت عالم اب اپنی عزت محفوظ نہیں سمجھ رہا ہے۔ ذرا سا وہ اپنے علم و عمل اور دینی خدمتوں کی وجہ سے مقبول ہو ا تو فوراً اسے ذلیل کرنے کا کوئی طریقہ وجود میں آجائے گا۔ ایک تو ہم میں کام کرنے والے کم ہیں اور جو کر رہے ہیں ان کے پیر خود اپنے ہی گھسیٹ رہے ہیں۔ یہ فتّین لوگ دوسروں کو برداشت کر رہے ہیں ، لیکن اپنوں کو برداشت نہیں کر پا رہے ہیں۔
۸۔ ہم میں جس قدر بلند فکر کے داعیوں اور مبلغوں کی ضرورت ہے اورجس کثرت سے ہے وہ پیدا نہیں ہو پا رہے ہیں اور جس قدر بڑے اہل علم کی ضرورت ہے وہ تیار نہیں ہو پا رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام و سنیت کی دعوت و تبلیغ جس موثر پیراے میں ہونی چاہیے، نہیں ہو پا رہی ہے، اور جس قدر عالمی پیمانے پر یہ کام ہونا چاہیے، نہیں ہو پا رہا ہے۔ جن طرق دعوت کے ذریعہ کاموں کی ضرورت ہے، نہیں اپنائے جا رہے ہیں۔ نیز علوم دینیہ کی بقا و تحفظ اور ترویج و اشاعت کا جو کام ہونا چاہیے، نہیں ہو پا رہا ہے۔ یہ چند نقصانات ہیں جو دیگر خساروں اور نقصانات پر مشتمل ہیں۔ ذمہ دار علما کو چاہیے کہ ایسا انقلاب لانے کی کوشش کریں جو آج کے زمانے میں درکارہے، ان طوفانوں کا مقابلہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس وقت کے حالات کن محنتوں کے متقاضی ہیں، انھیں سمجھنے کے لیے علم و عقل اور حالات سے مکمل آگاہی کی ضرورت ہے۔
طالبان دنیا اور ان کی علامتیں:
معلوم رہے کہ قرآن و سنت اور ارشادات سلف میں طلبہ اور علما دونوں ہی کے بے شمارفضائل و مناقب وارد ہوئے ہیں جو علم دین خدا کی رضا و خوشنودی اور براے آخرت و خدمت دین طلب کرتا ہے وہ طالب علم ان فضائل و مناقب کا مستحق ہے جو وارد ہوئے اور جو علم دین مذکورہ نیت کے بجائے دنیا کے لیے طلب کرتا ہے وہ ان سزاؤں کا مستحق ہے جو قرآن و حدیث میں وارد ہوئیں۔ اسی طرح عالم آخرت وہ ہے جس کی تعلیم و تدریس وغیرہ مذکورہ نیتوں کی وجہ سے ہو۔ چوں کہ نیتیں مخفی چیزیں ہیں جیسا کہ گزرا،اس لیے علماے کرام نے دونوں کی کچھ علامتیں مقرر کی ہیں، جو علامت گزری اس کا تعلق دونوں سے ہے۔ دنیا دار طالب علم کی مزید علامتیں علماے کرام نے یہ بیان فرمائی ہیں:
۱۔ طالب علم خواہشات نفس کا تابع ہو، بجاے شریعت کی پیروی کے اپنے نفس کی خواہشوں کی پیروی کرتا ہو۔
۲۔ دنیا کا حریص ہو اور دنیا کو مباح طریقے کے بجاے غیر مباح طریقے سے حاصل کرتا ہو۔
۳۔ ضعیف الراے یعنی عقل وخرد کمزور ہواور راے میں خطا کرتا ہو۔
۴۔ جن علم کا سیکھنا فرض عین ہے اور جن پر عمل ضروری ہے انھیں چھوڑ کر پہلے ان علوم میں مشغول ہوجن کا سیکھنا فرض کفایہ ہے۔ جیسے نحو و صرف وغیرہ (کفایۃ الاتقیاء)
۵۔ فرائض و واجبات اور سنن موکدہ پر عمل نہ کرتا ہو۔
یہ چند علامتیں ان طلبہ کی ہیں جو آخرت کے طالب نہیں ہیں، بلکہ طالب دنیا ہیں اور یہ وارد شدہ فضائل و مناقب کے مستحق نہیں ہیں۔ چند باتیں ملحوظ رکھی جائیں؛ ہمارے یہاں رائج درس نظامی میں علوم آلیہ؛ صرف و نحو وغیرہ پہلے پڑھائے جاتے ہیں، تفسیر و حدیث بعد میں، اگرچہ فقہ کی چند مختصر کتب چند ابتدائی درجات کے بعد شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ طریقہ اس سے خارج مانا
جائے جو چوتھی علامت میں بیان کیا گیا۔ یہاں ایک مجبوری ہے کہ ہم عجمی لوگ نحو و صرف کے بغیر قرآن و سنت وغیرہ نہیں سمجھ سکتے ہیں تو پھر علم کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ لیکن ساتھ ہی یہ بھی ملحوظ رہے کہ عمل طلبہ وطالبات پر آغاز ہی سے لازم ہے۔ اگر نابالغ ہیں تب بھی حضور سرور عالمﷺ کا حکم یہ ہے کہ اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہو جائیں اور جب دس سال کے ہو جائیں تو مار کر پڑھاؤاور ان کے بستر جدا کردو (مشکوٰۃ وغیرہ) اور اگر بالغ ہیں تب تو ظاہر ہے کہ عمل لازم ہے۔ لہٰذا یوں کہا جائے کہ زبانی طور پر آغاز ہی میں بقدر ضرورت علم دین سکھا دیا جائے۔ اس طرح پہلے عقائد و اعمال کا ضروری علم براے عمل حاصل ہو جائے گا۔
۲۔ تعلیم کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ قرآن و سنت و فقہ کے علوم کی خاص ترغیب دیں۔ آج سے چند سال قبل تک منطق و فلسفہ وغیرہ کا بھوت اس قدر سوار تھاکہ قرآن و سنت اور فقہ کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے تھے ، نہ خاص توجہ سے پڑھتے تھے اور نہ ان کے اصول سے کوئی خاص دل چسپی رکھتے تھے۔ آج اس کا نتیجہ بے پناہ خراب نکلا۔
الف۔ علم کلام جس کے بارے میں علماے کرام فرماتے ہیں کہ حکم عقلی کی تینوں قسموں کے اعتبار سے فرض عین ہے۔ لہٰذا ہر مرد و عورت پر فرض ہے کہ وہ جانے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے کیا واجب ہے، کیا جائز ہے اور کیا محال ہے۔ اسی طرح انبیاے کرام علیہم السلام کے لیے کیا واجب ہے، کیا جائز ہے اور کیا محال ہے۔ نیز سید انبیاﷺ کے حقوق سب سے زیادہ ہیں۔ اسی طرح یوم آخرت کے لحاظ سے امورمذکورہ کا علم ضروری ہے۔ آج اس قدر غفلت ہے کہ فارغ طلبہ کو بھی چند واجبات و جائزات و محالات پتہ نہیں ہیں۔
علماے کرام نے صراحت فرما دی ہے کہ انسان پر سب سے پہلا واجب معرفت الٰہی ہے۔ امور مذکورہ کو جانے بغیر ، معرفت کا حصول کیسے ہو سکتا ہے؟ لہٰذا خاص کر مدرس کو چاہیے کہ وہ باضابطہ ان کو پڑھائیں ، سکھائیں اور زبانی یاد کرائیں۔
ب۔ آج کے غیر مقلدین نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ عوام خاص کر عصری
تعلیم یافتہ حضرات کا یہ ذہن بنا دیا ہے کہ ہر مسئلے کا جواب قرآن و حدیث سے مانگتے ہیں۔ دوسرے اپنے مذہب باطل کے فروغ کے لیے احناف کی موید احادیث کو ضعیف اور رفع یدین، آمین بالجہر کی حدیثوں کو صحیح قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح تقلید اور اس کے حکم وغیرہ کے تعلق سے عوام کو ایسی بحثوں میں الجھا دیا ہے کہ اب وہ علما سے بحث کر بیٹھتے ہیں اور ہمارے عام علما کہلانے والوں کو نہ حدیث کی اصطلاحات سے واقفیت ہے نہ قرآن و سنت کے علوم سے؛ اس لیے عقائد و اعمال میں اکثر خاموش ہو جانا پڑتا ہے جو عوام میں حقارت اور کمزوریِ مذہب کا سبب بنتا جا رہا ہے۔
ج۔ قرآن و حدیث کی طرف خاص رغبت نہ ہونے کی وجہ سے ہم میں عملی کمزوریاں پیدا ہوئیں۔ ہم نہ عمل کے فوائد جانتے ہیں نہ ترک کی سزاؤں سے واقف ہوتے ہیں؛ اس لیے جو اہتمام، پابندی اور استقامت چاہیے وہ نہیں ہوتی اور بڑوں کو دیکھ کر چھوٹے اور اساتذہ کو دیکھ کر طلبہ میں بدعملی پیدا ہوئی اور ہو رہی ہے۔ آج بھی بہت سے اساتذہ درس گاہوں میں رہتے ہوئے قریب کی مسجدوں میں براے نماز نہیں جاتے ہیں۔
۳۔ اب منطق و فلسفہ کابھوت کم ہو گیا ہے، لیکن اس کی جگہ دیگر دنیوی علوم اور زبانوں نے مثلاً انگریزی، کمپیوٹر وغیرہ نے لے لی ہے۔ لہٰذا ذمہ داروں کوچاہیے کہ درجات کا خیال رکھیں اور ہر ایک کو اس کا درجہ دیں۔ علوم قرآن و حدیث و فقہ کی اور ان کے اصول کی تعلیم نیز عقائد و اعمال کے ساتھ ساتھ اخلاق و سیرت نبوی پر بھی خاص دھیان دیں۔ یہ بھی ماضی کے سانحات سے ہے کہ علم اخلاق و سیرت پر کچھ بھی توجہ نہیں دی گئی۔ جب کہ سب سے اہم مسئلہ سیرت و اخلاق سے آراستہ کرنے کا ہے۔
۴۔ جو طالب علم ہواےنفس کا متبع ہو، اسے بہت سدھارنے کی کوشش کی جائے۔ خواہشات نفسانی کی پیروی کرنے والوں کے لیے اچھے نتائج برآمد ہونے کی امید نہیں ہوتی ہے۔یہ لوگ دنیا کے لیے دین کا استعمال کرتے ہیں اور اپنی بداعمالیوں سے ہمیشہ دین کو نقصان
پہنچاتے ہیں اور ایسے لوگوں سے ہمیشہ فتنے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ صرف اپنی برتری کے خواہاں رہتے ہیں۔ ہر محفل میں اپنے نعروں اور نذرانوں کی فکر رہتی ہے، دوسروں سے بغض و کینہ اور ان کی تحقیرو تذلیل بھی ان کا شعار ہوتی ہے۔یہ خواہشات نفس کی تکمیل کے لیے کوئی بھی اقدام کر سکتے ہیں۔ انھیں کسی طرح کی کوئی شرم و حیا نہیں ہوتی ہے، آج جتنے فتنے اٹھ چکے ہیں یا اٹھ رہے ہیں، زیادہ تر ایسے ہی لوگوں کی دین ہیں۔
اسی طرح عقل و راے کی کمزوری بھی بہت وبال لاتی ہے۔ یہ زمانے کے تقاضوں سے بے خبر، لکیر کے فقیر ہوتے ہیں۔ ایسے حضرات ان علما کے لیے بہت بڑا فتنہ بنتے ہیں جوعلم کے ساتھ ساتھ عقل و خرد اور فہم ثاقب کے مالک ہوتے ہیں، دین کی غرض اور مزاج پہچانتے ہیں پرانے زمانے کے علما علوم سکھانے میں بہت محتاط ہوتے تھے، وہ ہر رذیل و خسیس کو علم نہیں سکھاتے تھے، ان کی بلند نگاہیں اہل و غیر اہل کو بہت جلد پہچان لیتی تھیں۔ حدیث شریف میں نااہل کو سکھانا ایسا ہے جیسے خنزیر کے گلے میں موتیوں کا ہار ڈالنا۔ پرانے علما چوں کہ دینی عقل رکھتے تھے، دین دار ہوتے تھے؛ اس لیے وہ بہت جلد اہل و نااہل کو جان لیتے تھے۔ آج بہت سے مربیّ و معلم کہلانے والے بھی جب اسی صف میں کھڑے ہوتے ہیں تو وہ دوسروں کو کیا جانیں گے؟
یہاں یہ بھی معلوم رہے کہ نااہل طلبہ اور دنیا دار علم حاصل کرنے والوں کو علم دین سکھانا علما نے حرام و ناجائز قرار دیا ہے۔ کفایۃ الاتقیاء میں فرماتے ہیں کہ انسان جس طرح نیت بد کے ساتھ علم سیکھنے میں گنہ گار ہوتا ہے اسی طرح اس شخص کو علم سکھانے میں گنہ گار ہوتا ہے جو دنیا کے لیے علم حاصل کرتا ہے۔ جب کہ طالب علم کی نیت بد اسے معلوم ہو؛ کیوں کہ اس صورت میں وہ معصیت اور گناہ پر مددگار ہوااور گناہ پر مدد گناہ ہے اور جب اس کی تعلیم سے گنہ گار ہوا تو تعلیم سے رکنا واجب ہوا؛ کیوں کہ معصیت سے رکنا واجب ہے۔ ہاں اگر طالب علم کی نیت سے ناواقف ہے تو ناواقفیت کی وجہ سے معذور ہے، جان لو! جن کی نیت فاسد ہے، اسے علم سکھانا
ایسا ہے جیسے رہزن کے ہاتھ میں تلوار دینا۔ پس جس طرح علم صلاحیت رکھتا ہے کہ اسے قر ب الٰہی کے حصول کا ذریعہ بنایا جائے۔ پس تلوار جنگ کی صلاحیت رکھتی ہے کہ اس کے ذریعہ غزوہ کیا جائے اور دشمنوں کی گردنیں ماری جائیں۔ پس کوئی شخص جس سے تلوار طلب کر رہا ہے وہ جانتا ہے کہ یہ تلوار رہزنی اور مسلمانوں کی ایذا میں استعمال کرے گاتو ایسے شخص کو تلوار دینا حرام ہے۔ اسی طرح وہ عالم جس سے علم طلب کیا جا رہا ہے وہ جانتا ہے کہ طالب علم دین کی رہزنی کے لیے طلب کر رہا ہے تو اسے علم دین سکھانا حرام ہے، بلکہ یہ زیادہ برے حال والا ہے؛ کیوں کہ اس سے دین کا نقصان حاصل ہوگا اور تلوار سے دنیا کا نقصان ہے اور دین کی معصیت بڑی ہے۔ ہاں جانتا ہے کہ اس کوعلم نافع سکھائے گا تو اس کا یہ مرض دور ہو جائے گا (تربیت سے صحیح ہو جائے گا) تو تعلیم میں کوئی حرج نہیں، بلکہ واجب ہے؛ کیوں کہ یہ مرض اس کے قلب میں ہے، اس کا علاج اسی قسم کا علم نافع ہے۔ معلوم رہے کہ علم نافع ہر وہ علم ہے جس میں تخویف و تحذیر ہویعنی جس کی وجہ سے دل میں خوف و خشیت پیدا ہو اور جو گناہوں سے بچائے۔ انھی میں سے قرآن و سنت کا علم ہے۔