باب ۳ از ۳صفحات ۳۳–۴۰
معارف کے اقسام
شریعت کی وضع چوں کہ نفس امارہ کے خلاف واقع ہوئی ہے اور انسان کا بڑا امتحان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی چاہتوں پر عمل کرتا ہے یا اپنی خواہشات پر، شریعت پر عمل نفس پر بے پناہ گراں اور بھاری ہے۔ نفس امارہ کی خصوصیات سے ہے کہ وہ آزادی چاہتا ہے، کسی کی غلامی اور قید پسند نہیں کرتا ہے۔
دوسرے وہ علو و برتری کا خواہاں رہتا ہے اور ہر وقت اسے حاکم بننے کی طلب رہتی ہے۔ اسی سے بے شمار برائیاں اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ دوسرے قلب جو فطری طور پر نورانی ہے اور عالم امر سے تعلق رکھتا ہے یہ متعدد چیزوں سے گندہ ہو جاتا ہے۔ قلب و نفس کے اسباب کدورت و شرارت ہم دوسری تحریروں میں تفصیل سے ذکر کر چکے ہیں۔ تیسرے انسان کی تخلیق میں عناصر اربعہ بھی شامل ہیں، ان کے خود اثرات و خصوصیات ایسی ہیں جو بارگاہ نور سے دوری کا سبب ہیں۔
غرضیکہ صوفیہ کرام علیہم الرضوان نے باضابطہ تحقیق کی ہے اور مختلف ذرائع علم و ادراک کے ذریعہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بارگاہ الٰہی سے دور کرنے والے اسباب درج ذیل ہیں:
(الف) رذائل نفس (ب) لطائف امر کی غفلت (ج) جنس عناصر، اور عناصر( ) و نفس و قلب بہ روح، سر، خفی، اخفیٰ ان سب کے تصفیہ اور تزکیہ کی ضرورت ہے اور اسی سے خدا تک پہنچا جا سکتا ہے اور شریعت پر عمل آسان ہو سکتا ہے۔ اس وجہ سے انھوں نے تصفیہ قلب و تزکیہ نفس کے اصول و قوانین وضع کیے۔ ان کا یہ عمل نہایت حکمت پر مبنی تھا اور یہی وہ چیز تھی جس کی وجہ سے انھوں نے وہ اوصاف و کمالات اور اخلاق و عادات حاصل کر لیے جن کو گذشتہ اوراق میں آپ نے پڑھا اور اسی سے ان کے قلوب آئینہ کی طرح صاف و شفاف ہو گئے اور ان پر وہ علوم و معارف منکشف ہوئے اور ان حقائق سے آشنا ہوئے جن کو نظر و استدلال اور تعلیم و تعلم وغیرہ سے نہیں جانا جا سکتا ہے۔
شریعت پر عمل کی آسانی کے لیے صوفیہ کرام نے باضابطہ خانقاہیں بنائیں اور
..............
۔آگ، پانی، مٹی، ہوا۔
بیعت و ارشاد کو رواج دیا۔ خانقاہوں میں رکھ کر لوگوں کو شریعت کے عقائد و احکام بھی سکھائے، علوم باطن سے بھی آشنا کیا اور عملی مشق کرائی اور نہایت بلند و بالا آداب سے آراستہ کر کے قوم کی رہبری کے لیے مقرر کیا۔ اس طرح انھوں نے مختلف میدانوں میں مختلف کام کیے اور تصوف ایک باضابطہ مدون علم ہو گیا۔ آج ہمارے سامنے جو تصوف ہے اس کو ہم چند حصوں میں یوں تقسیم کر سکتے ہیں:
علم تصوف کے چند اقسام:
۱۔تصوف کے لغوی و اصطلاحی معانی و مفاہیم اور ان میں باہمی مناسبت۔ مختلف تعریفات کے اسباب، مبدأ و منشأ، نشو و نما، تصوف کی اصل۔
۲۔لفظ صوفی کے اطلاقات اور صوفیہ کے اقسام و طبقات اور سچے صوفی کے شرائط اور پابندیاں، صوفی کی وجہ تسمیہ، صوفیہ کے نظریات، عقائد، خصائص و محاسن وغیرہ۔
۳۔ صوفیہ کرام اور اتباع قرآن و سنت۔
۴۔صوفیہ کرام (قرآن و سنت کی فہم اور قرآن و سنت سے اخذ کردہ علوم، صوفیانہ تشریحات۔
۵۔آداب صوفیہ، یہ بہت قسم کے ہیں مثلاًبارگاہ الٰہی کے آداب و آداب مشیخت و آداب طہارت؛ وضو و غسل، آداب نماز، آداب صوم، آداب حج، آداب زکات و صدقات، آداب تلاوت، آداب اکل و شرب، آداب لباس، آداب خرقہ پوشی، آداب سفر و حضر، آداب محبت، آداب ضیافت، آداب وجد و سماع، آداب علمی مذاکرات، آداب کسب معاش، آداب خلوت و جلوت، آداب فاقہ کشی، آداب رحلت از دنیا، آداب صحبت، بیماری میں آداب صوفیہ، صوفیہ کے آداب ازدواج وغیرہ۔
۶۔احوال و مقامات توبہ و انابت، توبہ، قناعت، خوف و رجا، صبر و شکر، حب و رضا، فنا و بقا اور ان کے اقسام و انواع، قبض و بسط، ہیبت، انس، تواجد و وجد، وجود، جمع،
تفرقہ، جمع الجمع، غیبت و حضور، صحو و سکر ذوق، اثبات، سِر، تجلی، محاضرہ، مکاشفہ، مشاہدہ، لوائح، طوالع، لوامع، بوادر، ہجوم، تلوین، تمکین اور قرب و بعد وغیرہ۔
۷۔جن مقامات و منازل سے گذرے اور جو کیفیات و ارادات سے دو چار ہوئے ان کی تفصیلات و تعبیرات اور ان کے اقسام و انواع وغیرہ۔
۸۔سیر و سلوک اور ان کے اقسام و مقامات اور جذبہ اور اس کے اقسام، سالکین کی کیفیات، ان سب کو اور ان کے متعلقات کو کتاب اللمع قوت القلوب، عوارف المعارف، کشف المحجوب، رسالہ قشیریہ، کتاب التقرّب، نفحات الانس اور فتوح الغیب شریف وغیرہ میں تفصیل سے دیکھا جا سکتا ہے ان کے علاوہ دیگر حقائق و معارف وغیرہ کا بڑا ذخیرہ ہے جن کی قدرے تفصیل یہ ہے:
حقائق:
۹۔حقائق ذات الٰہی و صفات و اسما و افعال الٰہی جل و علا۔
۱۰۔حقائق و معارف حضور سید المرسلینﷺ۔
۱۱۔حقائق انبیا و مرسلین علیہم الصلوات و التسلیمات۔
۱۲۔حقائق صحابہ کرام و اولیاے عظام و دیگر حقائق ممکنات دنیا و آخرت وغیرہ۔
۱۳۔قرب الٰہی اور اس کے اقسام ذرائع و موانع وغیرہ۔
۱۴۔حقائق مقامات مقدسہ مدینہ طیبہ، مکہ مکرمہ اور بیت المقدس وغیرہ۔
۱۵۔ولایت و نبوت اور ان کے اقسام، ولایت انبیا علیہم السلام و ولایت ملأ اعلیٰ و ولایت اولیا نیز ولایت کے خصائص نبوت کے خصائص وغیرہ۔
۱۶۔کمالات اصلیہ و ظلیہ اور ان کے مزید اقسام۔
۱۷۔تجلیات و ظہورات اور ان کے اقسام، تجلیات ذاتیہ، صفاتیہ اور افعالیہ، ظہور عرشی، قلبی وغیرہ۔
۔انبیا علیہم السلام کے حقائق اور ان کے وجوہ تفاصیل و تفاوت و مراتب وغیرہ۔
۱۹۔اولیاے کرام اور ان کے اقسام؛ اولیاے عشرت و اولیاے عزلت نیز اقطاب اور ان کے اقسام ،غوث، اوتاد، ابدال، اخیار، نجبا، نقبا وغیرہ۔
۲۰۔سلاسل مختلفہ اور ان کے خصائص و لوازم اور ان کے اشغال و اوراد، اذکار اور ان کے منازل و مراحل وغیرہ۔
۲۱۔کشف اولیا اور ان کے اقسام، مکشوفات الٰہیہ و کونیہ کی تفصیلات و توضیحات۔
۲۲۔انسان کے اجزاے ترکیبیہ، لطائف و دیگر قویٰ و حواس اور ان کے حقائق ہر ایک کے خصائص و لوازم اور ہر ایک پر وارد ہونے والی تجلیات و انوار۔
۲۳۔مرشد و شیخ اور ان کے اقسام ہر ایک کی تفصیلات اور ان کے خصائص وغیرہ۔
۲۴۔فیض اور اس کے اقسام مختلفہ۔
۲۵۔اولیاے کرام کے معارف و حقائق میں اختلاف کے وجوہ و اسباب۔
۲۶۔ایمان اور اس کے اقسام کشفی و استدلالی تقلیدی نیز ایمان بالغیب وغیرہ مراتب اشخاص کے لحاظ سے ایمانوں کا تفاوت۔
۲۷۔اسلام و ایمان اور عبادات نماز، روزہ، حج وغیرہ کے حقائق و معارف۔
ان سب کے لیے حضرت شیخ ابن العربی قدس سرہ کی کتب مبارکہ خاص کر فتوحات مکیہ و فصوص الحکم اور بحر المعانی للشیخ سید عنبر حسینی سرہندی قدس سرہ، حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ کے مکتوبات کے تینوں دفاتر، ان کے فرزندان گرامی حضرت خواجہ محمد سعید و حضرت خواجہ محمد معصوم اور حضرت خواجہ معصوم کے فرزند گرامی خواجہ سیف الدین کے مکتوبات اور دیگر اولاد مجدد الف ثانی
کے مکتوبات۔ حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہید دہلوی اور ان کے خلیفہ و جانشین حضرت سیدنا شاہ غلام علی دہلوی کے مکتوبات و رسائل، حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی کی کتب و رسائل حضرت شاہ ولی اللہ اور ان کے فرزندوں خاص کر حضرت سراج الہند شاہ عبد العزیز کے بعض رسائل وغیرہ قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم العالیہ کا مطالعہ بے پناہ مفید ہیں۔ ان کے علاوہ بہت سی کتب صوفیہ و اولیاے کرام علیہم الرضوان کی کتب و رسائل میں حقائق موتیوں کی طرح بکھرے پڑے ہیں اگر سب کو یکجا کر لیا جائے تو معارف و حقائق کا بڑا ذخیرہ ہاتھ آجائےگا نیز بزرگوں کی سیرت کی کتابوں میں ان کے ملفوظات کی شکل میں بھی کافی حقائق مستور ہیں۔
تفاوت معارف:
صوفیہ کرام علیہم الرضوان کے معارف و حقائق کا جنھوں نے گہرائی سے مطالعہ کیا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان میں کافی تفاوت ہے،فقیر عفی عنہ کی نظر میں اس کے چند اسباب ہیں:
۱۔وصول الی اللہ کے راستے اور طرق مختلف ہیں اور ہر راستہ اپنی کچھ خصوصیات رکھتا ہے، ہر ایک کے منازل و مراحل جدا جدا ہیں مناظر الگ الگ ہیں جس نے جس راہ میں جو دیکھا وہ بیان فرمایا۔
۲۔قرب دو قسم کا ہے؛ الف۔ قرب نبوت، ب۔قرب ولایت۔ دونوں کے کمالات جدا جدا ہیں، رخ الگ الگ ہیں ان سے متعلقہ معارف الگ الگ ہیں، تبع تابعین کے بعد عام طور پر کمالات ولایت کا ظہور ہوا۔ اس دوران ارباب کشف بزرگوں سے جو بھی کمالات و معارف ظاہر ہوئے ان کا تعلق ولایت سے تھا حتیٰ کہ حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی قدس سرہ ہزارہ دوم کے مجدد ہوئے اور پھر سے کمالات نبوت و رسالت وغیرہ کا ظہور ہوا۔ اس کے علاوہ اور بہت سے تازہ حقائق سامنے
آئے اس لیے حضرت مجدد اور دیگرصوفیہ کرام علیہم الرضوان کے معارف و حقائق میں تفاوت عظیم ہے اور حضرت مجدد قد س سرہ کے معارف کتاب و سنت کے مکمل قریب ہیں۔
۳۔حضور سید المرسلینﷺ جامع کمالات الٰہیہ تھے۔ آپ کے خاص خاص افراد امت میں مختلف ادوار میں مختلف کمالات کا ظہور ہوا کسی میں کمالات متعلقہ بہ قلب کا کسی میں روح کا کسی میں سر کا وغیرہ وغیرہ اس لیے بھی معارف میں تفاوت پیدا ہو گیا۔
۴۔اولیاے کرام و صوفیہ عظام قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم العالیہ میں مراتب مختلف ہیں کسی کی رسائی ظلال اسما و صفات تک کسی کی اسما و صفات تک کسی کی اور اوپر تک جو جہاں رہا اس نے وہیں کی کیفیات و حالات اور کمالات و معارف بیان فرما دیے، پھر اس کے بعد جب ان کی رسائی اوپر ہوئی اور ترقی واقع ہوئی تو نئے کمالات سے آشنا ہوئے اور وہاں کے کمالات بیان فرما دیے۔ اسی لیے ایک ہی ولی کے معارف میں کہیں کہیں تفاوت ہو گیا جس طرح محققین علما و ائمہ کی تحقیقات میں تبدیلی آجاتی ہے اسی طرح ان صوفیہ محققین کے مکشوفات میں بھی منازل و مراحل کی تبدیلی سے ہے۔ دوسرے ان میں یہ بھی ہوتا ہے کہ کبھی یہ لوگ کسی چیز کو اجمالاً ادراک کرتے ہیں اور پھر بعد میں کبھی اس کی تفصیل سے آگاہ ہوتے ہیں اور وہ دونوں کے معارف بیان فرما دیتے ہیں۔
۵۔قرآن و سنت اور دیگر کلمات طیبہ اور دیگر تسبیحات و تحمیدات و تکبیرات اور مشائخ کرام کے الہامی اذکار و اشغال وغیرہ مختلف انوار و کیفیات و ظہورات اسی طرح ان کے مجاہدات و ریاضات اور عبادات و طاعات بھی جدا خاصیات و کیفیات اور انوار رکھتی ہیں اور ان کے ذریعہ مختلف مقامات کا کشف ہوتا ہے۔ ہر ایک نے اپنے اپنے
ادراک و فہم کے مطابق بیان کر دیے۔
یہ بھی نظر میں رہے کہ بعض امور کو بعض حضرات نے اپنے ادراک کے مطابق کسی کو قدرے تفصیل سے بیان فرما دیا مگر پھر بھی اس سے متعلقہ معارف باقی رہ گئے جن کا انکشاف بعد میں ہوتا جیسے وحدۃ الوجود کے بارے میں خود حضرت مجدد قدس سرہ نے اسی طرح کی صراحت فرمائی ہے ۔ یہ بھی دھیان میں رہے کہ بعض بزرگوں پر صحو کا غلبہ ہوتا ہے، بعض پر سکر کا، معارف سکریہ کا رنگ معارف صحویہ سے جدا ہوتا ہے۔ اس کائنات اور عالم رنگ و بو میں بےشمار عجائب قدرت ہیں اور مختلف النوع جلوے مستور و پنہاں ہیں،، کسی پر کسی کا ظہور ہوتا ہے کسی پر کسی کا، پھر ایک ہی مقام پر مختلف اشخاص پر مختلف خصوصیتوں اور وسعتوں کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ عام طور پر اختلاف معارف کے یہی اسباب ہیں جو اوپر مذکور ہوئے کم علم لوگ معارف مختلفہ میں تضاد تصور کر لیتے ہیں جب کہ ایسا نہیں ہے نیز صوفیہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو جو نسبتیں اور خصوصی تعلقات اللہ جل و علا کے ساتھ حاصل ہوتے ہیں ان کی کیفیتیں اور تقاضے جدا جدا ہوتے ہیں، ان نسبتوں اور ان کے تقاضوں کو حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ نے بڑی تفصیل سے کتاب ہمعات میں بیان فرمائے ہیں۔
آفاق احمد مجددی
۱۷؍محرم الحرام ۱۴۳۷ھ ۳۱؍اکتوبر۲۰۱۵ء
بروز شنبہ مبارک