مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiصوفیہ اور ان کے معارف‘‘مطالعہ تصوف’’ سے چند اقتباسات

باب ۲ از ۳صفحات ۱۹–۳۳

‘‘مطالعہ تصوف’’ سے چند اقتباسات

۱۔تمہیدی گفتگو میں لکھتے ہیں ‘‘اثناے تحریر مصنف کو یہ احساس برابر دامن گیر رہا ہے کہ کتاب کے فہم سے قاری کے ذہن پہ ایسا منفی تأثر قائم ہونے کا احتمال ہے جس کے زیر اثر وہ کہیں تصوف کو یکسر مسترد کرکے ان جواہر ریزوں سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے جو تصوف کے دفتروں میں پنہاں ہیں۔’’

۲۔تصوف اسلام کے جمالی پہلو کا ترجمان ہے اور اس کے ذریعہ بعض اوقات اسلام کی شان جمال کا بھر پور ظہور ہوا ہے ،اس کا تابناک اور روشن حصہ وہ ہے جو قرآن و سنت سے ماخوذ یا ہم آہنگ ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صالحین، قانتین، مخلصین، محسنین، عابدین، خاشعین، متوکلین، صابرین، اولیا، ابرابر وغیرہ ناموں سے اپنے نیک اورصالح بندوں کا ذکر کیا ہے۔ صدق، اخلاص، احسان، عبادت، خشوع، خضوع، فقر، توکل، صبر، شکر چوں کہ صوفیہ کی صفات ہیں اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ صوفیہ معنوی طور پر ان میں شامل ہیں اسی طرح قرآن میں توبہ ،انابت، اخلاص، صبر شکر، رضا، توکل،قرب، خوف، رجا، مشاہدہ، یقین وغیرہ کی تعریف آئی ہے۔

یہی چیزیں تصوف میں احوال یا مقامات کہلاتی ہیں علاوہ ازیں قرآن میں

دنیوی زندگی کو لہو و لعب اور دھوکے کی پونجی کہا گیا ہے۔ یہ چیز تصوف کی اساس ہے اور قرآن حکیم میں اخلاق حسنہ پر خاص زور دیا گیا ہے اور یہ سب کو معلوم ہے کہ تصوف حسن اخلاق کا دوسرا نام ہے۔ احادیث رسولﷺ میں بھی صدیقین، صالحین اور دوسرے ناموں سے مردان خدا کی تعریف کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ارشادات نبوی میں صدق، اخلاص، فقر، توکل اور صبر جیسے قلبی اور روحانی اعمال کی تاکید آئی ہے نیز سنت رسول اللہﷺ میں اخلاق عالیہ کو ممتاز مقام حاصل رہا ہے، خود رسول اللہﷺ کی حیات مبارکہ جس طرح تمام مسلمانوں کے لیے اسوۂ حسنہ ہے اسی طرح صوفیہ کے لیے بھی سر چشمہ ہدایت اور امر واقعہ یہ ہے کہ ائمہ تصوف نے اپنے اعمال یا احوال و مقامات کے لیے سنت رسول سے دلیلیں فراہم کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

۲۔عبادات میں سے ایمان، نماز، روزہ، زکات، حج اور دوسری عبادات کے متعلق صوفیہ کا نقطہ نگاہ وہی ہے جو امت کے سواد اعظم کا ہے لیکن صوفیہ کو دوسرے لوگوں پر اس لحاظ سے ایک گونہ برتری حاصل ہے کہ انھوں نے ارکان اسلام اور احکام شریعت کے متعلق بعض ایسے لطیف ارشادات اور دقیق نکات بیان کیے ہیں جو نگاہ ظاہر بیں کی حدود سے باہر ہیں۔ اخلاق و آداب اور احوال و مقامات کے باب میں صوفیہ نے جو نکتہ آفرینی کی ہے وہ اسلامی نظام اخلاق کا انمول سرمایہ ہے۔

(۳) امراض قلب کی نشان دہی اور ان کے علاج کے لیے صوفیہ نے جو نسخے تجویز کیے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ارباب باطن کتنی باریک بینی سے انسان کی باطنی بیماریوں کا سراغ لگاتے تھے اور وہ انسانی نفسیات کے کتنے بڑے رازداں تھے۔

۴۔عبادات اور ذکر و اذکار پر مداومت کا عمل بھی قرآن و سنت سے ماخوذ ہے۔ خانقاہی زندگی کے لیے ارباب سلوک کی خاطر جو دس آداب مقرر کیے گئے ہیں ان میں

سے ہر ادب قرآن کی ایک ایک آیت سے ماخوذ ہے اور ہر ادب کے لیے قرآن کی متعلقہ آیت بھی نقل کی گئی ہے۔

۵۔خورد و نوش، رہن سہن اور سفر و حضر کے سلسلے میں صوفیہ کے یہاں خاص آداب کی پابندی کی جاتی ہے، ان کے آداب کا بہت بڑا حصہ براہ راست قرآن و سنت سے لیا گیا ہے۔

۶۔قرآن اور صوفیہ کے عنوان کے تحت رقم طراز ہیں: ‘‘دوسرے علوم اسلامیہ کی طرح تصوف میں بھی قرآن کو مرجع اول کا مقام حاصل ہے۔ تصوف کی کتابوں میں ہر بحث کے شروع میں قرآنی آیات سے استدلال کیا گیا ہے۔ مطالعہ تصوف کے دوران قرآن سے صوفیہ کا کثرت استدلال قاری کے دل کو موہ لیتا ہے۔ صوفیہ کا طرز استدلال اس فہم پر مبنی ہوتا ہے جو تلاوت کے دوران اللہ تعالیٰ صوفی کو عطا کرتا ہے۔ چناں چہ فہم قرآن کے باب میں صوفیہ نے جو نکتہ آفرینی کی ہے ان سے تفسیر کی ضخیم کتابیں کالی ہیں۔ صوفیہ کے اخذ کردہ لطائف کا روشن پہلو یہ ہے کہ ان سے دل و دماغ منور ہوتے ہیں، فکر و نظر کو جلا ملتی ہے اور ایمان و یقین تازہ ہو جاتے ہیں۔

۷۔ڈاکٹر غلام قادر لون نے مذکورہ بالا عناوین کے علاوہ قرآن اور مقام رسول، استقامت، بندگی، سنت رسول، عبادات، نماز، زکات، حج کے عناوین قائم کیے اور ہر عنوان کے تحت صوفیہ کرام علیہم الرضوان کی ممتاز حیثیت بیان فرمائی۔ اخیر عنوان کے تحت قدرے تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں ‘‘یہی وہ اعلیٰ و ارفع تصور عبادت ہے جس نے ہر دور میں لاکھوں بندگان خدا کو متأثر کر کے ان کی ایسی کایا پلٹ دی کہ وہ روحانی مدارج کی بلندیوں تک پہنچ گئے اور حق یہ ہے کہ صوفیہ کا یہ تصور عبادت قلب و نظر کے لیے غذاے خاص ہے۔ نیز اسی عنوان کے تحت رقم طراز ہیں ‘‘اہل تصوف نے ان ہی تعلیمات کی روشنی میں مخلوق خدا پر شفقت، غریبوں اور

بیکسوں سے ہمدردی اور شکستہ دلوں کی تسلی کو اپنا شعار ہی نہیں جزوِ ایمان بنایا۔ پھر بعض جزوی مثالیں دینے کے بعدلکھتے ہیں ‘‘صوفیہ کی یہ دردمندی اور ہمدردی صرف مادی دائرے تک محدود نہیں تھی، اس کے پس پردہ اشاعت اسلام اور ایک صالح انسانی معاشرے کے قیام کا بے پناہ جذبہ بھی کار فرما تھا۔ انھوں نے دین کی ترویج و اشاعت میں جو کوششیں کیں ان سے صرف نظر کرنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

آخر میں لکھتے ہیں ‘‘صوفیہ نے اپنے حسن اخلاق سے سماج کے تمام طبقوں کو متأثر کیا ہے ان کی خانقاہوں کے دروازے امیر و غریب سب کے لیے کھلے تھے۔ انھوں نے ارباب دول کو عدل و انصاف کی تلقین کی اور رعایا کو حکمرانوں کے حقوق کی ادائگی کی تعلیم دی۔ شکستہ دلوں کا اور سماج کے نچلے طبقوں کو ان کی مجلسوں میں اپنے درد کا درماں ملا تو ارباب اقتدار کو آخرت کی یاد آئی۔

اہل تصوف نے عالمگیر اخوت، مساوات اور بھائی چارے کا سبق دیا اور اختلاف و تفریق کو ہوا دینے کے بجائے خلوص، دردمندی، محبت اور مودت کے چراغ روشن کیے۔ انھوں نے اپنے حسن اخلاق اور اعلیٰ ظرفی سے بعض اوقات ایسے دلوں کوزندگی بخشی جو انسان دوستی سے خالی ہو کر ویران ہو چکے تھے، انھوں نے لق و دق صحراؤں، فلک بوس پہاڑوں، بے کراں سمندروں اور بنجر زمینوں کو عبور کرکے اشاعت دین کی وہ تابناک روایات قائم کیں جو ہماری ملی تاریخ کا ایک روشن اور ناقابل فراموش باب بن چکی ہیں۔’’

صوفیہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے اوصاف و کمالات اور اخلاق و عادات مذکور اشخاص کی تحریرو ں سے کافی حد تک آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ اوصاف و اخلاق و کمالات ان کی پرانوار ذاتوں میں اس قدر نمایاں اور واضح تھے کہ جس نے بھی ان کی

سیرتوں کا سرسری مطالعہ بھی کیا ہے وہ جان لےگا اور کوئی انصاف پسند ان سے انکار نہیں کر سکتا ہے۔ عناد کی بات جدا ہے۔ ہم نہایت اختصار کے ساتھ ان کی چند مزید خدمات و کمالات اور اوصاف و اخلاق سپرد قلم کرتے ہیں جو ان کی حیات طیبہ کے تابناک نقوش ہیں۔

۱۔ دین کے تین جز ہیں جسے حدیث جبریل میں بیان فرمایا ہے؛ الف، ایمان۔ ب، اسلام یعنی اعمال صالحہ۔ ج، احسان یعنی اخلاص۔

عقائد:

صوفیہ کرام کی زندگی پورے طور پر ان میں ڈھلی ہوئی ملے گی۔ عقائد میں وہ ہمیشہ سواد اعظم اہل سنت و جماعت کے پابند رہے اور کبھی سر مو تجاوز نہیں فرمایا۔ اس تعلق سے ان کی کتب کا مطالعہ یقین تک پہنچا دیتا ہے۔ اگر ان کا کشف کبھی اس کے خلاف بھی واقع ہوا تو انھوں نے اس کا اعتبار نہیں کیا۔ چناں چہ مقربین بارگاہ الٰہی خواہ انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات ہوں یا اولیا علیہم الرضوان، قرآن و سنت کے دلائل کی روشنی میں علماے اہل سنت نے جن کے جو مراتب و منازل مقرر کیےاسی کے پابند رہے۔ حضرت ابو بکر و عمر‌رضی اللہ عنہا کی افضلیت پر علما کا اجماع ہے۔ اگر کسی کا کشف اثناے سلوک اس کے خلاف واقع ہوا تو اس کا اعتبار نہیں کیا اور شریعت کو ہی معیار کیا۔

اسی طرح جمہور اہل سنت حضرت عثمان کو حضرت علی‌رضی اللہ عنہا سے افضل مانتے رہے اگرچہ یہ تفضیل مدار سنیت نہ رہی۔ محققین صوفیہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ بھی اسی کے قائل رہے، بعض ارباب کشف صوفیہ و اولیا پر حضرت علی کے کمالات کا انکشاف زیادہ ہوا، بعض پر اشتباہ ہوا اور وہ توقف کے قائل ہو گئے، مگر محققین نے سیدنا علی‌رضی اللہ عنہ کی کثرت کمالات کے انکشاف اور تشابہ کی وجوہات کو تفصیل سے بیان کر

دیا۔ اس تعلق سے حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے مکتوبات قدسی کا مطالعہ اطمینان کی منزل عطا کرتا ہے۔ یہاں یہ بھی دھیان رہے کہ بعض ناقدین نے بعض ارباب ولایت کے بعض ان مکشوفات کی بنا پر جن کا تعلق حضرت سیدناعلی مرتضیٰ ‌رضی اللہ عنہ کی ذات مبارکہ سے ہے مائل بہ شیعیت یا شیعہ ہونے کا الزام لگا دیا، یہ سراسر غلط ہے۔ شیعہ اپنے عقائد و اعمال کے اعتبار سے حق سے کوسوں دور ہیں اور اکثر مسائل اعتقادی و عملی میں اہل سنت کے مخالف ہیں مذکورہ ارباب ولایت جملہ امور میں اہل سنت کی آراے صائبہ کے موافق ہیں زیادہ سے زیادہ ان کے اس طرح کے مکشوفات کو خطاے کشفی کہا جا سکتا ہے، شیعہ یا مائل بہ شیعیت کہنا سراسر بہتان ہے۔

عقائد کے تعلق سے جو چیز صوفیہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو عام اہل علم سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے ایمانی استحکام ایمان کے معاملے میں صوفیہ کبھی تذبذب و تردد کے شکار نہیں ہوئے اور اعمال صالحہ کی برکات اور کشفی تائیدات کی وجہ سے وہ ہمیشہ اذعان و ایقان اور جمعیت و اطمینان کی شاہراہ پر گامزن رہے اور وہ کبھی دوسروں کی صحبت سے یا تعارض دلائل کی آرا مختلفہ کی وجہ سے تذبذب کا شکار نہ ہوئے اور نہ کبھی انھوں نے کسی بھی لالچ میں ایمان واعمال کا سودا کیا یہ وہ جوہر اور کمال ہے جو جس قدر کثرت کے ساتھ اہل علم کے اس طبقہ کو نصیب ہوا وہ دوسروں کو نصیب نہیں ہوا۔ چناں چہ تاریخ شاہد ہے کہ صوفیہ بدمذہبیت سے کوسوں دور ہے اور ان میں ارتداد اور ضلالت کبھی راہ نہ پا سکی جب کہ علوم ظاہرہ کے حاملین میں اس طرح کی بہت مثالیں ہیں جب سے امت میں نظریاتی اختلاف شروع ہوا اس وقت سے آج تک امت میں ان گنت فرقےوجود میں آئے اور اہل سنت کے مخالف رہے کسی کی بدعقیدگی ضلالت اور کسی کی حد کفر تک پہنچ گئی اور عقائد و اعمال میں اس قدر اختلاف ہوا کہ جس کی فہرست نہایت طویل ہے اس کے برخلاف صوفیہ میں اختلاف نہایت کم ہے اور جو کچھ ہے وہ کشفی اشتباہات کی بنیاد پر ہے اور اس کے باوجود عقائد میں ہمیشہ سواد اعظم کے تابع رہے اور تعجب ہے

کہ ہر فرقے کے بانی بڑے بڑے اہل علم رہے۔

اعمال:

خیر القرون کے بعد اعمال صالحہ میں بھی عام طور پر صوفیہ دیگر اہل علم سے کچھ وجوہ سے ممتاز رہے۔

۱۔اس تعلق سے صوفیہ کرام کی ایک بڑی خوبی یہ رہی جسے ناقدین نے بھی تسلیم کیا ہے، وہ یہ کہ ان کے قول و عمل میں تضاد نہیں رہا جو کہا پہلے خود اس پر عمل کیا اور اس کے باوجود وہ منافقت سے ڈرتے تھے۔ یہ ان کی زندگی کا نمایاں اور واضح وصف ہے۔ اگر حب دنیا، حب جاہ، حب مدح، حب منصب کی مذمتیں بیان فرمائیں تو سب سے پہلے ان تمام محبتوں سے خود کو پاک کیا اور غیر کی محبت سے کلی طور پر خود کو پاک کر لیا، مال و اولاد اور بیویاں وغیرہ کوئی بھی کشش ان کو اپنی طرف کھینچ نہ سکی اور اسی وجہ سے وہ ان تمام گندگیوں سے پاک رہے جو دنیا و ما فیہا کی محبت سے پیدا ہوتی ہیں جیسے حسد، بغض، کینہ، حرص، طمع وغیرہ اوصاف ذمیمہ و اخلاق رذیلہ اسی طرح نفس امارہ کی تمام شرارتوں سے بچنے کے لیے انھوں نے نہایت کٹھن اور دشوار مجاہدات و ریاضات اختیار فرمائے اور خود کو مصائب و آلام کی پر خطر وادیوں میں جھونک دیا، سارے عیش و تنعم کو تج دیا، نرم گرم بستر اور سامان عیش و عشرت ہزار رعنائیوں کے باوجود انھیں اپنا اسیر نہ بنا سکے اور انھوں نے اپنے مولاے کریم رؤف و رحیم عز و جل کی محبت اور رضا کے لیے سب کچھ قربان کر دیا اور دنیا کی کوئی زیب و زینت ان کے دلوں کو دام فریب میں پھنسا نہ سکی۔ اہل ظاہر اور ناقدین ان کی صرف اسی خوبی کو گہرائی سے دیکھتے اور قدر کرتے تو ان پر نکتہ چینی کے بجائے انھیں آنکھوں میں جگہ دیتے۔

صوفیہ کرام نے اپنے محبوب حقیقی کی کمال محبت میں سب کچھ قربان کر دیا اس

لیے نہ انھوں نے کبھی امرا و سلاطین کا تقرب چاہا نہ کبھی مناصب کی خواہش کی، نہ سرکاری ملازمتوں کو قبول کیا، نہ دنیا کی تحصیل کے لیے کوئی حیلہ کیا، نہ وہ کسی کے تاج محل سے مرعوب ہوئے۔ تو اہل ثروت کی پر شکوہ عمارتیں ، منصب، عزتیں اور عام خلق کا رجوع انھیں متاثر نہ کر سکا، نہ کبھی کسی کے خلاف بغاوت اور خروج کیا، نہ قضا و افتا کے مناصب کے لیے کوئی تگ و دو کی، نہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے کوئی ہنر سیکھا، نہ لچھے دار بے معنی تقریریں کیں، نہ نعرے لگوائے، نہ واہ واہی سوچی، نہ مریدوں کی طلب کی، نہ کسی پیر و عالم سے دکھی ہوئے،نہ مریدوں سے کبھی نذرانوں کی خواہش کی وغیرہ وغیرہ۔ اس کے برخلاف اکثر اہل علم ظاہر اور روحانیت سے خالی مشائخ کی زندگیاں جنھوں نے پڑھیں یا دیکھیں ہیں وہ سب جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور آج تو پانی سر سے اونچا ہو گیا ہے، اب تو ہر عیب و نقص اور ہر فریب ہی شعار ہے بلکہ زندگی اسی کا نام ہے۔

اسی طرح توبہ و انابت، صبر و شکر، خوف و رجا، قناعت و توکل، تسلیم و رضا وغیرہا احوال و مقامات اور اخلاق و عادات کی انھوں نے دوسروں کو دعوت دی تو پہلے خود کو علیٰ وجہ الکمال ان سے متصف کیا۔ چناں چہ اس تعلق سے ان کی حیات طیبہ جو اعلیٰ اور انمول مثالیں ملتی ہیں وہ کسی میں نہیں ملتی ہیں۔

۲۔اعمال کے تعلق سے دوسری چیز جو صوفیہ کو ممتاز کرتی ہے وہ یہ کہ ہر ذکر و فکر اور طاعت و عبادت وغیرہ کو کثرت سے اختیار کیا نوافل عبادات کی جو کثرت، سنن و مستحبات کی جو فراوانی ان کے یہاں ہے وہ کسی کے یہاں نہیں۔ نماز، روزہ، زکات و حج، صدقات و خیرات کسی بھی عمل صالح کو آپ دیکھیں گے انھیں نمایاں پائیں گے۔ فرض نماز تو بڑی چیز ہے، نوافل اس کثرت سے پڑھیں کہ عام اہل علم ہی جانتے ہیں کہ اس معاملے میں کوئی ان کا ثانی نہیں۔ اشراق، چاشت، تہجد، اوابین

فے زوال سنن غیر مؤکدہ، عصر و عشا سے قبل کی سنن، اسی طرح تکبیر اولیٰ اور جماعت کی پابندی وغیرہ جو ان کے یہاں ہے وہ کسی کے یہاں نہیں۔

۳۔ان کی تیسری امتیازی چیز یہ ہے کہ اعمال صالحہ کی بجاآوری اور ممنوعات و محضورات سے اجتناب میں جو استقامت اور دوام ان میں ہے ان کی مثالیں عام اہل علم میں نہیں ہیں۔

۴۔چوتھی چیز جو گویا ان کے خصائص سے ہے وہ یہ ہے کہ شب بیداری، آہ و فغاں، گریہ و زاری، تضرع و تذلل وغیرہ قلبی کیفیات جن کو قرآن و سنت طلب کرتے ہیں اور جو عند اللہ بڑی اہمیت رکھتے ہیں اور جن پر وہ اجر و ثواب مرتب ہوتا ہے جن کا وہم و گمان اندازہ نہیں کر سکتے ہیں اس بزرگ طبقہ کا مشہور وصف ہے۔ عشق و محبت کی جو انتہا قرآن و سنت طلب کرتے ہیں اس کو دیکھنا ہے تو وہ اسی طبقے میں کثرت سے ملےگا، عشق و الفت کے اعلیٰ نمونے انھی کا حصہ ہیں، فیضان محبت سے یہ حضرات جس قدر مستفیض ہوئے اتنا کوئی مستفیض نہیں ہوا اور اس کے تقاضے جتنے انھوں نے پورے کیے وہ کوئی دوسرا پورا نہیں کر سکا۔

۵۔پانچویں چیز جو نہایت اعلیٰ بھی ہےاور دشوار بھی وہ برے اخلاق اور گندی عادات کو اچھے اخلاق اور پاک عادات میں تبدیل کرنا اور خود کو اخلاق حسنہ و صفات حمیدہ کا پیکر بنانا جتنا ان کا وصف مشہور ہے وہ کسی کا نہیں تصوف کا دوسرا نام ہی علم الاخلاق ہے، میٹھی اور نرم بولی، دل جوئی، امداد و اعانت، خبر گیری، ایثار و قربانی، عیادت و مزاج پرسی، زخموں پر مرہم رکھنا، بھٹکے ہوؤں کو راہ راست پر لانا، دکھی دلوں کو راحت دینا، غمزدوں کی غم گساری، امانت و دیانت، یتیموں کی پرورش، بیواوں کی دیکھ بھال وغیرہ، چھوٹے بڑے گناہوں سے بچنا اور زبان و آنکھ کی حفاظت کرنا صوفیہ عظام نے جس طریقے پر کیا عام بشر کے لیے مشکل ہے، ان کے اوقات زیادہ تر ذکر و فکر میں،

مساجد میں اور خلوتوں میں بسر ہوئے عام انسانوں سے اختلاط کم رکھتے لہٰذا نہ کسی کی غیبت ہوتی نہ چغلی نہ گالی گلوچ نہ تحقیر و تذلیل، نہ استہزا و مذاق وہ دوسروں کی طرف زیادہ التفات ہی نہ کرتے، بعض صوفیہ کا مظاہر جمیلہ سے لگاو اور دلچسپی بھی ان کی فہم کے اعتبار سے اس لیے تھی کہ وہ اسے عشق حقیقی کا زینہ سمجھتے تھے اس کے باوجود محققین نے بھی اس کو پسند نہ کیا۔

۶۔صوفیہ کرام نے اضاعت وقت سے بھی جس قدر گریز کیا اس قدر دوسروں سے عام طور پر نہیں ہو سکا ان کے یہاں ایک لمحہ کی غفلت بھی بڑے خسارے کا موجب (سبب) تھی۔

۷۔صوفیہ کرام کا ایک بڑا کام یہ ہے کہ انھوں نے علم باطن اور نور وفیض الٰہی کو خصوصیت کے ساتھ اخذ کیا اور دوسروں کو اس سے نوازا۔ یہ نور ایک تو مشائخ کاملین کے توسط سے حاصل ہوتا ہے اور وہ اپنے تصرف و توجہ سے اس نور کو مریدوں کے سینوں میں منتقل کرتے ہیں، دوسرے حضور پرنورﷺ کی اتباع و پیروی اور آپ کی محبت و الفت اور آپﷺ اور نور مطلق یعنی اللہ عز و جل کی طرف توجہ سے حاصل ہوتا ہے، اس کے حصول کے اور بھی ضمنی ذرائع ہیں نیز مجاہدات و ریاضات کو بھی اس میں کافی دخل ہے۔ صوفیہ کرام نے ہر وہ طریقہ اختیار کیا جس سے اس نور کا اکتساب کیا جا سکتا تھا اور یہی نور اور یہی طریقہ در اصل تصفیہ قلب و تزکیہ نفس کا سبب تھا اس کے ذریعہ بے شمار فوائد حاصل ہوئے اور مذکورہ بالا عقائد و اعمال کے تعلق سے ان کے سارے امتیازات اور کمالات اسی نور کا نتیجہ اور عملی مشق کا ثمرہ تھے۔ گناہوں سے اجتناب میں بھی اسی نور کو بہت دخل تھا اور حسن اخلاق اور کردار سازی میں یہ اہم عنصر کی حیثیت رکھتا تھا اور خاص بات یہ کہ اخلاص جو سارے اعمال صالحہ کی جان اور روح ہے اور قبولیت کا سبب ہے وہ اسی کے وسیلے سے کامل طور پر حاصل ہوتا ہے، صوفیہ

کرام علیہم الرضوان کی زندگی کا لمحہ لمحہ اس کا گواہ ہے۔

۸۔جملہ اقوال و اعمال کا اخلاص پر مبنی ہونا بڑا مشکل کام ہے اور نفس کا جب تک تزکیہ نہیں ہوتا ہے اس وقت تک یہ دولت مکمل طور پر ہاتھ نہیں آپاتی ہے نیز کامل اخلاص کے لیے قلب کا ہر گندگی سے پاک ہونا خاص کر حب دنیا سے آزاد ہونا بھی ضروری ہے اور یہ تصفیہ و تزکیہ بغیر طریقہ صوفیہ اپنائے حاصل نہیں ہوتا ہے۔

معلوم رہے کہ علم الگ چیز ہے اور اس پر عمل جدا چیز، عمل علم پر موقوف ہے لیکن علم عمل کو مستلزم نہیں ہے۔ آج بڑے بڑے اہل علم ہیں لیکن ان کی عملی حالتیں عوام تک کو معلوم ہیں ۔ پھر اعمال میں جن اعمال کا تعلق قلب سے ہے ان کو کما حقہ بجا لانا بڑا مشکل کام ہے جیسے حب الٰہی، حب رسول ، محبت اولیاے کرام، تو بہ الی اللہ اور خوف و خشیت الٰہی وغیرہ اخلاق و اعمال۔

صوفیہ کرام کے بڑے کارناموں سے یہ ہے کہ انھوں نے وہ اصول و قواعد وضع کیے جن کی وجہ سے شریعت پر عمل آسان ہو جائے، اعمال صالحہ کی بجاآوری اور معاصی اور خطاؤں سے اجتناب، اخلاق حسنہ سے آراستگی اور اخلاق سیئہ سے پرہیز کی دولت ہاتھ آجائے اور بندے میں وہ صفات پیدا ہو جائیں جن کو قرآن و سنت طلب کرتے ہیں اور جنھیں رسول کائناتﷺ نے صحابہ میں پیدا کیں۔

۹۔اسی طرح اقوال و افعال میں میانہ روی شریعت کو نہایت محمود ہے۔ عام طور پر لوگ افراط و تفریط کا شکار ہو جاتے ہیں، صوفیہ کرام نے تربیت کا وہ نہج اختیار فرمایا جس سے بندے میں میانہ روی اور توسط و اعتدال پیدا ہوتا ہے۔

۱۰۔صوفیہ کرام کے خصائص سے بہت بڑی چیز یہ ہے کہ انھوں نے اپنے مجاہدات و ریاضات کی وجہ سے بہت سی مخفی قوتوں کو بیدار کیا اور نئے نئے قویٰ اور حواس سے لوگوں کو آشنا کیا مثلاً کشف و شہود انھی بزرگوں کی دین ہے اور اگر دوسروں کو

ملا ہے تو انھی کی صحبتوں سے ملا ہے اسی طرح الہام بھی ہے، یہ نئے قوی و حواس بہت سے علوم نافعہ کا ذریعہ بنے اور امت ان علوم سے آشنا ہوئی جن کو زبانی تعلیم و تعلم سے نہیں حاصل کیا جا سکتا تھا۔ ان علوم کی قدرے تفصیل ہم کتاب ‘‘کشف و الہام’’ میں کر چکے ہیں نیز ان علوم کی قدر و قیمت ان حقائق و معارف سے بھی سمجھی جا سکتی ہے جو محققین صوفیہ کی کتابوں میں محفوظ ہیں اور آئندہ صفحات میں اقسام معارف کے ضمن میں ملاحظہ کریں گے۔

۱۱۔صوفیہ کے خصائص سے کرامات و تصرفات کا حصول ہے۔ یہ اتنی بڑی دولت ہے جس کا اندازہ کرنا مشکل ہے کرمات و تصرفات زیادہ تر مجاہدات و ریاضات کا ثمرہ ہوتے ہیں اور ان کے حصول کے لیے مصائب و آلام کی دشوار گھاٹیوں سے گذرنا ہوتا ہے، بھوک پر بھوک کی مشقت جھیلنی پڑتی ہے، راحتوں کو تجنا (چوڑنا) پڑتا ہے، خواہشات کا دم توڑنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے صوفیہ کرام علیہم الرضوان کو مصائب سے ضرور دو چار ہونا پڑا مگر اسلام و سنیت اور تصوف و روحانیت کی جو خدمت انھوں نے کرڈالی وہ انھی کا حصہ تھی۔

عموماً لوگ خلافِ عادت کاموں کو بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ ہندوستان کے جوگیوں،گرجا گھروں اور کلیساوں کے راہبوں یا اور علماے اشراقیین نے جو کشف کے ذریعہ غیبی خبریں اور مستقبل کی باتیں بتا بتا کر ااور خلاف عادت امور دکھا دکھا کر اپنے مذاہب باطلہ کی دھوس اور حقانیت عوام کے دلوں میں بٹھا رکھی تھی اور اپنی عظمتوں کا جو سکہ چلا رکھا تھا اور اپنے مخالفین کو جس قدر خوف زدہ کر رکھا تھا اس کا مقابلہ صرف صوفیہ کرام کے تصرفات و کرمات نے کیا اور سب کی حقیقت لوگوں پر واضح کر دی اور اسلام کی حقانیت کو اظہر من الشمس کر دیا۔

آخر کون نہیں جانتا ہے کہ جادو گروں کے مقابل حضرت موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ

الصلاۃ و السلام کو عصا اور ید بیضا عطا کیا گیا، فرعون کے جادو گروں کے جادو کو قرآن سحر عظیم سے تعبیر کرتا ہے اس موقع پر حق و باطل کی کیسی عجیب جنگ تھی اس میدان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دین حق کی فتح اور جادوگروں کی شکست اور باطل کے بطلان کی وضاحت عوام و خواص کے سامنے صرف معجزات کا ثمرہ تھی۔ اگر زبانی تعلیم و تعلم اور اخلاق و اعمال ہی ہر ایک پر اضاحت (اظہار) حق کے لیے کافی ہوتے تو انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کو معجزات کی کوئی حاجت نہ ہوتی ان سے بڑا معلم اور ان سے عظیم اخلاق و اعمال کا مالک کون ہو سکتا ہے۔

صوفیہ کرام کی کرامات و تصرفات انھی معجزات کا فیضان اور عکس ہیں اگر یہ نہ ہوتے تو مختلف ممالک میں جو مختلف قوموں اور جادوگروں سے سابقہ پڑا اور دشمنان اسلام سے جو سامنا ہوا اس کا مقابلہ صرف زبانی دعوت و تبلیغ سے ممکن نہ تھا ہندوستانی جادوگروں اور دشمنوں کی تاریخ جن کے سامنے ہےوہ یقین سے جانتے ہیں کہ ایسوں کی تسخیر صرف اولیاے کرام و صوفیہ عظام علیہم الرضوان کے تصرفات کا نتیجہ تھی اور لاکھہا لاکھ لوگوں کو کفر و شرک کی ظلمتوں سے نکال کر اسلام کی نورانی فضا میں کھڑا کر دینا ان کے تصرفات و کرامات کا نتیجہ تھی، آخر اب کیوں نہیں یہ کام ہو پا رہا ہے جب کہ تقریریں اور تحریریں اس وقت بہت زیادہ ہیں۔ تبلیغ و دعوت کا کام بھی مختلف فرقے مختلف طریقوں سے کر رہے ہیں، جلسے جلوس بھی بہت ہو رہے ہیں پھر بھی کافروں کو کلمہ پڑھانا اور مشرکوں کو شرک کی آلودگیوں سے نکالنا تو بڑی چیز ہے مسلمانوں کو صحیح اور کامل مسلمان رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

عقائد و نظریات کا تعلق دل کے ماننے سے ہوتا ہے۔ قلب و دل سے کسی چیز پہ یقین کر لینا اور اسے مان لینا کوئی دشوار کام نہیں محنت و مشقت عمل میں ہوتی ہے، نفس پر سب سے زیادہ گراں عمل ہے۔ آج ہم عقائد کے تحفظ میں بھی ناکام ہیں،

ہزاروں جلسے، خطبات، تقریریں، اعراس کی محافل و مجالس، پیری مریدی وغیرہ کے ذریعہ نا معلوم کتنے افراد کوششیں کر رہے ہیں مگر پھر بھی لوگ گمراہ ہوتے چلے جا رہے ہیں اور اعمال کا تو حال ظاہر ہے، پھر اعمال کو ریا وغیرہ سے بچانا ان میں استقامت اور ان کو صحیح طریقے پر ادا کرنا کتنا دشوار ہو گیا ہے، یہ سب کچھ حساس اور درد مند اہل علم اچھی طرح جانتے ہیں۔ صوفیہ کرام نے تو کتنے لاکھوں لاکھ کافروں کو کلمہ پڑھایا، فاسقوں فاجروں کو تائب کیا، بیعت وغیرہ کے ذریعہ گناہوں سے روکا اور اعمال صالحہ کا پابند بنایا، شب بیدار کیا، مخلص بنایا، ایثار و قربانی کا مالک بنایا وغیرہ وغیرہ۔

۱۲۔ یہ مضمون احادیث سے ثابت ہے کہ جو دنیوی حظوظ و منافع جتنے حاصل کرتے ہیں اتنے ہی ان کے اخروی منافع کم ہو جاتے ہیں۔ بہت سے صحابہ کرام علیہم الرضوان دنیاہی ملنے پر ڈرتے تھے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہمارے اعمال کی جزا ہمیں دنیا میں مل جا رہی ہے، کہیں آخرت میں محروم نہ ہو جاؤں۔ صوفیہ کرام علیہم الرضوان نے دنیا کو بقدر ضرورت استعمال کیا، کھانے پینے لباس گھر وغیرہ میں حاجت پر اکتفا فرمایا۔

حضور اکرامﷺ دعا فرماتے ‘‘اے اللہ آل محمد کا رزق کفاف بنا یعنی بقدر حاجت بنا۔’’

صوفیہ کرام نے اسی سنت پر عمل کیا نیز خود سرور کائناتﷺ کا اپنا عمل بھی سب پر عیاں ہے۔

۱۳۔ اولیاے کرام، صوفیہ عظام علیہم الرضوان کے بڑے کاموں سے یہ بھی ہے کہ ان کے علوم استدلالی کشفی ہو گئے اور اجمالی تفصیلی ہو گئے تھے جن کے ذریعہ نظر و استدلال کے تنگ کوچے سے نکل کر کشف و شہود کی شاہراہ پر گامزن ہوکر کامل

اطمینان و یقین کی منزل پر پہنچ گئے۔ اس کی قدرے وضاحت یہ ہے کہ بالغ نظر اہل علم اچھی طرح جانتے ہیں کہ نظر و استدلال سے جو علوم حاصل ہوتے ہیں ان میں انسان یقین اور حق و صواب پر بڑی مشکل سے پہنچ پاتا ہے۔ کسی کا استدلال کسی کی منزل پر پہنچاتا ہے، کسی کا اس کے خلاف دوسری منزل پر، کبھی کبھی تو بہت آرا میں بہت اختلاف واقع ہو گیا، اسی طرح بہت سے مقامات پر قرآن و سنت کے بعض مطالب و مرادات کے سمجھنے میں کثیر اقوال وجود میں آگئے اور خاص کر عقل کے غلبہ نے نرے نرے احتمالات پیدا کر دیے، اس سے تشکیکات کے دروازے کھلے اور بہت سے فرق باطلہ کو اپنے اپنے مخترعات و محدثات کے لیے تائیدات حاصل ہوئیں، عام تو عام بہت سے خاص بھی وادی شکوک و شبہات میں گر پڑے۔ اسی لیے علامہ اقبال نے کہا تھا۔؏

ہے دانش برہانی حیرت کی فراوانی

صوفیہ کرام صفاے قلب و نفس کی بدولت اور کشف و الہام کی برکت سے شکوک و شبہات کی وادیوں میں بھٹکے نہیں اور نہ بھٹکایا وہ عقائد و اعمال میں لوگوں کو وہ راستہ دکھاتے رہے جو کشف و الہام سے مؤید و مضبوط تھا ہم اس کی بہت سی مثالیں دے سکتے ہیں، قدرے ہم دوسری کتابوں میں بیان کر چکے ہیں، اس مختصر میں گنجائش نہیں ہے۔