باب ۱ از ۳صفحات ۴–۱۹
تقدیم
صوفیہ کرام رحمہم اللہ نے ہر دور میں اسلام و سنت کے کارہائے نمایاں انجام دیے جن سے ہر با شعور واقف ہے،یہی وجہ ہے کہ ہر عام و خاص کے قلوب ان کی عقیدت و محبت سے لبریز اور زبان و قلم تعریف وتوصیف کے موتی نچھاور کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ روایت اس وقت تک قائم رہی جب تک پرچم اسلام کو سربلندی حاصل رہی مگر جب سے مردان حر کا قافلہ لٹا اور اہل مغرب کا استیلا ہوا اور انھوں نے بغور اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرکے اس کی تبلیغ و ترویج کے اسباب و عوامل کا پتہ لگایا ہے انھوں نے ہر اس اساس و بنیاد کو ڈھانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے جس سے اسلام کی نشأۃ ثانیہ ہو سکتی تھی چاہے وہ عشق رسولﷺ کی دولت ہو یا صوفیہ سے وابستگی،پچھلی دو صدیوں سے ان ستونوں کو زمیں بوس کرنے کی ہر طرح کو ششیں کی گئیں اور آج پہلے سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ مسلسل کی بھی جارہی ہیں۔
حیرت کی بات تو یہ کہ آغاز میں دشمنان اسلام نے اپنے ہمنواؤں سے یہ کام لیا پھر دھیرے دھیرے یہ بلا اتنی عام تر ہوتی چلی گئی کہ خود اہل اسلام ہی کی طرف سے اسلاف کرام کی شان میں بے ادبیوں اور گستاخیوں کا سلسلہ خوب گرم ہوااور اب تو یہ کام کئی مالدار اور نام نہاد اسلامی ریاستوں کی سر پرستی میں اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ انھیں اہل اللہ اور صوفیہ کے تذکرے تو کجا ان کے مزارات و قبے تک پھوٹی آنکھ نہیں بھا رہے ہیں اور انھیں انتہائی بے دردی سے ڈھایا جا رہا ہے۔
افسوس! یہ سارے گھناؤنے کام خدمت اسلام کے نام پر ہو رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ دین کے سارے شعبوں کا کام پایۂ تکمیل تک پہنچا لیا گیا ہے اور اب اسلاف سے دشمنی و عداوت کے اظہار کے سوا کو ئی کام رہا ہی نہیں جو ایسا کیا جا رہا ہے،جبکہ دوسری
قومیں اپنے اپنے محسنین کو نئے نئے طریقے سے یاد کر کے ان کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت پیش کر رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ نصف سے زائد کرۂ ارض پر کئی صدیوں تک اسلامی حکومت رہنے کے با وجود آج ہماری نسل اسلامی سپوتوں سے اتنا واقف نہیں ہے جتنا کہ اغیار سے ہے۔
یہ سچائی ہے کہ صوفیہ کرام نے اپنی مبارک زندگیوں کی آسائشوں کو فراموش کرکے محض رضاے الٰہی کے لیے پورے دل اور جذبے سے شجرۂ اسلام کو ہر زمانے میں تناور درخت بنایا ہے،کسی امیر وزیر یا بادشاہ کا معمور خزانہ ان کا سودا نہ کرسکا اور نہ ہی کبھی انھوں نے ضمیر فروشی کی،ان کی ٹوٹی چٹائیاں عوام الناس کو شاہی محلات کی قالینوں سے زیادہ بھائیں،جو یہاں بکا وہ انمول ہو گیا گویا ان اہل دل کی قلندری کسی سکندری سے کم نہیں رہی،ان کی صحبت تو دور کی بات ہے ان کی مبارک سوانح عمریوں ہی کو پڑھ کر جانے کتنے لوگ اخلاص کی دولت سے مالا مال ہو گئے۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان نفوس قدسیہ کی مبارک زندگی کو مشعل راہ بنایا جاتا، مگر نفس امارہ کے پجاریوں نے صوفیہ کے تقویٰ وطہارت اور فضل وکمال کو دانستہ طور پر صوفیہ پر لعن طعن کا نشانہ بنایا تاکہ عوام الناس سے اپنی تبلیغی دوڑ بھاگ کا خراج وصول کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ظاہر بین گروہ نے جم کر صوفیہ کرام کی مخالفت کی۔
ارشاد پناہ،بحرالعرفان حضرت مفتی آفاق احمد مجددی دامت برکاتہم القدسیہ کی ذات مجمع البحرین ہے،آپ کو صوفیہ کرام رحمہم اللہ سے بڑی محبت ہے اسی لیے آپ کے مواعظ و خطبات صوفیہ ااور مشائخ کے کارناموں سے لبریز ہوتے ہیں،تصوف اور صوفیہ کے حوالے سے آپ کی درج ذیل کتابیں چھپ کر شائع ہو چکی ہیں:
۱۔تصوف اور اس کے فوائد ۲۔آداب طریقت ۳۔اشغال طریقت ۴۔ذکر و فکر ۵۔الصلاح و الفلاح ۶۔سلسلہ نقشبندیہ اور اس کا سلوک وغیرہ۔
اس سلسلے کی ایک اہم کڑی یہ رسالہ ‘‘صوفیہ اور ان کے معارف’’ بھی ہےجو مختصر
ہونے کے باوجود بھی بہت سے اہم معانی و معارف پر مشتمل ہے۔
رسالے کی ایڈیٹنگ کے وقت ایک کاغذ ملا جس میں کتاب اللمع (اردو) اور کشف المحجوب (اردو) کے حوالے سے اہم اہم عناوین صفحہ نمبر کے ساتھ درج تھے جس سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ شاید مخدوم گرا می ان کو بھی رسالے میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ کسی وجہ سے اس ایڈیشن میں تو انھیں شامل نہیں کیا جا سکا مگر ہو بہو نقل کیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ اشاعت میں شامل کیا جا سکے یا قاری اصل کتاب ہی سے رجوع کر کے مطالعہ کرلے۔
نام کتاب: کتاب اللمع
توحید اور موحد۔ ص:۶۱
طبقات صوفیہ اور ان کے نظریات و احوال اور خصائص و محاسن۔ ص:۳۸
صوفیہ عظام پر چند الزامات اور ان کی تردید۔ ص:۴۴
صوفی کو صوفی کیوں کہتے ہیں۔ ص:۵۲
صوفیہ کرام اور قرآن فہمی۔ص:۱۳۶
صوفیہ اور اتباع رسول علیہ السلام۔ ص:۱۷۵
صوفیانہ تشریحات۔ ص:۱۷۸
اصحاب صفّہ۔ ص:۲۲۴
آداب صوفیہ۔ ص:۲۳۸
صوفیہ کے آداب طہارت و وضو۔ ص:۲۳۸
صوفیہ کا اپنے ساتھیوں کے لیے کامل ایثار۔ ص:۳۰۷
دنیوی تحائف اور صوفیہ کرام۔ ص:۳۱۰
صوفیہ کے آداب کسب معاش۔ ص:۳۱۴
حصول و عطا اور فقرا پر مہربانی کرنے سے متعلق صوفیہ کا طریقہ۔ ص:۳۱۷
صوفیہ خلوت اور جلوت میں۔ ص:۳۲۷
صوفیہ کی فاقہ کشی کے آداب۔ ص:۳۲۶
بیماری میں صوفیہ کے آداب۔ ص:۳۲۸
صوفیہ کے دنیا سے کوچ کرنے کے آداب۔ ص:۳۴۱
مسائل تصوف سے متعلق صوفیہ کے مختلف نظریات۔ ص:۳۷۵
صوفیہ کے مکتوبات۔ ص:۳۸۰
صوفیہ کی کتابوں سے چند تعارفی اقتباسات۔ ص:۳۹۳
احوال و اشارات پر مبنی صوفیہ کے اشعار۔ ص:۴۰۱
صوفیہ کی باہمی وصیتیں۔ ص:۴۳۹
سماع اور اس کے مفہوم سے متعلق صوفیہ کے مختلف اقوال۔ ص:۴۴۹صوفیہ اور آداب نماز۔ ص:۲۴۹
صوفیہ اور آداب زکات و صدقات۔ ص:۲۵۶
آداب صوم اور صوفیہ کرام۔ ص:۲۶۲
صوفیہ کے آداب حج۔ ص:۲۶۹
سفر و حضر میں صوفیہ کے آداب اور باہمی روابط۔ ص:۲۸۰
صوفیہ کے آداب محبت۔ ص:۲۸۴
علمی مذاکرات اور آداب صوفیہ۔ ص:۲۸۸
مجالس ضیافت اور طعام کے بارے میں صوفیہ کے معمولات۔ ص:۲۹۳
صوفیہ اور آداب وجد و سماع۔ ص:۲۹۸
صوفیہ کے آداب لباس۔ ص:۳۰۱
صوفیہ کے آداب سفر۔ص:۳۰۴
سماع کے بارے میں مخصوص اہل کمال صوفیہ کا طرز عمل۔ ص:۴۸۵
وہ صوفیہ جو سماع، قرآن کو گانے کے انداز میں پڑھنے، اشعار و قصائد اور وجد و رقص کو صحیح نہیں سمجھتے۔ص:۴۹۵
صوفیہ کا تربیت مریدین کے لیے اظہار کرامات۔ ص:۵۳۷
خواص صوفیہ کے کرامات سے بڑھ کر لطیف احوال۔ ص:۵۴۱
اصطلاحات صوفیہ اور ان کی تشریحات۔ ص:۵۴۵
شطحیات و کلمات صوفیہ جو بظاہر قبیح مگر در اصل صحیح ہیں۔ ص:۶۲۴
نام کتاب کشف المحجوب اردو، باب: ۳
موضوع: تصوف کے بیان میں۔ ص:۲۰۹۔۲۳۸
چند امور
۱۔ذات الٰہی جملہ کمالات کی جامع اور ہر خیر و کمال اس کا ذاتی ازلی ابدی غیر متناہی ہے۔
۲۔اپنے بندوں کو وہ اپنے قریب کرتا ہے اور بلحاظ قرب سب کو کمالات سے نوازتا ہے جو جتنا قریب ہوتا ہے اتنا ہی وہ کمالات سے فیضیاب اور مالامال ہوتا ہے۔
۳۔قرب پر جو کمالات مرتب ہوتے ہیں وہ دو قسم کے ہوتے ہیں؛ (۱)کمالات نبوت (۲)کمالات ولایت۔
۴۔انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات دونوں کے جامع ہوتے ہیں اور حسب مراتب قرب میں تفاوت رکھتے ہیں۔
۵۔نیز کمالات کی ایک تقسیم یہ بھی کی جاتی ہے؛ (۱)کمالات علمیہ (۲)عملیہ، ان سب میں حسب ظرف و استعداد اہل کمال مختلف ہوتے ہیں اور ہر ایک کو اس کے حوصلے کے مطابق حصہ ملتا ہے۔
۶۔حضور سید الانبیا و الرسل علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات ہر کمال و خوبی میں ہر مخلوق سے بڑھ کر ہیں، تعداد میں بھی اور زیادتی و کثرت میں بھی۔
۷۔اللہ تعالیٰ کے کمالات لامتناہی ہیں اور اس نے اپنے فضل و رحمت سے بہت سے کمالات سے بندوں کو بھی نوازا۔ اسی اعتبار سے ان کے اندر صلاحیت و استعداد رکھی اور نوازا، کس بندے کو کتنا نوازا جا سکتا ہے اس کی نہایت واضح مثال حضور جامع جملہ کمالات الٰہیہﷺ کی ذات پاک کو دیکھ لیں معارف ولایت کی مثالیں دیکھنی ہو تو اس امت کے اکابر اولیاے کرام علیہم الرضوان اور ان کے بیان کردہ معارف و حقائق اور کمالات کو ملاحظہ کر لیں۔
نیز مشائخ قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نام جنھیں اسماے حسنیٰ کہا جاتا ہے اور جو صفات و اخلاق الٰہی کے غماز ہیں۔ رب کائنات جل و علا نے انھیں مخلوق پر اس لیے ظاہر فرمایا تاکہ بندوں کو ان کی دعوت دے اور بلائے کہ بندے ان سے متصف ہوں اور اس بات پر بھی دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں میں ان کے ساتھ اتصاف کی صلاحیت و استعداد رکھی ہے۔ بعض کتب سیرت میں اللہ تعالیٰ کے ایک ہزار کے قریب اسماے مبارکہ بیان کیے گئے، اسی طرح حضور سرور کون و مکاںﷺ کے بھی اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے آقا و مولیٰﷺ کس قدر جامع کمالات و اوصاف تھے۔
عظمت صحابہ کرام:
جملہ انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کے اصحاب اپنے پیشواؤں کے کمالات کے زیادہ جامع ہوتے ہیں اور مراتب میں باقی امت سے فوقیت رکھتے ہیں۔
۸۔کمالات الٰہیہ انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کو بلا واسطہ اور امت کو بالواسطہ حاصل ہوتے ہیں چوں کہ انبیا علیہم السلام کمالات ظاہرہ و باطنہ و علمیہ و عملیہ اور کمالات نبوت و ولایت کے جامع ہوتے ہیں لہٰذا ان کے امتی دونوں سے حصہ پاتے ہیں۔
۹۔جس طرح عقائد اور اصول دین نہیں بدلتے ہیں اسی طرح اخلاق و اوصاف حمیدہ بھی نہیں بدلتے اور ان میں نسخ جاری نہیں ہوتا ہے۔ نسخ صرف احکام میں ہوتا ہے اسی لیے علما و مشائخ نے صراحت فرمائی کہ جملہ انبیا علیہم السلام اصول دین (عقائد) میں متفق ہیں۔ جو حضرت آدم کے عقائد تھے وہی سب کے رہے اسی طرح جو اوصاف کمال و اخلاق حمیدہ اس زمانے میں کامل سمجھے جاتے تھے وہ بعد میں بھی رہے، اس کی وجہ ظاہر ہے کہ انبیا علیہم السلام کمالات الٰہیہ کے مظاہر تھے اور ان کے
امتی ان کے توسط سے اللہ تعالیٰ کے (کمالات کے) مظاہر ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے اوصاف و کمالات میں کوئی تبدیلی نہیں، علم و معرفت کل بھی کمال تھا آج بھی ہے، اس کا مقابل جہل کل بھی نقص تھا آج بھی نقص ہے، حیات، وجود، قدرت، ارادہ،سمع و بصر، کلام وغیرہ کل بھی اوصاف کاملہ تھے آج بھی ان کے نقائص کل بھی نقائص تھے آج بھی نقائص ہیں۔
۱۰۔انبیا علیٰ نبینا و علیہم الصلاۃ و السلام کی جس نے بھی حیات طیبہ پڑھی ہے اور قرآن و سنت میں جن کے تذکرے اور سیرتوں کے جو پہلو بیان ہوئے ہیں ان سے ہر ذی شعور احساس کر لےگا کہ ان میں مندرجہ ذیل اوصاف و اخلاق سب میں موجود تھے؛ (۱)ایمان کا استحکام اور مضبوطی کہ کسی بھی معاملے میں ذرّہ برابر بھی ان کے ارد گرد شک و تردد اور زوال کا گذر نہ تھا اور آخری سانس تک وہ اس پر پورے طور پر قائم رہے۔ (۲)اللہ تعالیٰ کی طاعت و بندگی کہ ہمیشہ مامورات پہ عمل کیا اور منہیات و محظورات سے اجتناب اور پرہیز کیا اور کسی بھی مرحلے میں ان کی استقامت میں کوئی فرق نہیں اور ہمیشہ مرضیات حق کو اپنانا ان کا شعار رہا۔ (۳)صفاے قلب اس در جہ دامن دل پر غیر حق کی محبت و الفت کا ادنیٰ سا بھی داغ نہ تھا لہٰذا وہ ان تمام اوصاف رذیلہ؛ حقد و حسد، طمع ،حرص، دنیا کی طرف میلان و رغبت اور دنیا و فیہا کی محبت ، حب مدح، حب جاہ و منصب وغیرہا سے یکسر پاک و صاف رہے اور بڑی لمبی لمبی زندگیاں پاکر بھی کبھی بھی کسی طرح سے اس معاملے میں پاے استقامت میں لغزش نہیں آئی۔ (۴)نفوس زکیہ کا مالک ہونا: ان کے نفوس قدسیہ اس قدر مزکیّّ و مطہر ہیں کہ نفس کی ہر چھوٹی بڑی شرارت سے محفوظ و پاک ہیں۔ (۵)شب بیداریاں، آہ و فغاں، نالہ و گریہ، عشق و محبت الٰہی میں بے قراری و بے آرامی، توبہ و انابت، صبر و شکر، خوف و رجا، قناعت و توکل، شجاعت و ہمت و جرأت، حق گوئی و بے باکی، جود و سخاوت، ایثار و قربانی، عفو و درگزر،
خندہ روئی، میٹھی بولی، شیریں کلامی، ہمدردی و شفقت وغیرہ اوصاف و اخلاق حسنہ ان بزرگواروں میں علیٰ وجہ الکمال پائے جاتے تھے اور جو دعوت الی اللہ اور امر معروف و نہی منکر کے ایسے ایسے جذبہ فراواں سے سرشار تھے کہ زبان و قلم ان کو بیان نہیں کر سکتے ہیں اور ہر خوف و طاقت سے بے نیاز ہر بڑےسے بڑے ظالم کے سامنے بلا خطر اظہار حق کر دینا ان کا شعار اور شیوہ تھا، جو چیز قابل بیان و اظہار تھی اسے برملا ظاہر کر دیا اور جس کے وہ مامور تھے اس کو پورے طور پر ادا کر دیا اور ارشادات و ہدایات کے سلسلے میں جس قدر تکلیفیں مصیبتیں ایذاے خلق ان بزرگواروں نے جس ہمت اور خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔
(۸)تزکیہ و تصفیہ ان پیشواؤں کا سب سے اہم کام رہا وہ یقین سے جانتے تھے کہ برائیاں اور شرارتیں جہاں سے جنم لیتی ہیں اور تمام رذائل و نقائص جہاں سے پیدا ہوتے ہیں وہ ہیں نفوس امّارہ، اور قلوب کا عدم تصفیہ۔
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ انبیا علیہم السلام کی بعثت کا مقصد خالی نفوس کا تزکیہ تھا۔قرآن مقدس میں جہاں کہیں مقاصد بعثت رب کائنات جل و علا نے بیان فرمائے ان میں تزکیہ کا ذکر فرمایا، نفس امّارہ کی شرارتوں سے اور اس کو برائی سے روکنے پر جنت کا وعدہ فرمایا، بغیر تزکیہ کے کبھی اخلاق و اعمال درست نہیں ہو پاتے ہیں۔
طرق تزکیہ:
(۹)حضرت مجدد قدس سرہ نے تزکیہ کے دو ہی طریقے ارشاد فرمائے؛ شیخ کامل و مکمل کی صحبت اور جذب، دوسرے مجاہدات و ریاضات۔ انبیا علیہم السلام مزکیّٰ نفوس لے کر پیدا ہوتے ہیں، ان کی امتیں ان کی اتباع اور ان کی صحبتوں کے فیوضات و برکات کے صدقے مقام اخلاص و احسان پر فائز ہوتے ہیں اس لیے وہ سب
اعتقادی و عملی کمزوریوں سے پاک و صاف رہتے ہیں۔
(۱۰)اس کمالات قرب نبوت و ولایت میں جملہ انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات سب شرکت رکھتے ہیں، باقی ان میں تفاوت مراتب و تفاضل اقدام ہے۔ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیہم اجمعین سب کے خاتم، سب سے ارفع و اعلیٰ اور سب سے زیادہ قریب اور سب سے اکمل ہمیشہ کے لیے بن کر تشریف لائے اس لیے آپ کے اصحاب پھر تابعین و تبع تابعین و علما و فقہا و ائمہ، مفسرین، محدثین و متکلمین اور اولیا و صوفیہ سب سے زیادہ کثیر اور سب سے زیادہ کمالات و اخلاق و اوصاوف عالیہ پر فائق ہوئے اور باقی امتوں سے ہر طرح سبقت لے گئے۔ اور ان کے محققین نے علوم و فنون اور کمالات قرب کو اور امتوں کے مقابل عروج کے نقطہ آخر تک پہنچا دیا، ریاضات و مجاہدات، دعوت و تبلیغ، تزکیہ و تصفیہ وغیرہ کئی اعتبار سے دیکھیں سب میں برتر پائیں گے ان کے نبی علیہ الصلاۃ و السلام آخری نبی اور ان کے دین کی بقا و تحفظ خود خداوند قدوس نے اپنے ذمہ کرم پہ لے لیا ۔ اس صدقے میں ان امتوں کا علمی و عرفانی سرمایہ بھی جس قدر آج باقی ہے اس کا عشر عشیر بھی کسی کا باقی نہیں ہے بلکہ ان کے مقابل اوروں کا کالعدم ہے۔
۱۱۔ایفاے عہد (وعدہ) ان کا لازمی وصف تھا، وہ نہ کبھی وعدہ خلافی کرتے نہ عہد شکنی۔ قیصر روم نے حضرت ابو سفیانرضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ھلْ تغدِرْ کیا وہ عہد شکنی کرتے ہیں۔ اس وقت جب کہ (حضورﷺ سے ان کی) عداوت و دشمنی شدت پر پہنچی ہوئی تھی انھوں نے صاف منع کر دیا کہ کبھی بھی کوئی عہد نہیں توڑا نہ کبھی معاہدہ کے خلاف کیا۔
۱۲۔بقدر کفایت دنیا پر قناعت کرنا۔ وہ ایسے تارک الدنیا تھے کہ کبھی بھی اسے منہ نہ لگایا نہ کبھی دین کی دعوت کی خاطرظاہراً بھی اس سے اشتغال رکھا اور نہ کبھی اوقات
کو ضائع کیا نہ کبھی ان کی محافل و مجالس مبارک میں دنیا کی کوئی بات ایسی ہوئی کہ جس سے سامعین کے دلوں میں دنیا کی رغبت اور اس کی طرف میلان پیدا ہوتا۔ وہ دنیا کی ظاہری زیب و زینت اور اس کی چمک دمک اور اس کی جاذبیت و کشش کو سب سے زیادہ محسوس کرتے تھے اور اس کے نقائص و عیوب کے سب سے بڑے دانا تھے وہ ہمیشہ اپنی مجالس و محافل میں اس کی مذمت اور اس کے عیوب و قبائح بیان فرماتے جس سے لوگوں کے دلوں میں اس کی طرف سے کراہت و نفرت پیدا ہوئی۔ حضور داناے غیوبﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ‘‘مجھے تم پر شرک کا خوف نہیں مگر تم دنیا میں راغب ہو جاؤگے جیسا کہ تم سے اگلے راغب ہو گئے تو دنیا تمھیں بھی اسی طرح ہلاک کر دےگی جس طرح تم سے اگلوں کو ہلاک کر دیا (بخاری وغیرہ، مفہوم)
یہاں یہ نکتہ ذہن نشین رہے کہ انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کے جملہ کمالات اور اخلاق و اوصاف حمیدہ وہبی ہوتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے بخشے ہوئے، کسبی نہیں کہ عمل و اکتساب سے حاصل کیے ہوں۔ لہٰذا ان کی ہر ادا، ہر کمال و وصف اللہ تعالیٰ کےکمالات و اخلاق کا عکس و پرتو ہوتا ہے اور سب محبوب و پسندیدہ۔ لہٰذا یہی بزرگوار معیار ہیں اور کمالات و اوصاف و اخلاق میں ان کی اقتدا ہی مرضی حق اور فلاح کا ضامن ہے۔
۱۳۔انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کے اصحاب جو ان سے بلاواسطہ فیضیاب ہوئے ہیں وہ باقی امت سے افضل ہوتے ہیں اور اتباع و پیروی میں عام طور پر سب سے پیش قدم ہوتے ہیں۔ ان انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ان کے انوار سمٹنے لگتے ہیں عمومی طور پر پھر قلوب و نفوس میں وہ صفا نہیں رہ پاتی ہے جو ان کے اصحاب میں ہوتی ہے ان بزرگوں کا نور جس قدر دلوں سے نکلنے لگتا ہے اس کی جگہ اسی قدر بدعت اعتقادی و عملی پیدا ہونے لگتی ہے، کوئی بھی
شخص اس کو بدلتے ادوار کے تناظر میں دیکھ سکتا ہے۔
۱۴۔اصحاب کے بعد عام طور پر لوگ مختلف طبقات میں بٹ جاتے ہیں؛ ایک وہ طبقہ ہوتا ہے جو پورے طور پر انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کی ظاہر و باطن میں پیروی اور اتباع کا حامل ہوتا ہے اور یہ ان کی شریعت و سیرت پر کامل طور پر عمل کرتا ہے اور انوار باطن کی اپنے مجاہدات و ریاضات اور اتباع کی بدولت حفاظت کرتا ہے اور اپنے اندر ان کمالات و اوصاف اور اخلاق پیدا کرنے کی جد و جہد کرتا ہے جو ان کے پیشواؤں کے ہوتے ہیں۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں سے پتا چلتا ہے کہ عموماً مختلف ادوار میں تارک الدنیا اور ارباب کمال لوگ رہے۔ احبار و رہبان کی ایک جماعت ہمیشہ ان کمالات و اوصاف کی حامل رہی اور گرجا گھر اور کلیسا ان سے آباد رہے۔ یہ راہبین کی جماعت کثرت مجاہدات وغیرہ کی وجہ سے کشف کی بھی مالک رہی جیسا کہ بحیرا وغیرہ کے واقعات سے عیاں ہے۔ان احبار و رہبان نے اپنی زندگی صرف ذکر و عبادت تک محدود نہ رکھی بلکہ باضابطہ اصلاح اعمال و عقائد کے لیے دعوت و تبلیغ کا کام کرتے تھے۔ بخاری وغیرہ نے حضرت ورقہ ابن نوفلرضی اللہ عنہ کے تعلق سے بیان فرمایا کہ بت پرستی سے کنارہ کشی کر کے دین نصرانیت قبول فرما لیا تھا اور وہ انجیل مقدس کا ترجمہ عربی وغیرہ میں کیا کرتے تھے۔ ظاہر ہے اس کا مقصد سواے دین کی دعوت کے اور کیا ہو سکتا ہے۔
ائمہ و مشائخ کی کتابوں سے پتا چلتا ہے کہ دیگر مذاہب کے لوگوں نے جو ریاضات و مجاہدات اختیار کیے اور ان کی وجہ سے وہ کشف نفس کے مالک ہوئے اور امور خارق عادت کا جو ان سے ظہور ہوا وہ انھی بزرگواروں سے سیکھے اور یہ سب انھی کا سرمایہ کہلاتے ہیں۔
۱۵۔ جن کو صوفیہ کرام کہا جاتا ہےدر اصل یہ وہی جماعت ہوتی ہے جو اپنے انبیا
علیہم السلام کی اداؤں، ان کے اقوال و افعال اور ان کے اخلاق و اعمال اور احوال کی پورے طور پر عامل ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انھیں کام کوئی بھی دے دیا جائے۔ اس بات سے پتا چلتا ہے کہ یہ صوفیہ ہر دور میں رہے اور انھوں نے اپنے پیشواؤں کی کامل اتباع کی اور خود کو اس کے لیے وقف کر دیا۔
۱۶۔ہر دور کے لوگوں کی طبیعتیں، استعدادیں اور تمدنی زندگی وغیرہ میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے نیز سرکشی و طغیانی کا بھی عموماً جدا جدا انداز اور طریقہ ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل خاص رہا کہ اس نے مختلف ادوار میں مختلف مرسلین و انبیا علیہم السلام مبعوث فرمائے جن کے ذریعہ مختلف قوموں کو مختلف احکام عطا فرمائے، یہ احکام مذکورہ بالا امور کی وجہ سے بدلتے رہے، سب نہیں بدلے مگر کچھ نہ کچھ ضرور بدلتے رہے، دوسرے مشیت ایزدی کا تقاضا رہا کہ ان کو مختلف کمالات سے نوازا جائے نیز کوئی رسول تشریف لائے اور انھوں نے جو احکام دیے بعد میں جو اعتقادی و عملی خرابیاں ان کی امتوں میں پیدا ہوئیں ان کی اصلاح اور تزکیہ نفوس و اخلاق کے لیے انبیا علیہم السلام مبعوث ہوتے رہے۔ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیہم و سلم پہ آکر نعمت الٰہی کا اتمام اور دین کا اکمال ہو گیا، دروازۂ نبوت و رسالت بھی بند ہو گیااور آپ کا دین اس وقت تک کے لیے آخری دین ہو گیا جب تک یہ دنیا آباد رہے نیز آپ پوری کائنات کے ہر قوم و ملت کے لیے مبعوث ہوئے اس طرح اس امت میں ہر حیثیت سے جو وسعت آئی وہ کسی بھی امت کو نصیب نہ ہوئی۔ پھر اس کی آبادی بھی بہت پھیل چکی تھی اور آگے پھیلنا تھی اس کے عقائد و اعمال میں تغیر بھی لابدّی تھا اس لے اس امت پر احسان فرمایا اور جو کام پہلے انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کرتے تھے اس امت کے مجددین و مصلحین کے ذمہ آیا۔ اس دین آخر کو مختلف اقوام و ملل سے بھی سامنا کرنا تھا اور پوری دنیا میں بھی پھیلنا تھا اور ہمیشہ رہنا تھا نیز علوم و معارف جدیدہ س
سے بھی آشنا کرنا تھا مختلف زمانوں میں مختلف کمالات ہر دور کے مناسب عطا کرنا تھا۔ غرضیکہ کہ کتاب و سنت کی تفصیل و توضیح اور اس کا ظاہر و باطن مختلف محاذوں کے افراد کا تقاضا کرتا تھا اس لیے اس امت میں پروردگار جل و علا نے مذکورہ کاموں کے لیے مختلف طبقات پیدا کر دیے اور جن سے جو کام لینا تھا ان کے دل میں وہی ڈال دیا اور انھیں متوجہ کر دیا قرآن کو وادی عرب سے نکال کر عجم تک پہنچنا تھا، عجم عرب کے مخصوص لب و لہجہ سے ناواقف تھے اس کے لیے قرّا کی جماعت پیدا کر دی اور انھوں نے پوری دنیا میں پھیل کر یہ کام کیا کہ قرآن کو انھی طریقوں اور لہجوں میں پڑھا جائے جن پر وہ نازل ہوا۔ آیات کی تفسیر و توضیح کے لیے مفسرین اور احادیث کی حفاظت کے لیے محدثین اور مسائل جدیدہ اور دین کامل کی ہمہ گیری و ہمہ جہتی کی وضاحت کے لیے مجتہدین اور فقہا وجود میں آئے۔
جب یونان سے فلسفہ و منطق عرب میں منقول ہوئے اور ان کی تحقیقات اسلامی اصول میں عام قاری کے لیے تشکیک کا باعث ہونے لگیں تو اس رحیم و کریم مولیٰ جل و علا نے متکلمین پیدا کر دیے،قرآن و سنت جگہ جگہ بندوں سے احسان و اخلاق طلب کرتے ہیں نیز قرآن کا تقاضا ہے کہ بندے خود اپنا بھی تزکیہ نفوس کریں اور دوسروں کا بھی اور بندوں کو مقام بندگی پر فائز کرکے مقصد تخلیق کو پورا کریں اور اپنے ظاہر و باطن کو ان کے خالق جل و علا کے حوالے کریں اس کے لیے اولیاے کرام و صوفیہ عظام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو کھڑا کر دیا۔
جس طرح مذکورہ بالا اہل علم کے طبقات نے اپنے مقاصد کے لیے اصول و فروع مرتب کیے اور اپنے اپنے علوم و فنون مدون کیے اسی طرح طبقہ صوفیہ نے بھی اپنے مقاصد کے لیے اصول و قواعد قرآن و سنت کی روشنی میں وضع کیے اور ان کی روشنی میں اصلاح قلوب و نفوس کا کام انجام دیا جیسا کہ محققین صوفیہ کی تشریحات شاہد عدل ہیں،
ان کی ایک جھلک اگر دیکھنا ہو تو امام اہل سنت اعلیٰ حضرت احمد رضا خاں فاضل بریلویرحمۃ اللہ علیہ کا رسالہ ‘مقال عرفا’ بھی دیکھا جا سکتا ہے اور جس طرح اہل علم کے ان طبقات نے لغت سے الفاظ لے کر ان کے اصطلاحی معنی مقرر کیے اسی طرح صوفیہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے کشوف و الہامات کے ذریعہ جو دیکھا اور جانا اور اتباع سنت و شریعت میں کمال اور مخصوص مجاہدات و ریاضات کی وجہ سے جن انوار و تجلیات اور کیفیات و واردات سے دو چار ہوئے ان کی تعبیرات مناسب الفاظ کے ذریعہ فرمائی، جب دیگر اہل علم کی وضع اصطلا حات پر حرف زنی نہیں کی جا سکتی ہے تو صوفیہ کرام پر کیوں روا ہوگی۔
۱۷۔ہر طبقے کے لوگ علم و فضل، تقویٰ و پرہیز گاری اور تصفیہ قلب و تزکیہ اور قرب و عرفان وغیرہ میں برابر نہیں۔ محدثین کے بھی طبقات ہیں مفسرین کے بھی اور مجتہدین اور عام علما و فقہا کے بھی، انسان خطا و نسیان سے مرکب ہے، خطائیں سب سے ہوتی ہیں اور ہر قول وعمل نہ سب کا مقبول ہوتا ہے نہ مردود، اس کلام سے مستثنیٰ صرف ایک ہی ذات اقدس ہے وہ ہیں عالم ما کان و ما یکونﷺ، بڑوں کی علمی خطاؤں کی چھوٹوں نے نشان دہی کی ہے لیکن اس طرح کی علمی و لفظی خطاؤں کی بنیاد پر ان کی عظمتوں اور ساری علمی فضیلتوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے اور اگر خطائیں نہ ہوتیں تو مجددین و مصلحین کی ضرورتیں ہی کیوں پڑتیں تو جو حال علوم ظاہرہ کے حاملین کا ہے وہی اولیاے کرام و صوفیہ عظام کا بھی ہے۔ اہل ظاہر سے نظری و استدلالی خطائیں ہوتی ہیں، طبقہ صوفیہ سے کشفی خطائیں۔ پہلا طبقہ نظر و استدلال کا اسیر ہے اور ان کے علوم و فنون استدلالی ہوتے ہیں، دوسرا طبقہ اپنے علوم و ادراکات میں کشف و شہود کا پابند ہوتا ہے۔
علماے ظاہر کے ہر طبقے میں جس قدر کثیر اختلاف ہے اور اعتقادی و عملی جو
تفاوت ہے اسے اہل علم اچھی طرح جانتے ہیں صوفیہ میں بھی کشفی اختلا ف ہے جو کچھ حالات و کیفیات کے اعتبار سے کچھ اور چیزوں کی وجہ سے اس کو کافی حد تک ہم کتاب کشف و الہام اور شطحیات اور ان کے اسباب میں بیان کر چکے ہیں اس رسالہ کے آخر میں ان شاء اللہ تعالیٰ مختصر بحث سپرد قلم ہوگی۔
‘‘مطالعہ تصوف’’ پر ایک تبصرہ:
اب صوفیہ کرام علیہم الرضوان کی عظمتوں اور کمالات و اخلاق و اوصاف کے تعلق سے ان لوگوں کے خیالات و تأثرات نقل کرتے ہیں جنھوں نے محبت و عقیدت کے بجائے تنقید کی نظر سے دیکھا ہے اور قرآن و سنت کی روشنی میں جانچا اور پرکھا ہے اور تصوف و صوفیہ کو بہت کچھ تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور تنقید میں اکثر غلو سے کام لیا ہے۔ اس تنقید میں وہ کہاں تک درست راے تک پہنچے ہیں یہ جدا بحث ہے۔ اس سلسلے میں ہم چند اقتباسات نقل کرتے ہیں:
سب سے پہلے جناب غلام قادر لون کشمیری صاحب کے مقالہ ‘‘مطالعہ تصوف کتاب و سنت کی روشنی میں’’ سے نقل کرتے ہیں۔ موصوف کا یہ مقالہ تقریباً ۵۷۰ صفحات پر مشتمل ہے اور مرکز مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی سے چھپا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ موصوف کسی نہ کسی طرح جماعت اسلامی سے وابستہ یا اس سے متأثر ہیں۔ فقیر مجددی کے ناقص مطالعہ کی روشنی میں آج تصوف و صوفیہ کا سب سے بڑا دشمن جماعت غیر مقلدین ہے اور اس کے بعد اگر کسی کا نام لیا جا سکتا ہے تو مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی جماعت اسلامی ہےاب مسٹر غلام قادر لون کس ذہنیت کے ہو سکتے ہیں، اس سے اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ تنقید کے مراحل میں موصوف کا مستند امت کا نہایت بدنام گستاخ ابن تیمیہ ابن القیم اور ابن حزم جیسے لوگ ہیں۔ اس سے بھی موصوف کے پایہ
تحقیق و تنقید کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ موصوف ان مذکورہ لوگوں خاص کر ابن تیمیہ کے اس قدر مداح ہیں گویا موصوف کی نظر میں ابن تیمیہ کا ہر قول و عمل وحی الٰہی سے مؤید ہے۔ اس سب کے باوجود صوفیہ کرام علیہم الرضوان کے تعلق سے موصوف لون مندرجہ اعترافات پر مجبور ہیں، مقالہ کے آخر میں عنوان قائم کیا کہ ‘‘ہنرش نیز بگو’’۔ اس کے تحت ۲۸ صفحات پر مشتمل مضمون میں صوفیہ کی خدمات، اوصاف و اخلاق، اتباع قرآن و سنت وغیرہ کا تذکرہ کیا، چند مختصر اقتباسات ملاحظہ ہوں، لکھتے ہیں: