مواد پر جائیں

باب ۳ از ۳صفحات ۴۱–۴۸

نبی کےصدقے

نبی کے صدقے حرم کی تجلیاں دیکھیںانھی کے فیض سے رحمت کی بدلیاں دیکھیں

گذر گئے میرے آقا چمک اٹھے صحرانبی کے نور سے پرنور بستیاں دیکھیں

بہشت وخلد کے مالک سدا نوازیں گےہم ان کے رند ہیں ہم نے تو مستیاں دیکھیں

سدا بلند ہیں جو انکا نام لیتے ہیںخدا کے فضل سے ہم نے نہ پستیاں دیکھیں

کہاں وہ ہمتیں آفاق ؔ حوصلِّ کس میںجو ہر طرح کی صحابہ نے سختیاں دیکھیں

֍֍֍֍

للہ کرم کرو

احساس غم رلاتا ہے ہم کو سدا حضوردشمن کو بھی ملے نہ کبھی یہ سزا حضور

گلزار سنیت کی تباہی نہ پوچھیےطوفاں کی زد میں مسلک احمد رضا حضور

امت کو اپنی فتنوں سے آقا بچنجدی کی بو سے پاک ہو دینی فضا حضور

علم و عمل کا دور ہو سنت کا زور ہوپیدا ہو پھر سے پیکر صدق و صفا حضور

دنیا کے رنگ روپ سے محفوظ دل رہیںتقویٰ کے نور سے رہیں روشن سدا حضور

بچے اور بچیاں میری احباب سب مریدگن گائیں سب تیرے رہیں تجھ پر فدا حضور

فریاد ہے حضور سے للہ کرم کروآفاقؔ کی فغاں سنو آہ و بکا حضور

֍֍֍֍

شہروفا

شہر وفا کہیے یا شہر حیا کہیےسرکار کے طیبہ کو آنکھوں کی ضیاء کہیے

ہر وقت تجلی ہے ہر وقت نئے جلوےہر نعمت خالق کا بس بحر عطا کہیے

مئے خوار بنو ان کے بہکو گے سنبھالیں گےمئے خواریِ طیبہ کو خالق کی رضا کہیے

الفت ہی مدینے کی تسکینِ دل و جاں ہےہم درد کے ماروں کی طیبہ کو دوا کہیے

وہ حسنِ مجسّم ہیں ان سا نہ حسیں ہوگاسرکار دو عالم پہ مٹنے کو بقا کہیے

اے حوروں ملک آؤ طیبہ کا حسیں دیکھوقرآنِ معظم کو آقا کی ثنا کہیے

وہ اوّل و آخر ہیں وہ ظاہر و باطن بھیاحمد ہیں محمد ہیں اور دافع بلا کہیے

ہر سمت ابھرتی ہے جو سب پہ برستی ہےاس شاہ دو عالم کو رحمت کی گھٹا کہیے

ایماں کے اجالے ہوں قرآں کے سپارے ہوںیہ علم و عمل عرفاں سب ان کی عطا کہیے

وہ مظہر اکمل ہیں ہر چیز سے افضل ہیںانکو نہ خدا کہیے اور نہ ہی جدا کہیے

غربت میں مدینے تم آفاق ؔ جو آئے ہویہ ان کا کرم کہیے اور فضل خدا کہیے

֍֍֍֍

طیبہ چلو

سید ابرار کے طیبہ چلوسر کے بل اے سائلوں بطحا چلو

جان دے دو ان کے نام پاک پرکشتگانِ عشق کا رستہ چلو

مفلسو گر چاہیئے جنت تمھیںہے وہاں سودا بہت سستا چلو

وقت کے مارو نہ ہو مایوس تمانکا در ہے ملجاء و ماویٰ چلو

جان ودل مال ومتاع جاں وحشمسب کروان پر فدا طیبہ چلو

صبر ان کے ہجر پر آساں نہیںکچھ کرو آفاقؔ تم طیبہ چلو

֍֍֍֍

میرےسرکارآیئے

گردش کا وقت ہے میر ے سرکار آئیےلطف و کرم کے مالک و مختار آیئے

ہر دم عجیب کرب ہے کوئی سکوں نہیںوقت مدد ہے سب کے مددگار آیئے

ہم غمزدوں کے حال پر للہ کرم کروآنکھیں ہیں اشکبار اے غمخوار آیئے

ہر دم حضور آپ سے امید عفو ہےعفو و کرم کے قافلہ سالار آئیے

کس کو پکاریں کون ہے ہم پر رحم کرےمحشر بپا ہے رحمت غفّار آیئے

ظلمت کدے ہمارے بھی روشن ہوں نور سےآفاقؔ دل فگار کے دلدار آیئے

֍֍֍֍فراق یار

فراق یار کے لمحات کیا کہوں تم سےجو دل پہ بیتے ہیں حالات کیا کہوں تم سے

زباں پر مہر خموشی تھی اشک آنکھوں میںجگر میں زخموں کے اثرات کیا کہوں تم سے

عجب اداسی عجب غم عجب الم یارومصیبتوں کی تھی برسات کیا کہوں تم سے

خدانہ دے کبھی دشمن کو سزا ایسیجو مجھ پہ گذرے ہیں اوقات کیا کہوں تم سے

بیاں ہو ں کس طرح مجھ سے حبیب کے جلوےملیں جو پے بہ پے حسنات کیا کہوں تم سے

سکون قلب سکون جگر سکونِ حیاتغم حبیب کی برکات کیا کہوں تم سے

نظر اداس ہے ویران دل ہجوم المیہ ہیں نصیب کے ثمرات کیا کہوں تم سے

قدم قدم پہ تھاسجدوں کاشوق دل کو میرےدیار یار کی سوغات کیا کہوں تم سے

خیال یار ہو آفاقؔ ہر گھڑی لازمخیال یار کی لذّات کیا کہوں تم سے

֍֍֍֍میرے حبیب

میرے حبیب میرے غم گسار آجاؤکہاں ہو تم میرے دل کی پکار آجاؤ

تیرے بغیر میری بزم دل بہت سونی ہےنظر کا نور جگر کا قرار آجاؤ

ہمارے عشق کی زینت تمہاری ذات سے ہےہمارے زیست کا تم ہو نکھار آجاؤ

میرے وجود کو رونق تیرے کرم سے ہےتمہیں تو ہو میری فصل بہار آجاؤ

میری نظر میں سمائیں تمھارے جلوے بستمہیں تو ہو میرے لیل ونہار آجاؤ

بڑے سکون سے گزریں گے آخری لمحاتخراب حال ہے آنکھ اشکبار آجاؤ

کرے گا ہر گھڑی آفاق ؔ شکر کے سجدےکبھی جو خواب میں تم ایک بار آجاؤ

֍֍֍֍حسیں خیال

حسیں خیال حسیں یاد اے حسیں تیریسکون قلب وجگر چشم سر مگیں تیری

زمانہ ڈھو نڈلے دنیاکے سب حسینوں کومثا ل دے نہیں سکتا کبھی کہیں تیری

عطا ؤجود کے دریا بہے زمانے میںکو ئی بتا ئے سُنی ہو کبھی نہیں تیری

فلک ہے چیز کو ئی عر ش و سد رۃالماویٰہے سبکو جسکی تمناہے وہ زمیں تیری

֍֍֍֍ہجوم غم

ہجو م غم بڑھا جب بھی وہ یا د آئے ہیںسکو ن وچین اما ں امن ہم نے پائے ہیں

نہ پوچھو ان کے تبسّم کی بر کتیں لوگوخزاں رسیدہ گلستاں میں گل کھلائے ہیں

میری یہ تشنہ لبی کام آگئی میرےوہ خود پلانے مجھے جام آج آئے ہیں

بوقت مرگ طلب دید کی بڑھی حد سےتو اپنا چہرۂ انور دکھانے آئے ہیں

بسا کے دل میں انھیں ہم تو کامران ہوئےپناہ میں ان کی ہیں ہم پر انھیں کے سائے ہیں

نہ پوچھو عظمتیں ان کی خدا انھیں جانےوہی ہیں جانِ محبت وہ سب سے پیارے ہیں

کرم سے دائماآفاقؔ ان کے ہاتھوں سےتجلیات کے نورانی جام پائے ہیں

֍֍֍֍

قطعہ

نقش غم فراق مٹانے چلا ہوں میںجلوؤں سے تیرے دل کو سجانے چلاہوں میں

حسن کرم کی بارشیں اہل جہاں پہ دیکھ کرتشنہ لبی کو اپنی بجھانے چلا ہوں میں

فارسی نعت

اے مصطفےٰ برما کرم اے مجتبیٰ بر ما رحمحال مر ا بر تو عیاں بیروں ز حد درد و الم

اے ذات تو نور خدا شمس الضحیٰ بدرالدجیٰروشن ز تو شد این وآں مارا بد ہ تو جام کرم

سید ا اے سرورا شاہا کریما نیز ماحال من دانی سدا لیل و نہار من الم

عصیاں ما از حد بروں فیضان تو از حد فزوںعفو وگذر چین و سکوں درنامہ ما کن رقم

مجروح قلب وجان من لطف شما درمانِ منکن یک نظر برحال من تاز یست کہ فرحاں شوم

֍֍֍֍

قطعہ

حال خستہ ہے یا رسو اللہبخت خُفتہ ہے یارسو اللہ

اک نگاہِ کر م کا طالب ہوںدلِ شکستہ ہے یا رسو اللہ

֍֍֍֍