مواد پر جائیں

باب ۲ از ۳صفحات ۲۲–۴۱

اےجوش جنوں

اے جوش جنوں لے چل طیبہ کی بہاروں میںپائے گا سکوں بسمل طیبہ کی بہاروں میں

ہر سمت اجالے ہیں خوشیوں کے ترانے ہیںہے کیسی عجب ہلچل طیبہ کی بہاروں میں

معراج اسے کہیے عقبیٰ کا متاع کہیےگزرا جو تیرا اک پل طیبہ کی بہاروں میں

خوشبو سے مہک اٹھی عالم کی فضا ساریقربت کے کھلے وہ گل طیبہ کی بہاروں میں

ہر زخم ہوا اچھا ہر غم سے اماں پائیبے کَل کو ملا وہ کل طیبہ کی بہاروں میں

جب دست کرم اٹھا ہر سمت سے ابر اٹھاکیا خوب بھرے جل تھل طیبہ کی بہاروں میں

احمد کے گلستاں میں ہر پھول رہے تازہہر پیڑ میں لاکھوں پھل طیبہ کی بہاروں میں

مرشد کا تصدق ہے اب عام ہوئے جلوےمعمور ہیں جان ودل طیبہ کی بہاروں میں

جی بھر کے عطا کردے اب مست مجھے کردےمیں جاؤں تیرے بل بل طیبہ کی بہاروں میں

مرشد ہوں مجدد ہوں اور شاہِ مدینہ ہوںاے کاش کوئی محفل طیبہ کی بہاروں میں

مرشد کی غلامی کا آفاقؔ یہ ثمرہ ہےجو جام ملے ہر پل طیبہ کی بہاروں میں

֍֍֍֍

اب کرم کردو

حضور احمد مختار اب کرم کردوغموں کی بھیڑہے غم خوار اب کر م کردو

جگر کو چین ملے قلب کو سکو ں ہو نصیبجہاں کے چین اور قراراب کرم کردو

بڑی طویل ہے غمناک داستاں میریسنےگا کو ن اے سر کا ر اب کرم کردو

میرے مرید میرے بچے بچیاں بیویفداہوں تجھ پہ اے دلداراب کرم کردو

بروز حشر ہماری بھی لاج رکھ لینابہت بڑا ہوں گنہگا راب کرم کردو

ہمارے احمد سر ہند کے طفیل حضورمدینہ دیکھو ں میں سو باراب کرم کردو

اے نور حق ترے جلوے نصیب ہوں مجھ کودل ونگاہ ہوں ضوبار اب کرم کردو

زمانہ پلتا ہے آفاقؔ اُن کے ٹکڑوں پرکہو انھی سے کہ سر کا ر اب کرم کردو

֍֍֍֍

رسول عربی

کون فریاد سنے ہائے رسولِ عربیزخم کس شخص کو دکھلائے رسولِ عربی

بال وپر کٹ گئے پرواز کی طاقت نہ رہیطیبہ کس طرح سے جاپائے رسولِ عربی

خرمن زیست پہ گرتی ہے مسلسل بجلیجز تیرے کون بچا پائے رسولِ عربی

غیب داں آپ ہیں محبوب خدامظہرحقتیری قرآن قسم کھائے رسولِ عربی

آپ اول بھی ہیں آخر بھی ہیں ظاہر باطنتیراثانی کوئی کیا لائے رسولِ عربی

عظمت حضرت انسان تیرے دم سے ہےگیت نبیوں نے تیرے گائے رسولِ عربی

خالق کل نے دیا کل کوتیرے صدقے میںتیراصدقہ مجھے مل جائے رسولِ عربی

صرف الفت تیری سرمایۂ عقبیٰ میرابس یہ دولت میری بچ جائے رسولِ عربی

جس کی بنیاد ہو توہینِ نبوت ایسینجدیت خاک میں مل جائے رسولِ عربی

آپ ہیں وجہ سکونِ دلِ مضطر آقاجز ترے کوئی نہ اب بھائے رسولِ عربی

یاد آجاتے ہیں سکرات کے لمحے جس دمخوف سے جسم لرز جائے رسول عربی

کشتیِ دیں ہے بھنور میں کوئی سر ہند سے پھرمر د حق ناخدا آجائے رسولِ عربی

احمدی فیض سے احمدیہ ہو دیں کا مرکزعشق کی تیرے بہار آئے رسولِ عربی

دستِ شفقت رہے آفاقؔ کے سر پر تیراپھر اِسے کون مٹا پائے رسول عربی

֍֍֍֍

دیارمدینہ

تمنا ہے دیکھوں دیار مدینہدکھا دے الٰہی بہار مدینہ

یہ قلب وجگر جان وتن بیوی بچےرہیں میرے آقا نثار مدینہ

مدینہ ہو لب پر مدینہ ہو دل میںملے سب کو ایسا خمارِ مدینہ

مدینہ پڑھیں یہ مدینہ لکھیں یہہو قول عمل سب شعار مدینہ

مدینہ ہی جاں ہے مدینہ ہی ایماںکہوں تم سے کیا ہے وقار مدینہ

یہ قلب و جگر پر سکون کس قدر ہیںچبھاجب سے ان میں ہے خار مدینہ

نظام دو عالم اشارے پہ جس کےہے ایسا میراتاجدار مدینہ

ہے آفاقؔ خواہش رضاساتھ میں ہوچلوں جب سوئے لالہ زارِ مدینہ

֍֍֍֍

اےتاجداربطحا

رحمت شعار آقا اے تاجدار بطحاامت کے تم ہو داتا اے تا جداربطحا

بگڑا ہوا مقدر تم سے بنے گامیراتم سب کا ہو سہا را اے تا جدار بطحا

لگتا نہیں ہے اپنا اب دل کسی بھی شی سےمطلوب ہے نظا رہ اے تا جدار بطحا

زخم جگر کا مرہم چشم کرم تمھاریدر ماں تیرا اشارہ اے تاجد ار بطحا

مایوسیاں ہیں چھائیں اب ہر طرف سے آقاکر دو کرم خدارا اے تاجدار بطحا

احمد رضا کے صدقے آفاقؔ پر عنایتکب تک پھر ے یہ مارااے تاجدار بطحا

آئیں گی پھربہاریں

ہم کو بھی درد آقاسنت کا آپ دے دیںرگ رگ میں میری جذبہ خدمت کا آپ دے دیں

آئیں گی پھر بہاریں باندھیں گے سبز عمامےتھوڑا سا پیار اپنی سیرت کا آپ دے دیں

ہر ہر گلی میں جائیں سنت کے گیت گائیںجی بھر کے شوق مولیٰ محنت کا آپ دے دیں

مدنی بہار آئے ہراک نثار جائےدنیا کو پھر سے تحفہ الفت کا آپ دے دیں

فیشن کا دور جائے الفت کا نور آئےانسانیت کو جلوہ چاہت کا آپ دے دیں

بن جائیں سب مبلغ اسلام وسنیت کےامت کو شوق داتادعوت کا آپ دے دیں

احمد رضا ہمارے ہم سب کے ہیں سہارےصدقے میں ان کے تحفہ رحمت کا آپ دے دیں

آفاقؔ اب تو اٹھو دعوت کو عام کرولیکن سلیقہ اسکو دعوت کا آپ دے دیں

֍֍֍֍

مدینہ چلو

چلو چلو میر ے احباب تم مدینہ چلولبوں پہ نعت ہو اور آنکھ نم مدینہ چلو

مد ینہ رونقِ ہر گلشن و گلستا ں ہےجئیں گے چین سے یارو تم ہم مدینہ چلو

کہاں ہو درد کے ما رو کہا ں ہو اے پیا سوبجھے گی پیا س مٹیں گے الم مدینہ چلو

دو ایک قطرے کی تم کیسی بات کر تے ہوہیں ملتے سبکو وہاں جام جم مد ینہ چلو

ادب ہے شرط نوازش ہرآن ہوتی ہےجگر میں درد ہو اور اُن کا غم مد ینہ چلو

اسی کی ما نو اسی کی سنو جو ان کی کہےوہا بیوں سے بچو لو گو تم مدینہ چلو

نہ پو چھو عظمتیں ان کی وہ ہیں حبیب خداامیر کشور جو دو کرم مد ینہ چلو

ہر اک بڑے سے خدا نے بڑا بنا یا ہےشہ رُسل ہیں وہ شاہِ اُمم مد ینہ چلو

وہ آئے دنیا میں کیا ہر طرف بہا ر آئیاگر ہو دیکھنا فیضِ اتم مد ینہ چلو

انھیں کے دم سے جہا ں کو سکون وچین مِلاجفا وجور مٹے اور ستم مد ینہ چلو

کرم کے داتا ہیں آفاقؔ وہ نوازیں گےملے گی نعمتِ دارین تم مدینہ چلو

֍֍֍֍

نوٹ: مندرجہ بالا نعت پاک حضرت نے جب تحریر فرمائی جب کہ آپ ۲۴؍فروری ۲۰۰۴ء کو بذریعۂ بس مکہ شریف سے مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہو رہے تھے ۔

مدینےوالے

بس گئے جب سے ہیں انو ار مد ینے والےدل ہے ہر وقت طلبگار مدینے والے

چین ہے صبح میں نہ شام میں ملتا ہے سکوںہوں عجب حال سے دو چار مدینے والے

دل میں ہر وقت ہے احساسِ معاصی آقارحم اے رحمتِ غفار مدینے والے

اب تو ہو جائے کرم حال غریباں پہ حضورکشت برباد ہو گلزار مدینے والے

ہوتی ہے بارشِ انوار ہمیشہ ان پرتیری الفت سے جو سر شار مدینے والے

ظلمتیں قبر کی چھٹ جائیں گی یکسر لوگوجس گھڑ ی آئیں گے سرکار مدینے والے

جرم پر جرم شب وروز ہے عادت اپنیہوں گنا ہوں سے شر مسار مدینے والے

میرا دنیا میں نہیں کوئی رسول عر بیتم ہو مونس میرے غمخوارمدینے والے

جن سے تھا رشتۂ الفت جنہیں سمجھا اپناآج ہیں در پئے آزار مدینے والے

غم ہی دینا ہے تو سہنے کا سلیقہ دے دوغم ہی بن جائے میرا یار مدینے والے

کاش آفاقؔ پہ ہو جائے کرم ائے آقایہ بھی ہو حاضرِ دربارمدینے والے

انوکھا شہر ہے

انوکھا شہرہے اس کی فضاانوکھی ہےوہاں کی عطر میں بھیگی ہوا انو کھی ہے

وہ شہر طیبہ ہے پیارے نبی کا اے لو گووہاں جوآئے تو واللہ قضا انو کھی ہے

بیاں ہو کس طرح اس کے چمن کے پھولوں کیجہاں کے خاروں کی سب سے ادا انوکھی ہے

بڑے سکو ن سے ملتی ہے بھیک جی بھرکروہاں پہ رحمتِ باری سد ا انو کھی ہے

ملے گی دو لتِ کو نین سا ئلو ں تمکووہاں تو ما نگونہ تب بھی عطا انو کھی ہے

غم جہاں سے پریشاں حال اے لوگومدینہ آؤ کہ نو ری گھٹا انوکھی ہے

نبی کا واسطہ دیکر خدا سے جو مانگےوہ خوش نصیب ہے اس کی دُعا انوکھی ہے

نبی کے عشق میں مرجائے جو بشر یاروبقا بھی چومے گی اس کی قضا انوکھی ہے

ملے گا صدقۂ شاہ زمن تجھے آفاقؔتیری تو نسبت احمدرضا انوکھی ہے

֍֍֍֍

سرکارشفامل جائے

اپنے بیماروں کو سر کار شفا مل جائےدرد کے ماروں کو غمخوار دوامل جائے

تذکرے آپ کے احسان وکرم کے ہرسومضطر ب قلب کو دامن کی ہوا مِل جائے

بر سیں عر فاں کے بادل ہوں زمینیں شادابسو کھے دھانوں کو ہمارے بھی گھٹامِل جائے

خانۂ دل سے اند ھیرے کو مٹا نے کے لیےجانِ خورشید کچھ ہم کو بھی ضیا مِل جائے

جان ودل ہی نہیں سب کچھ ہے نچھا ور تم پرباریابی کا شرف اے شہ بطحا مِل جائے

جاں بلب ہی سہی پیاسے تیرے جانِ عا لمکیا غم موت جب تم جیسا مسیحا مِل جائے

خوب آرام سے گزرےگی حیاتِ بر زخدفن کے واسطے گرخاکِ مدینہ مِل جائے

֍֍֍֍

نشان زندگی

نہ ہو تے تم کہاں ملتا نشانِ زندگی مجھ کوتمھارے بن کہا ں ملتا شعو ر بندگی مجھ کو

سرِ محشر تمہیں نے لاج رکھ لی مجھ سے عاصی کیوگر نہ ہا تھ کیا آتا بجز شر مندگی مجھ کو

تمہاری یاد آتے ہی کھلیں دل کی میر ے کلیاںوگر نہ تھا عجب ما تم عجب افسر د گی مجھ کو

دلِ تاریک پر ایسی پڑی نوری کرن اُ ن کیہو ئے قلب وجگر روشن ملی تابندگی مجھ کو

֍֍֍֍

حسن کے جلوے

حسن کے جلوے شہا دیکھیں گے سب فردا تیرےجب لواء الحمدہوگا ہاتھ میں آقا تیرے

چشم غم سے پوچھیے قلب وجگر کامیرے حالہیں شکارغم بہت مدت سے یہ شاہاتیرے

رات کی تنہائیاں ہوں یا کہ دن کی رونقیںہیں سبھی سونی میری بزمیں بجز جاناں تیرے

تو نے جب چاہا جسے ویسا کیا فوراً اسےہاتھ میں لو ح و قلم ہیں مالک و مولیٰ تیرے

دولت دنیا ہو یا کہ دولت عقبیٰ حضورہیں سبھی مرہونِ منّت فیض کے داتا تیرے

ہم اسیر غم رہیں غم ہی رہے میرا سکونیوں ہی ہو برسات غم ساغر ملے غم کا تیرے

کچھ عجب تاثیر تیرے حسن کی دیکھی گئیجسکو دیکھو جب بھی دیکھو ہیں سبھی شیدا تیرے

ضو فشاں ہے اس طرح تیری تجلی اے حسیںجو بھی چمکا جب بھی چمکا نور سے چمکا تیرے

آرزوئے حسن ہے نہ خواہش فضل و کمالکچھ نہیں درکار ہے مجھ کو بجز آقاتیرے

کیا نہ مل پائے گئی اس آفاقؔ کو تیری عطاجب بہیں گے حشر میں فیضان کے دریا تیرے

֍֍֍֍

کچھ بھی مجھے آتا نہیں

حسن ادب حسن طلب کچھ بھی مجھے آتا نہیںآپ کے در سے سنا خالی کو ئی جا تا نہیں

پیارکے سا ئے میں جام جم لبالب دو ستوخوب ملتے ہیں یہاں تشنہ کو ئی رہتا نہیں

قلب ہے ان کی سرمگیں آنکھوں کی الفت کا اسیرجنکا کو ئی وار بھی خالی کبھی جاتا نہیں

ہجر کے صدمے سہیں کب تک یوں ہی در در پھریںکیا صبا انکو کبھی میر خیال آتا نہیں

کچھ تو ہے ان کی خمو شی میں نہا کیف وسروردیکھ کر انکو کو ئی آپے میں کیوں رہتا نہیں

کھُل گئے لبہائے نازک پھو ل سے جھڑنے لگےسن لیا ان کا بیا ں کو ئی بیاں بھاتا نہیں

رحمت عالم تیر ی رحمت کی یہ تاثیرہےہیں سبھی مرہون تیرے کس کا تو دا تا نہیں

جس نے بھی دیکھا تجھے تیرا ہی ہو کے رہ گیااب بھگا ؤ لا کھ اسکو در سے وہ جا تا نہیں

֍֍֍֍

چشم پرنم

میرے دل کا ہے کیاعالم یہ پو چھو چشم پر نم سےسنا ئی داستاں جب بھی ہے اپنی میں نے ہم دم سے

میری چاہت کی دنیا میں تو ایک گلشن ہے خوبی کامہکتا ہے چمن ہستی کا جس کی زلف برہم سے

تیری بندہ نو ازی کس طر ح تحریر میں آئےکہ ہے سا را جہاں معمو ر تیرے لطف پیہم سے

سکون دل کے متلاشی مد ینے کی طر ف آؤجہاں ملتی ہے دنیاکو شفاء ہردرد اور غم سے

اگر ہو تا نہ تو پیارے تو ہم جانے کہاں ہوتےکہاں ملتی اما ں ہم جیسے انساں کو جہنم سے

بشرکی شکل میں آئے مگر نور خدابنکرکو ئی نسبت نہ جو ڑے اپنی سر کا رِدو عالم سے

طفیل احمد سر ہند سن لیجیے ہماری بھیملے مرہم جگر کے واسطے تیر ے مرہم سے

یہ تھا تیرا کر م تونے دیا احمد رضا خاں کووگرنہ کس طرح ہو تی یہ طے راہ کٹھن ہم سے

جگہ گر مل گئی آفاق ؔ کودامانِ رحمت میںتو ہو گا کیا حساب زندگی رو ز جزا ہم سے

֍֍֍֍

نعتیں لکھا کروں

جی چاہتا ہے آپ کی نعتیں لکھا کروںہر وقت یا رسول تمہاری ثنا کروں

واقف نہیں ہوں فن سے رتبے سے آ پ کےپھرکیسے نعت لکھنے کا میں حق ادا کروں

اوصاف بے شمار ہیں سرکار آپ کےبعد از خدا بزرگ توئی میں پڑھا کروں

کعبے کا ہو طواف خیالو ں میں ہو ں حضوریوں ذکر حق ثنائے نبی ایک جا کروں

ماہ عرب ہمیں بھی عطا روشنی کروہر حال میں ہمیشہ تیری اقتدا کروں

سو جان سے فداہوں میں عالی مقام پریوں تذکرہ سدا شہ کرب و بلا کروں

مجرم ہوں اے حضورمجھے اب بچجاؤں کہاں میں کس سے کہاں التجا کروں

تم سے عزیز کیا ہے جو مانگوں اے جان جاںتم سے تم ہی کو مانگوں خدا سے دعا کروں

زلف رخ حبیب کا ہو گا نہ حق اداآفاقؔ تا حیات گر مدح وثنا کروں

֍֍֍֍

پھریادمدینہ آیا

لو تیز ہوئی دھڑکن پھر یاد مدینہ آیاگھبرا نہ دلِ مضطر ہو شاد مدینہ آیا

اب کھلنے لگے گلشن ہر شا خ پہ ہے جوبنو یرانوں پر یشاں کیوں ہو آباد مدینہ آیا

شیر یں کی طلب والے کچھ سو چا کبھی تو نےشیریں کا جو شیر یں ہے فرہاد مدینہ آیا

اے قیس جنوں کیسا یہ سو ز دروں کیساسچ عشق کے طا لب کو دلشاد مدینہ آیا

اے غم کے اسیروسن لو اے قید پرندو سن لوہر غم سے چھڑانے والا آزاد مدینہ آیا

تھی کیسی سیہ کاری پیہم تھی خطا کاریعقبیٰ کے لیے ساماں کیا زاد مدینہ آیا

سرہند کے صدقے میں آفاقؔ رہو خنداںناشاد طبیعت کو کیا شاد مدینہ آیا

֍֍֍֍

میکدےعشق کے

میکدے عشق کے ہر جاوہ بسادیتے ہیںجام الفت جنہیں سرکار پلادیتے ہیں

رونقیں ان کا مقدر ہیں بہاریں قرباںعشق سرکار میں جو خود کو مٹادیتے ہیں

نام زندہ ہیں مزا رات بھی ان کے آبادچاہنے والوں کو کیا خوب صلہ دیتے ہیں

زندگی ہوگئی جنکی بھی حوالے ان کےان کو ہر سانس میں جینے کا مزہ دیتے ہیں

برکتیں ان کے مزاروں سے ملا کرتی ہیںنام احمد کی ہمیشہ جو صدا دیتے ہیں

میکدے کھل گئے عرفان کے ساقی آئےوہ توپیاسوں کو سدا جام وفادیتے ہیں

ان کو چاہو یہی آئین وفاداری ہےوہ خطاؤں پہ بھی ہر اک کودعادیتے ہیں

ان سے بڑھکر کوئی آفاقؔ کہاں دیتا ہےوہ تو عشاق کو جنت کی ہو ا دیتے ہیں

֍֍֍֍

دل کی آواز

دل کی آواز تیرا نا م مد ینے والےورد اپنا ہے صبح وشام مدینے والے

کتنے اچھے ہیں پیا سے تیرے جان عالمخوب پیتے ہیں تیر اجا م مدینے والے

قلب قر باں، فدا جاں، نچھا ورتن منکتنے اچھے ہیں در و بام مد ینے والے

سب پہ ہیں رحمتیں اور سب کو عطا ئیں تیریسب کو فیضا ن تیر اعام مدینے والے

دل میں ہر وقت تیری یا د ہو میرے محبوباپنے بن جا ئیں گے سب کا م مدینے والے

اپنے آفاقؔ کو سر ہند کے صد قے آقاپختہ کر دے کہ ہے یہ خام مدینے والے

֍֍֍֍

نعت سرورعالم

بر نگ عشق پڑھو نعت سرور عالمہے سب سے خوب رو اک ذات سرور عالم

خد ا کے فضل سے ہر وقت کام آتے ہیںہر ایک لمحہ کرو بات سرور عالم

کرو نثار سبھی کچھ ہمیشہ ان پہ مرویہی ہے دو ستو! سو غات سر ور عالم

ہمیشہ پھو لتے پھلتے ہیں تازہ رہتے ہیںسد ا بہار ہیں با غا ت سر ور عالم

جو ان کے ہو گئے پو چھو نہ مر تبے ان کےکرم کی ہو تی ہے بر سا ت سر ور عالم

خدا کے مظہر اکمل ہیں نائب مطلقہیں بے شمار کمالات سرور عالم

خداکے ذکر سے دعوت سے اور عباد ت سےہمیشہ شاد تھے اوقات سرور عالم

نہ پو چھو عظمتیں ان کی قرآن شاہد ہےسدا بلند ہیں درجات سرور عالم

جگر کے سو زکی تسکین کے لیے آفاق ؔزباں پہ آتے ہیں نغمات سر ورعالم

֍֍֍֍

یقیں ہے مجھ کو

یقیں ہے مجھ کو آقا پھر مد ینے میں بلا ئیں گےدھڑکتا دل جگر پُر سو ز لے کرہم بھی جائیں گے

لبوں پر نعت ہو گی گنبد خضریٰ نگاہو ں میںبرائے نذر قلب وجاں مد ینہ لیکے جائیں گے

دیار عشق میں اترے گا اپنا قافلہ یاروسجو دنا ز ہر ہر گا م پہ ان کے لٹا ئیں گے

خو شاقسمت نظر آئے گا جب وہ گنبد اطہربتا اے دل تو ئی ہم کیسے اسکو دیکھ پائیں گے

فد ا ہو ں گے یہ جا ن وتن چھٹے گا صبر کا دامنرخ زیبا جو محبوب خدا اپنا دکھا ئیں گے

غم دل بھی کہوں گا داستان ہند بھی ان سےجو بیتی ہے میرے دل پر وہ رورو کر بتائیں گے

ہم ان سے حو صلہ ما نگیں گے سنت کی اشاعت کاجہاں میں ہر جگہ الفت کے ان کی گل کھلائیں گے

جئیں گے نام لے لے کر تمہا را یا رسول اللہتمہارے دشمنو ں کے نام ہستی سے مٹائیں گے

نہیں برداشت کر سکتے کبھی تو ہین آقاکیجہاں میں پھر سے عظمت کاتیری ڈنکا بجائیں گے

جئیں گے ان کی خا طر اور مر یں گے نام پر ان کےہر اک لمحہ ہر اک محفل میں ان کے گیت گائیں گے

ترس آئے گا ان کو معاف فرمائیں گے وہ مجھ کوجب ان کے سا منے رورو کے ہم آنسو بہا ئیں گے

کر و ہم پر کرم آقا وگر نہ جا ن دے دیں گےیہی کہتے ہو ئے آفاق ؔ ہم طیبہ کو جائیں گے

֍֍֍֍

مدینےوالے

جھیلے ہیں غم مسلسل ہم نے مدینے والےہیں حال اب تو ابتر اپنے مدینے والے

رنج والم کے با دل رہتے ہیں چھائے ہر دمدیکھی نہیں ہیں خوشیاں کب سے مدینے والے

آہ عصیاں شعاری اپنی اب بڑھ گئی ہے حدسےکشتی ہے اب حوالے تیرے مدینے والے

کیا کیا کہوں میں تم سے بربادیِ گلستاںاب خلق میں ہو ں بد تر سب سے مدینے والے

اب دیجیے سہارا تاکہ ملے کناراکب تک پھروں میں مارا پیارے مدینے والے

سر سبز کھیتیاں ہو ں خو شحال بستیاں ہو ںتیرے کر م کی با راں بر سے مد ینے والے

احمد رضا کے صدقے پاؤں میں تیرے جلوے

دل کا چمن ہمارا مہکے مدینے والے

کب تک جلے گا آقا امت کا آشیانہامت تیر ے سہارے پیارے مدینے والے

پُر درد ہے کہانی آقا بہت ہماریسن لو میری زبانی میرے مدینے والے

کرتے کرم ہیں سب پر دیتے ہیں جا م بھر بھرآقاقؔ کتنے پیارے اچھے مدینے والے

֍֍֍֍دل کا چمن

سر سبز ہے شاداب ہے اب دل کا چمن خوبراس آیا مجھے دوستوں آقا کا وطن خوب

کعبے کی تجلی ہو یا عرفات کے جلوےفیضان ہے سرکار کا مکے کا امن خوب

خورشید بھی شرمندہ ہے ذرّات منیٰ سےہے روشنی ہی روشنی سلطان زمن خوب

یہ وادئ مزدلفہ کے پُرنور مناظرہے سب میں عیاں شاہِ مدینہ کی کرن خوب

جس جا پہ پڑے سید عالم کے کفِ پارحمت کی برستی ہے وہاں دیکھ بھرن خوب

سرکا رکے الطاف سے حرمین کی عظمتآفاقؔ کہا کرتے ہیں یہ اہل سنن خوب

درپرتمہارے

اے انیس بیکساں در پر تمھارے آگئے

بے اماں لینے اماں در پر تمھارے آگئےجرم کرنا ہر گھڑی شیوہ رہا جن کا حضور

اے پناہ انس وجاں در پر تمھارے آگئےقلب کی تطہیر ہو آنکھیں بھی اپنی پاک ہوں

مانگنے تنویر جاں در پر تمھارے آگئےحضرت احمد کے صدقے اے رسول کائنات

دیجئے دردِ نہاں در پر تمھارے آگئےمرشدی احمد رضا قائم رہیں دائم رہیں

دو حیاتِ جاویداں در پر تمھارے آگئےنور ہو تم نور کی خیرات لینے آگئے

کیجیے روشن جہا ں در پر تمھا رے آگئےمظہر جاناں کے صدقے دیجئے آفاقؔ کو

نعمت ہر دو جہاں در پر تمھارے آگئے֍֍֍֍