مواد پر جائیں

باب ۱ از ۳صفحات ۶–۲۲

دیباچہ

ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک نعت گوئی کا تسلسل قائم ہے اور جب تک دلوں میں سچا درد پیدا ہوتا رہےگا، عشقِ حقیقی کے جلوے حاصل ہوتے رہیں گے، سوز دروں کی دولت لازوال قلوب کو گرماتی رہے گی، مدینے کا فیضان الفت عام ہوتا رہےگا اور آقائے کونین ﷺ سے دل بستگی وشیفتگی باقی رہے گی ،اس وقت تک عاشقان آشفتہ جگر کی نغمہ سنجیاں کانوں میں رس گھولتی رہیں گی ،بلکہ جنت میں بھی ان عاشقان پاک طینت کی مجالس نور میں نعت پاک کے کیف آور اور وجد آفریں نغمات کی صدائیں بلند ہوتی رہیں گی اور کیوں نہ ہو کہ ۔

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکْ کا ہے سایہ تجھ پربول بالا ہے تیرا ذکر ہے اونچا تیرا

نیز اس سلسلۃ الذھب کو کسی خطہ، زبان اور زمان ومکان کے ساتھ مقید نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ دنیا کے کونے کونے میں جہاں کہیں غلامان مدینہ بستے ہیں وہاں علاقائی ،ملکی اور بین الاقوامی زبانوں میں نعت پاک کے مبارک زمزمے کی سحر آفرینیاں قلوب کو مدینے کا اسیر بناتی رہتی ہیں اور محبان رسول کے نغمات کی نورانی پھوار دلوں کی کھیتی کو شادابی سے ہمکنار کرکے انسانیت کو معراج کمال کی راہ پر گامزن کرتی رہتی ہے ۔

ہمارا یہ سلسلہ نعت بندوں کا رہین منت نہیں، بلکہ نظام قدرت ہے اس لیے ہر دور میں افق نعت پر ایک سے بڑھکر ایک آفتاب وماہتاب طلوع اجلال فرماتے رہے اور تادم حشر اس کی رنگینیوں اور جلوہ سامانیوں میں اضافہ ہی ہوتا رہےگا کبھی اس کی رونقیں ماند نہیں پڑسکتیں اس لیے کہ نعت رسول مقبول ﷺ وظیفۂ حیات ہے ،متاعِ

زیست ہے ،سکون دل ہے ،سامان بخشش ہے ،مداوائے زخم جگر ہے، اور داغ عصیاں کو مٹانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔

یہ وہ گلستان سدا بہار ہے جس میں مختلف النوع گلہائے سرسبد کی عطر بیزیوں سے مشام جاں معطر ہوتے رہتے ہیں اور کائنات عالم میں ان کی خوشبو پھیلتی رہتی ہے ہر طرف اس میں بہاریں ہی بہاریں ہیں کسی شاخ پر حسان کے جلوے ہیں تو کسی ٹہنی پر بوصیری کے نغمے، کسی طرف رومی وجامی، عراقی وقدسی ،سعدی کی ضیاء باریاں ہیں تو کسی طرف مظہر جان جاناں اور کافی ورضا و آسی جلوہ فگن ہیں الغرض ہر سمت کیف ہی کیف ،نور ہی نور نظر آتا ہے ۔

عجب لذتیں ہیں ،بے مثال شاد کامیاں ہیں ،ہر شے پر وجد وکیف کا ملکوتی خمار طاری ہے اور چاروں طرف سے صدائیں بلند ہورہی ہیں۔

شاد باش اے عشق خوش سودائے مااے طبیب جملہ علتہائے ما

بسا کے دل میں انہیں ہم تو کامران ہوئےپناہ میں ان کی ہیں ہم پر انھی کے سائے ہیں

پیش نظر مجموعۂ کلام اسی گلشن کی تازہ حنا بندی کی ایک کامیاب کوشش ہے ،جو اس عاشق صادق اور عالم ربانی کا نتیجۂ فکر ہے جسے مبدء فیاض نے بڑی فراوانی کے ساتھ ان اعلیٰ اوصاف وکمالات سے نوازا ہے کہ جنہیں بیان کرنے کے لیے ایک دفتر درکار ہے ۔

مختصر یہ کہ وہ ذات ستودہ صفات علوم ظاہری وباطنی کا مجمع البحرین دانائے اسرار شریعت اور رمز شناس طریقت ومعرفت وحقیقت بھی تقویٰ وطہارت کا پیکر اور اتباع سنت وعزیمت کا خوگر بھی ،صورت وسیرت اخلاق وکردار ،احوال واطوار تواضع وانکساری

ہر شے میں اپنے محبوب کی منھ بولتی تصویر ہے ۔

جسے دنیا حضور پیر طریقت بحر ذخار علم ومعرفت ،مناظر اہلسنت مجاہد سنیت بحرالعرفان علامہ مفتی الحاج الشاہ آفاق احمد مجددی صاحب قبلہ بانی وشیخ الحدیث الجامعۃ الاحمدیہ قنوج کے مبارک نام سے جانتی اور پہچانتی ہے ۔

زیر نظر مجموعہ انہیں کے دلہائے نیم شبی اور نغمہ ہائے دل دردمند کی عکاسی کا حسین مرقعہ ہے جو مختلف احوال ومقامات کے ورودوفیضان کے اعتبار سے عقیدت ومحبت ،استغاثہ واستعانت ،غم فراق و ہجراں اور لذت وصال وقرب کے گلہائے رنگا رنگ سے آراستہ وپیراستہ ہے ۔

چونکہ حضور بحرالعرفان کے کلام کے اوصاف ومحاسن اور افکار وتخیلات کی بلندی کو بیان کرنا مجھ جیسے بے بضاعت کی بساط سے باہر ہے اس لیے میں ان کے کلام پر کوئی تبصرہ نہیں کر رہا، بلکہ یہ چند ٹوٹے پھوٹے جملے بھی مخدوم زادۂ گرامی حضرت مولانا احمد سعید مجددی صاحب کے حکم پر رقم کرنے کی جسارت کی گئی ۔مولائے قدیر قبول فرمائے اور میرے لیے کفّارۂ سیئات اور ذریعۂ نجات بنائے ۔آمین بجاہ حبیب الامینﷺ۔

محمد آصف رضا آفاقی مجددی۵؍ذی الحجہ ۱۴۳۴ھ

۱۱؍اکتوبر ۲۰۱۳ءبروز جمعہ مبارکہ

مناجات

فضل سے اپنے ہمیشہ ہر جگہ منصور رکھدوجہاں میں نعمتوں سے ہر گھڑی مسرور رکھ

دین وایماں سنیت محفوظ ہم سب کی رہےسنتوں کے نور سے جان وجگر پر نور رکھ

مسلک احمد رضاپہ ہم سدا چلتے رہیںجملہ فِرق باطلہ سے میرے مولیٰ دور رکھ

دامن مرشد ہمیشہ ہاتھ میں میرے رہےفیض و رحمت اور جلوؤں سے ہمیں معمور رکھ

سید عالم کی عظمت میری رگ رگ میں بساالفت سرکار سے سرشار اور مخمور رکھ

دام میں پھنس جائے نہ یہ عاجز و بیکس کہیںنفس و شیطاں کو میرے مغلوب اور مقہور رکھ

دین وعلم دین کا داعی رہوں ناشر رہوںہر جگہ یارب مجھے مقبول اور منظور رکھ

مجھ کو اور ماں پاپ کو اولاد سب احباب کوہر خطا ہر جرم سے محفوظ اور مغفور رکھ

اخلاق ہو بہتر میرے اوصاف اچھے ہوں میرےعشق میں یارب تو اپنے دل کو میرے چور رکھ

بھیک دے آفاق ؔ کوسرہند کے فیضان کیقبر کو پر نور کر اور قلب کو معمور رکھ

پڑھوصلِّ علی ٰمل کر

وہ چمکا گنبد اطہر پڑھو صلِّ علیٰ مل کرجھکاؤ اپنے اپنے سر پڑ ھو صلِّ علیٰ مل کر

رسولِ ہاشمی کی راجدھانی آگئی لو گومجسّم اب ادب بنکر پڑھو صلِّ علیٰ مِل کر

کہا ں ہو تشنہ کامو آؤ آؤ اِس طرف آؤوہ آئے ساقئ کو ثر پڑھو صلِّ علیٰ مل کر

وہ ہیں رحمت کے پیکربھیک دیں گے خوب بھربھر کرکرو فریاد رو رو کر پڑھو صلِّ علیٰ مل کر

گنہ گارو مدینہ ہی تو بخشش کا وسیلہ ہےیہی ہیں فاتح محشرپڑھو صلِّ علیٰ مل کر

عرب ہو یا عجم آفاقؔ سب ان کی بہاریں ہیںہیں اصلِ کُل وہی سرور پڑھو صلِّ علیٰ مل کر

...............بھکاری ہیں تمہارے

خوشی ہے دوستو طیبہ نگر ہم پھر سے آئے ہیںامیدیں آرزو ئیں کس قدر ہم سا تھ لائے ہیں

مدینے کا ادب سر کا ر ہم نادان کیا جانیں

بھکا ری ہیں تمھارے بھیک لینے درپہ آئے ہیں

خطا ئیں معاف کر دو یا رسو ل اللہ غلامو ں کیتیری سر کا ر کے مجرم تیرے قدموں میں آئے ہیں

پھرے ہیں مارے مارے مد توں ہم یا نبی اللہٹھکا نہ دیجئے اب آپ کے دامن میں آئے ہیں

مدینے کے لیے ہم جان کی سو غات لائے ہیںذرا پر دہ ہٹا ؤ اے مکین گنبد خضریٰ

تڑپ دیدار کی لے کر ہم اہل ہند آئے ہیںتمھا رے گیت گا ئیں ہم رہیں جب تک کہ دینا میں

تمھارے نام پر دم نکلے یہ ارما ن لائے ہیںکرم کا ایک چھینٹا تشنہ لب آفاقؔ کو دے دو

تمہاری ذات نے تو فیض کے دریا بہائے ہیں

نوٹ: یہ دونوں نعتیں حضرت نے اس وقت تحریر فرمائی جبکہ حضرت مکہّ شریف میں حالت علالت میں تھے۔

................

مدینہ یادآیا ہے

بڑی پُرنور ساعت ہے مدینہ یاد آیا ہےسکو نِ دلِ قرار جاں سکینہ یاد آیاہے

خدا کی ہر عطا ء جس پر مکمل ہے وہی لوگوسراپا حسن والفت کا خزینہ یاد آیاہے

وہ جس کی یاد سے عرفانِ حق کے پھول کھلتے ہیںتجلی نور کا مر کز وہ سینہ یاد آیاہے

دماغ ودلِ مہک اُٹھے بہا ر عِطر کیا آئینبی پا ک کا پیا را پسینہ یاد آیاہے

خدا کی رحمتیں برسی تھیں جس میں جھوم کرسب پرنبی تشریف لائے وہ مہینہ یاد آیاہے

پئے ہیں ہم نے بھی کچھ جام ایسے ما ہِ طیبہ سےسدا آفاقؔ رہ رہ کر وہ پینا یاد آیاہے

شعور عشق ملا زندگی کا کا م ملا

خو شا نصیب مجھے الفتو ں کا جام ملاعبث تھی زندگی بے چین تھی حیا ت میری

تیر ے اسیر ہو ئے چین صبح و شام ملاخیال وفکر کوالفت نے رفعتیں بخشیں

جہانِ علم وعمل کا وسیع نظام مِلاہر اک جفا نے مجھے تا زہ حو صلہ بخشا

ہما را عزم سدا ہم کو تیزگام مِلامد ینہ صد قے میں جاؤ ں تیری نواز ش کے

مجھے حیات کا ہر لمحہ شاد کا م مِلایہ فیضِ الفتِ سرکارہے تجھے آفاقؔ

سروں کی نذرملی عزتوں کا بام ملا...................................

شافع محشرشافع محشر

وجہ سکو نِ قلب وجگر شافع محشر شا فع محشرجن پہ فدا ہیں سب خشک وترشا فع محشرشا فع محشر

بزم جہاں کی رو نق وہ ہیںِ ارحم وہ ہیں اشفق وہ ہیںدو نوں جہاں ہیں جن سے منو ر شافع محشر شافع محشر

سرّ خداہیں شاہ ھدیٰ ہیں ربّ علیٰ کا وہ ہی پتہ ہیںسب سے اعلیٰ سب کے سر و رشا فع محشر شا فع محشر

کا ن وفا ہیں جان حیا ہیں ہر خوبی میں سب سے جدا ہیںسب کے جامع سب سے بر تر شا فع محشر شا فع محشر

عشق کا سا ما ں روئے انو ر شا فع محشر شافععشق کے لائق حُسن میں فائق ان کے سبھی مشتاق ہیں شائق

حُسنِ ازل کے کامل مظہر شافعِ محشر شافعِ محشران کے رہو بس انکو تکو اور ان کی مانوان سے مانگو

سب کے ناصر سب کے یاور شافع محشر شافع محشردنیا ان کی عقبیٰ ان کا سب کچھ تو آفاقؔ ہے ان کا

ان کا ہے احسان سبھی پر شافع محشر شافع محشر֍֍֍֍

مصطفےٰآئےروشنی آئی

مصطفٰے آئے روشنی آئیعلم وعر فان و آگہی آئی

وہ نہ ہو تے تو کچھ نہیں ہو تاان کے آنے سے زندگی آئی

زہد و تقویٰ عبادت واخلا قعشق والفت میں چاشنی آئی

ان سے مہکے ہیں گلشن وصحراچاند تاروں میں دلکشی آئی

ان پہ قرباں بھٹکتے لوگوں کودین دنیا کی سروری آئی

پاسبان حرم تیرے صدقےتجھ سے بندوں کو بندگی آئی

اے رسول خدا مدد کیجیےکس قدر سخت اب گھڑی آئی

خیر امت بنی تیری امتتجھ سے آوازِ امتی آئی

جس نے پایاتجھے اے جان جہاںنور پایا ہے بہتری آئی

تیرا آفاقؔ بس رہے تیرایہ دعالب پہ ہر گھڑی آئی

֍֍֍֍

ان کا ہی نام لیتے ہیں

رہین غم رہے مانا مگر مدینے کےخوشا نصیب ملے کیا سفر مدینے کے

اٹھاتے کس طرح یہ بار زیست ہم جیسےملے نہ ہوتے یہ جلوے اگر مدینے کے

وہی ہیں چین سے ہرجا جنہیں نصیب ہوئےیہ آہ اور یہ سوز جگر مدینے کے

ہر ایک سانس میں انکا ہی نام لیتے ہیںعجیب ہوتے ہیں لوگو بشر مدینے کے

ہر ایک غم سے ہیں آزاد ہر گھڑی شاداںجگر میں جنکے ہیں آہ و اثر مدینے کے

فلاح چاہیئے آفاقؔ دو جہاں میں اگرحوالے کردو یہ جان و جگر مدینے کے

֍֍֍֍

طیبہ کی محبت

طیبہ کی محبت کا کیا خوب جنوں پایاہر غم سے اماں پائی فکروں سے سکوں پایا

ہم چین سے رہتے ہیں ہر درد پہ ہنستے ہیںعشق شہ بطحا کا وہ سوزِ دروں پایا

جلوؤں کی فراوانی رگ رگ ہوئی نورانیالفت کی عنایت سے کیا کیا میں کہوں پایا

آنکھیں ہو تو دیکھو تم خورشید سے لگتے ہیںذرّات مدینہ کو ہم نے تو یوں پایا

محبوب دو عالم ہیں سر دار بنی آدمدرجات محمد کو ہر حد سے بروں پایا

آفاقؔ میری سن لیں یہ ان کا کر م ورنہہر شے میں تیرا میں نے بس حال زبوں پایا

֍֍֍֍

بچھادوراہ میں آنکھیں

بڑی امید ہے سرکار کے تشریف لانے کیبچھادو راہ میں آنکھیں ہے ساعت ان کے آنے کی

بہاؤ اشک ان کی یاد میں دل سے صدائیں دویہی تدبیر اچھی ہے مدینے سے بلانے کی

بسا لو دل میں انکا حسنِ زیبا خوبرو چہرہبڑی آسان صورت ہے ہمیشہ فیض پانے کی

جلا کر خاک کردو عشق میں جان و جگر اپنےنہیں ہم کو ضرورت عاشقوں دھونی رمانے کی

ہر اک رتبہ ہر اک منزل ہر اک خوبی انھی سے ہےانھی کی پیروی ہے دولت عقبیٰ کمانے کی

نگاہ دل سے پوچھو جلوہ گاہ یار کی عظمتتجلی نور کا مرکز ہے مٹی آستانے کی

یہی پیغام دو آفاقؔ دنیا میں رہو جب تکنبی کے عشق میں کوشش کرو خود کو مٹانے کی

دامنِ دل پہ لگے داغ دھلیں گے کب تک

شافع حشر کے دربار چلیں گے کب تکآنکھیں بے چین ہیں بے نور ہیں مشتاق جگر

ماہ و خورشید بتاؤ وہ ملیں گے کب تکدھجیاں اڑگئیں دامن کی نہ پوچھو حالت

جسکو خیاط جہاں بھی توسلیں گے کب تکظلمتیں چھاگئیں گل ہوگئے سنت کے چراغ

کیا پتہ گلشنِ انوار کھلیں گے کب تکاب تو ہوجائے کرم رحمت عالم ہم پر

ہجر کی آگ میں عشّاق جلیں گے کب تککیوں ہے مایوس اے آفاقؔ جہاں د یکھے گا

دشمنِ شاہ رُسل کس پہ پلیں گے کب تک֍֍֍֍

اےجان جہاں!

اے جانِ جہاں آجا بے تا ب یہ سینہ ہےلب پر ہے تیرا نغمہ اور دل میں مدینہ ہے

جاں بخش تبسم سے کیا خوب صدا آئیالفت میں مدینے کی مرنا ہی تو جینا ہے

اے رندو ادھر آؤ چلتے ہیں مدینے کوموسم ہے بہاروں کا پینے کا مہینہ ہے

طوفان کی زد میں ہوں اور دور کنارہ ہےللہ کرم کردو میں ہو ں اور سفینہ ہے

اب آپ عطا کردیں تو بندہ نوازی ہےنہ آداب سے واقف ہو ں نہ لینے کا قرینہ ہے

اب آپ کریں سایہ ان ناز کے پالوں پرمحشر کی تمازت ہے شدّت کا پسینہ ہے

آفاقؔ تیری قسمت وہ تجھ پہ کرم کردیںدنیا میں کہاں تجھ سا مجنوئے مدینہ ہے

֍֍֍֍

صد مرحبا

صد مرحبا کے طیبہ نگر ہم بھی جائیں گےخاک در حبیب کو سرمہ بنائیں گے

ہر ہر قدم پہ شکر کے سجدے کریں گے ہمنور نبی سے قلب و جگر جگمگائیں گے

دامن خرد کا تھام دیار حبیب ہےپھر اے جنون کبھی تجھے دل سے لگائیں گے

آنکھوں میں اشک لب پہ ثنا دل میں سوز عشقیوں داستان غم انہیں اپنی سنائیں گے

محبوب رب عر ش کی آرام گاہ ہےشہر ادب ہے سر کے بل ہم طیبہ جائیں گے

سرکار کائنات ہیں سب کچھ انہیں کا ہےقطرہ تو مانگ دیکھ وہ دریا بہائیں گے

رحمت کی بارگاہ ہے ان کے حضور ہمرو رو کے داغ جرم وخطا سب مٹائیں گے

ان کے حرم میں آتے رہیں تا حیات ہمان کے کرم سے دھوم جہاں میں مچائیں گے

سرہند سے مدینہ بہت ہی قریب ہےآفاقؔ اِس ڈگر پہ چلیں گے چلائیں گے

֍֍֍֍

صبح بہاراں ان کا چہرہ

صبح بہاراں انکا چہرہ آب حیواں ان کی نظرعشق کا ساماں زلف معنبر حسن فراواں ان کی نظر

رحمت عالم نور مجسم فخر آدم شاہ دو عالمان کی عطا ہے داماں داماں سب پر فیضاں ان کی نظر

ان کے کرم سے باغ پھلے ہیں ان کے کرم سے پھول کھلےان کے صدقے سارا جہاں ہے جانِ گلستاں ان کی نظر

نور سے ان کے دنیا روشن دم سے ان کے صحرا گلشننور مبیں ہیں شاہ زمن رحمت یزدا ان کی نظر

کلمہ پڑھیں سب شجر وحجر انکو چاہیں خشک و تران کی ضیاء ہیں شمس وقمر جگ میں چراغاں ان کی نظر

رونق عالم روح گلستاں ان پر فدا ہیں حور و غلماںان سے منور بزم امکاں شمع فروزاں ان کی نظر

ان سے ہے آفاقؔ کو نسبت جن سے ملی ہے خاک کو نسبتان کا اشارہ روح کا ساماں ساقی عرفاں ان کی نظر

֍֍֍֍

ہزارغم ملیں

ہزار غم ملیں پھر بھی کوئی ملال نہیںنگاہ عشق میں یہ بھی کوئی جلال نہیں

میرے حبیب تبسم جو آپ فرمادیںتو پھر کسی بھی الم کا کوئی خیا ل نہیں

بجز ترے کسے بخشوں یہ جان و دل اپنےترے جمال کے آگے کوئی جمال نہیں

میری حیات کی معراج ہے وصال تراخدا کے بعد بجز تو کوئی کمال نہیں

ہزار لذتیں قرباں ہزار عیش فداتیرے وصال سے بڑھ کر کوئی وصال نہیں

ہزار آندھیاں آئیں ہزار طوفاں ہوںترے چراغوں کو پھر بھی کوئی زوال نہیں

حسین عادتیں اوصاف ارفع واعلیٰتیرے غلاموں کی کوئی کہیں مثال نہیں

تیری نظر سے گرا پھر نہ اٹھ سکا وہ کبھیاٹھا لیا جسے اس کو کوئی زوال نہیں

کرو غلامی اے آفاقؔ شاہِ بطحا کیکوئی عروج نہیں اس سا کوئی حال نہیں

֍֍֍֍

آرزودل کی

مدینہ آگئے برآئی آرزو دل کیبجز حضور نہ تھی کوئی جستجو دل کی

انھیں کو چاہو انھیں پر مرو انھیں تاکوسدا آرہی یہی آواز وگفتگو دل کی

کسی نے لیلیٰ کو چاہا کسی نے سلمیٰ کوکسی کی شیریں رہی جان ماہرو دل کی

مجھے سعادت عشق حبیب حق دے کربچالی رب نے میرے کیسی آبرو دل کی

ادب نہ پوچھو حبیب خدا کی الفت کاحدیث عشق سنی ہم نے باوضو دل کی

آؤ مل کر نعت سنائیں

آؤ مل کر نعت سنائیں طیبہ والے آقا کیسارے جہاں کو بات بتائیں طیبہ والے آقا کی

سب سے بڑے وہ داتا ہیں سب سے بڑے وہ آقا ہیںعظمت ورفعت سب کو دکھائیں طیبہ والے آقا کی

قاسم نعمت ہادی امت مالک جنت سب کچھ ہیںدیکھو سب پر کیسی عطائیں طیبہ والے آقا کی

حسن خدا کے مظہر ہیں وہ سارے جہاں کے دلبر ہیںحور وملک ہیں لیتے بلائیں طیبہ والے آقا کی

رب کی عطا سے رحمت عالم نور مجسم فخر آدمذات ہے کیسی کیا بتلائیں طیبہ والے آقا کی

֍֍֍֍

بہارگلستاں آئے

چمن میں رونقیں آئیں بہار گلستاں آئےمحمد مصطفےٰ نور خدا جان جہاں آئے

وہی مقصود ہیں اس این و آں سے اور وہی حاصلخدا کی معرفت بنکر خدا کا وہ نشاں آئے

وہی ایک ایسے انساں ہیں جنہیں لا مثل لہ کہیےوہی عزت وہی عظمت وہی امن واماں آئے

خدا کے فضل سے ہم عاصیوں کو مل گیا دامنپناہ بے کساں وہ رحمت ہر دوجہاں آئے

جہانگیری جہانبانی انھیں کے در کا صدقہ ہےوہی سلطان ہر عالم وہی جانِ جناں آئے

کمال حسن مولائی جمال روئے زیبائیوہی شان ید اللّٰہی نشان بے نشاں آئے

֍֍֍֍

فریادہےحضور

ہر غم میں شادماں رہے فضل خداسے ہملے لے کے نام نکلے ہیں مو ج بلا سے ہم

فریاد ہے حضور سے اب لیجیے خبراب تنگ آگئے ہیں جو رو جفا سے ہم

کھا ئے ہیں زخم اپنوں سے کچھ اسِ قدر حضوراب مطمئن نہیں رہے اہل وفاسے ہم

کفا رو مشر کین ستاتے ہیں ہند میںرودادِغم کہیں گے کبھی مصطفی سے ہم

مسلم کے حالِ بد پہ خدارا کرم کریںفریا د کر رہے ہیں یہ شا ہِ ھدیٰ سے ہم

ہو گا کرم جو بخش دیں ہم پر رحم کریںشرمندہ و پشیماں ہیں اپنی خطاسے ہم

اللہ نے عطا کیے روشن دما غ و دلہیں فیضاب حضر ت احمد رضا سے ہم

صد قہ ملا ہے والئ سر ہند کا مجھےڈرتے نہیں ہیں دنیاکے اہل جفاسے ہم

اِک روز حال بدلے گا آفاقؔ بالیقیںکھو یا عروج پا ئیں گے ان کی عطا سے ہم

֍֍֍֍

تیراوجود

رونق بز م جہاں تیر ا وجودحاصل سب این و آں تیرا وجود

محرم اسرار سبحا ں آپ ہیںکا شف را ز نہاں تیر ا وجود

تم نکھا ر لا لہ وگل ہو حضو رہے بہار گلستاں تیرا وجود

تم نہ تھے پیارے تو یہ سب کچھ نہ تھاعالم ہستی کی جاں تیرا وجود

علم وعرفاں کے سمندر بہہ گئےرشد کا واضح نشاں تیرا وجود

راز ہائے کن فکاں تم سے کھلےہے خبیرو راز داں تیرا وجود

بے سہاروں کا سہارا تم ہوئےبے زبانوں کی زباں تیرا وجود

عظمت وثروت ہو یا علم وادبسب کا داتا بے گماں تیراوجود

خلق میں کیا دم کہ تجھکو پاسکےیہ کہاں ہے اور کہاں تیرا وجود

یاد رکھے گا سدا تجھکو جہاںہے حیات جاوداں تیرا وجود

رحم کر اے رحم کے داعی میرےرحمت ربّ جہاں تیرا وجود

منتظر آفاقؔ بھی ہے لطف کاسب پہ ہے سایہ کنا ں تیرا وجود

֍֍֍֍