باب ۳ از ۳صفحات ۳۰–۴۰
نماز اور دیگر وظائف کے طریقے
نوٹ: حضور بحر العرفان دام ظلہ کا حکم ہوا کہ کتاب کے اخیر میں نماز کا طریقہ اور اذکار و وظائف بھی ڈال دیے جائیں تاکہ کتاب اور مفید ہو جائے۔ لہٰذا تعمیل حکم میں مندرجہ چیزوں کا اضافہ کیا جا رہا ہے:
شرائط نماز:
نماز کی چھ شرطیں ہیں جنھیں اللہ اکبر کہنے تک پورا کر لینا ضروری ہے تبھی نماز ہوگی ورنہ نہیں۔
پہلی شرط طہارت ہے یعنی نمازی کے بدن، کپڑے اور نماز کی جگہ کا پاک ہونا۔
دوسری شرط ستر عورت یعنی مرد کا ناف سے لے کر گھٹنے تک اور عورت کے پورے بدن کا ڈھکا ہونا ضروری ہے۔ اگر کپڑا اتنا باریک ہو کہ جس سے بدن جھلکے تو نماز نہیں ہوگی۔ آج کل کے نوجوان ایسی جینس پہنتے ہیں جو جگہ جگہ سے پھٹی ہوتی ہے، اگر گھٹنے سے اوپر پھٹی ہے اور چوتھائی حصہ تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار تک کھلا رہا نماز نہیں ہوگی۔ ایسے ہی اس زمانے میں عورتیں دو پٹہ بہت باریک اوڑھتی ہیں اگر دوپٹے کے اوپر سے بالوں کی سیاہی نظر آئےگی تو نماز نہیں ہوگی۔
تیسری شرط قبلہ کی طرف منہ کرنا ہے۔
مسئلہ: اگر کوئی شخص ایسی جگہ ہے جہاں اسے یہ نہیں معلوم کہ قبلہ کدھر ہے نہ ہی کوئی مسلمان ہے جو بتا دے اور نہ ہی سورج چاند اور ستارے وغیرہ ہیں کہ پتا لگائے، ایسا شخص تحرّی کرے یعنی جدھر دل جمے ادھر منہ کرکے نماز پڑھ لے۔
اگر بعد میں معلوم ہوا کہ قبلہ کی طرف منہ نہیں تھا تو نماز دوبارہ نہیں پڑھنا ہے بلکہ نماز ہو گئی۔
چوتھی شرط وقت ہے یعنی ظہر کی نماز پڑھنا ہو تو ظہر کے وقت میں ہی ہوگی۔
پانچویں شرط نیت ہے۔ نیت دل کے پکے ارادے کا نام ہے، ہاں مگر زبان سے کہہ لینا مستحب ہے۔
چھٹی شرط تکبیر تحریمہ یعنی اللہ تعالیٰ کے نام سے نماز شروع کرنا۔ تکبیر تحریمہ کے لیے اللہ اکبر کہنا بہتر ہے۔
نمازپڑھنے کا طریقہ:
نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ باوضو قبلہ رُو دونوں پاؤں کے پنجوں میں چار انگل کا فاصلہ کر کے کھڑا ہو اور دونوں ہاتھ کان تک لے جائے کہ انگوٹھے کان کی لَو سے چُھو جائیں اور انگلیاں نہ ملی ہوئی رکھے نہ خوب کھولے ہوئے بلکہ اپنی حالت پر ہوں اور ہتھیلیاں قبلہ کو ہوں، نیت کر کے اﷲ اکبر کہتا ہوا ہاتھ نیچے لائے اور ناف کے نیچے باندھ لے، یوں کہ دہنی ہتھیلی کی گدی بائیں کلائی کے سرے پر ہو اور بیچ کی تین انگلیاں بائیں کلائی کی پشت پر اور انگوٹھا اور چھنگلیا کلائی کے اغل بغل اور ثنا پڑھے۔
سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِكَ وَ تَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالٰی جَدُّكَ وَلَا اِلٰـہَ غَیْرُكَ
پھر تعوذ یعنی اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
پڑھے، پھر تسمیہ یعنی بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کہے پھر الحمد پڑھے اور ختم پر آمین آہستہ کہے، اس کے بعد کوئی سورت یا تین آیتیں پڑھے یا ایک آیت کہ تین کے برابر ہو، اب اﷲ اکبر کہتا ہوا رکوع میں جائے اور گھٹنوں کو ہاتھ سے
پکڑے، اس طرح کہ ہتھیلیاں گھٹنے پر ہوں اور انگلیاں خوب پھیلی ہوں، نہ یوں کہ سب انگلیاں ایک طرف ہوں اور نہ یوں کہ چار انگلیاں ایک طرف اور ایک طرف فقط انگوٹھا اور پیٹھ بچھی ہو اور سر پیٹھ کے برابر ہو اونچا نیچا نہ ہو اور کم سے کم تین بار
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ
کہے پھر
سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ
کہتا ہوا سیدھا کھڑا ہو جائے اور منفرد (اکیلا) ہو تو اس کے بعد
اَللَّھُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ
کہے، پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا سجدہ میں جائے، یوں کہ پہلے گھٹنے زمین پر رکھے پھر ہاتھ پھر دونوں ہاتھوں کے بیچ میں سر رکھے، نہ یوں کہ صرف پیشانی چُھو جائے اور ناک کی نوک لگ جائے، بلکہ پیشانی اور ناک کی ہڈی جمائے اور بازوؤں کو کروٹوں اور پیٹ کو رانوں اور رانوں کو پنڈلیوں سے جُدا رکھے اور دونوں پاؤں کی سب انگلیوں کے پیٹ قبلہ رُو جمے ہوں اور ہتھیلیاں بچھی ہوں اور انگلیاں قبلہ کو ہوں اور کم از کم تین بار
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی
کہے، پھر سر اٹھائے، پھر ہاتھ اور داہنا قدم کھڑا کر کے اس کی انگلیاں قبلہ رُخ کرے اور بایاں قدم بچھا کر اس پر خوب سیدھا بیٹھ جائے اور ہتھیلیاں بچھا کر رانوں پر گھٹنوں کے پاس رکھے کہ دونوں ہاتھ کی انگلیاں قبلہ کو ہوں، پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا سجدے کو جائے اور اسی طرح سجدہ کرے، پھر سر اٹھائے، پھر ہاتھ کو گھٹنے پر رکھ کر پنجوں کے بل کھڑا ہو جائے، اب صرف بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر قراء ت شروع کر دے، پھر اسی طرح رکوع اور سجدے کر کے داہنا قدم کھڑا کر کے بایاں قدم بچھا کر بیٹھ جائے اور
اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّیِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہٗ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرُسُوْلُہٗ ۔
پڑھے اور اس میں کوئی حرف کم و بیش نہ کرے اور اس کو تشہد کہتے ہیں اور جب
کلمۂ لَا کے قریب پہنچے، داہنے ہاتھ کی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے کا حلقہ بنائے اور چھنگلیا اور اس کے پاس والی کو ہتھیلی سے ملا دے اور لفظ لَا پر کلمہ کی انگلی اٹھائے مگر اس کو جنبش نہ دے اور کلمۂ اِلَّا پر گرا دے اور سب انگلیاں فوراً سیدھی کر لے، اگر دو سے زیادہ رکعتیں پڑھنی ہیں تو اٹھ کھڑا ہو اور اسی طرح پڑھے مگر فرضوں کی ان رکعتوں میں الحمد کے ساتھ سورت ملانا ضرور نہیں، اب پچھلا قعدہ جس کے بعد نماز ختم کریگا، اس میں تشہد کے بعد درود شریف
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی سَیِّدِنَا اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی سَیِّدِنَا اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ.
پڑھے پھر
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ تَوَالَدَ وَلِجَمِیْعِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ الْاَحْیَاءِ مِنْھُمْ وَالْاَمْوَاتِ اِنَّکَ مُجِیْبُ الدَّعْوَاتِ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔
یا اور کوئی دُعائے ماثورہ پڑھے۔ مثلاً
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیرًا وَّ اِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ فَاغْفِرْلِی مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ
یا یہ پڑھے۔
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ
(بہار شریعت)
فرائض نماز:
نماز میں سات چیزیں فرض ہیں:
۱۔تکبیر تحریمہ: (یہ در اصل شرط ہے مگر علما نے اسے فرض میں بھی شمار کیا ہے)
مسئلہ: امام کو رکوع میں پایا اور تکبیر تحریمہ کہتا ہوا رکوع میں گیا اور گھٹنے تک ہاتھ پہنچنے سے پہلے تکبیر ختم نہیں ہوئی تو نماز نہیں ہوگی۔
۲۔قیام: یعنی سیدھا کھڑا ہونا، اس کی کم سے کم حد یہ ہے کہ ہاتھ پھیلائے تو گھٹنوں تک نہ پہنچے۔
مسئلہ: فرض، وتر، فجر کی سنت اور عید بقر عید کی نماز میں قیام فرض ہے اگر بلا عذر کوئی بیٹھ کر نماز پڑھے تو نماز نہیں ہوگی۔
۳۔قراءت: یعنی فرض کی دونوں رکعتوں اور وتر و نفل کی ہر رکعت میں کم سے کم ایک آیت کا پڑھنا امام اور منفرد (اکیلے نماز پڑھنے والا) پر فرض ہے۔
مسئلہ: مقتدی کو امام کے پیچھے نہ الحمد پڑھنا ہے اور نہ ہی کوئی سورت ملانا ہے، امام چاہے بلند آواز سے قراءت کرے (جیسے مغرب، عشا اور فجر میں) یا دھیرے جیسے ظہر اور عصر میں۔
مسئلہ: آہستہ قراءت میں کم سے کم اتنی آواز سے پڑھنا فرض ہے کہ اگر شور شرابا نہ ہو تو خود سن سکے کہ کیا پڑھ رہا ہے اگر کوئی اتنا دھیرے پڑھے اور خود سن نہ سکے تو نماز نہیں ہوگی اس لیے کہ فرض ادا نہ ہوا۔
۴۔رکوع: یعنی کم از کم اتنا جھکنا فرض ہے کہ ہاتھ بڑھائے تو گھٹنوں تک پہنچ جائے۔
۵۔سجدہ: ہر رکعت میں دو سجدے فرض ہیں۔
(ہمارے بہت سے بھولے بھالے بھائی سجدے میں بڑی غلطیاں کرتے ہیں خاص کر سر اور پیر ٹیکنے میں۔ سجدے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ناک اورپیشانی دونوں زمین پر لگے ایسے ہی دونوں پیروں کی کم از کم تین انگلیوں کے پیٹ کا زمین پر لگا ہونا واجب ہے، اگر انگوٹھا بھی نہیں لگا تو سجدہ ہی نہیں ہوا اور اگر تین انگلیوں سے کم لگایا تو نماز لوٹانی پڑےگی)
۶۔قعدۂ اخیرہ: یعنی نماز کی رکعتیں پوری کر لینے کے بعد اتنی دیر تک بیٹھنا کہ جس میں پوری التحیات پڑھ سکے۔
۷۔خروج بِصُنعِہٖ: یعنی قعدۂ اخیرہ کے بعد سلام و کلام کرے جو کہ نماز کو ختم کرنے والا ہو۔ (اس کے لیے السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہتے ہیں)
واجبات نماز:
نماز میں یہ چیزیں واجب ہیں: تکبیر تحریمہ میں لفظ اللہ اکبر کہنا، الحمد پڑھنا، فرض کی دو پہلی رکعتوں میں اور سنت، نفل اور وتر کی ہر رکعت میں الحمد کے ساتھ سورت یا چھوٹی تین آیات ملانا، فرض نماز میں پہلی دو رکعتوں میں قراءت کے بعد متصلاً رکوع کرنا، سجدہ میں دونوں پاؤں کی تین تین انگلیوں کا پیٹ زمین سے لگنا ، دونوں سجدوں کے درمیان کوئی رکن فاصل نہ ہونا، تعدیل ارکان (یعنی ہر رکن ٹھیک ٹھیک کامل طور پر ادا کرنا)، قومہ یعنی رکوع سے سیدھا کھڑا ہونا، جلسہ یعنی دونوں سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا، قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے دوران کچھ نہ پڑھنا (یعنی صرف التحیات ہی پڑھیں)، ہر قعدہ میں پورا تشہد پڑھنا، لفظ سلام دو بار کہنا،، وتر میں دعاے قنوت پڑھنا، تکبیر قنوت، عیدین کی چھ تکبیریں، عیدین کی دوسری رکعت کی تکبیر و رکوع اور اس تکبیر کے لیے لفظ اللہ اکبر کہنا، ہر جہری نماز (مغرب، عشا، فجر) میں امام کو جہر سے تلاوت کرنا اور غیر جہری میں آہستہ، ہر
واجب اور فرض کا اس کی جگہ پر ہونا، رکوع کا ہر رکعت میں ایک ہی بار ہونا، اور سجود کا دو ہی بار ہونا، دوسری سے پہلے قعدہ نہ کرنا، اور چار رکعت والی نماز میں تیسری پر قعدہ نہ ہونا، آیت سجدہ پڑھی تو سجدۂ تلاوت کرنا اور سہو ہو تو سجدۂ سہو کرنا، دو فرض یا دو واجب یا واجب فرض کے درمیان تین تسبیح کی مقدار وقفہ نہ ہونا، امام جب قراءت کرے مقتدی کا خاموش رہنا اور سوا قراءت تمام واجبات میں امام کی متابعت کرنا۔ (انوار شریعت)
نماز کی سنتیں:
نماز کی سنتیں یہ ہیں: تحریمہ کے لیے ہاتھ اٹھانا اور ہاتھوں کی انگلیاں اپنے حال پر چھوڑ دینا، بوقت تکبیر سر نہ جھکانا اور ہتھیلیوں اور انگلیوں کے پیٹ کا قبلہ رو ہونا، تکبیر سے پہلے ہاتھ اٹھانا، اسی طرح تکبیرات عیدین میں کانوں تک ہاتھ لے جانے کے بعد تکبیر کہنا، عورت کو صرف مونڈھوں تک ہاتھ اٹھانا، امام کا اَللّٰہُ اَکْبَرُ، سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ اور سلام بلند آواز سے کہنا ، بعد تکبیر ہاتھ لٹکائے بغیر فوراً باندھ لینا، ثنا، تعوذ، تسمیہ پڑھنا اور آمین کہنا، اور ان سب کا آہستہ ہونا، پہلے ثنا پڑھنا پھر تعوذ پھر تسمیہ اور ہر ایک کے بعد دوسرے کو فوراً پڑھنا، رکوع میں تین بار تسبیح سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمْ کہنا اور انگلیاں کشادہ رکھنا، حالت رکوع میں پیٹھ خوب بچھی رہنا، رکوع سے اٹھنے پر ہاتھ لٹکا ہوا چھوڑ دینا، رکوع سے اٹھنے میں امام کو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہنا، مقتدی کو رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنا، اور منفرد کو دونوں کہنا، سجدہ کےلیے اورسجدہ سے اٹھنے کے لیے اللہ اکبر کہنا، سجدہ میں کم از کم تین بار سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ کہنا، سجدہ کرنے کے لیے پہلے گھٹنا پھر ہاتھ پھر ناک پھر پیشانی زمین پر رکھنا، اور سجدہ سے اٹھنے کے لیے پہلے پیشانی پھر ناک پھر ہاتھ پھر گھٹنا زمین سے اٹھانا، سجدہ میں بازو کروٹوں سے اور پیٹ رانوں سے الگ ہونا، اور کتے کی طرح
کلائیاں زمین پر نہ بچھانا، عورت کا بازو کروٹوں سے اور پیٹ رانوں سے ران پنڈلیوں سے اور پنڈلیاں زمین سے ملا دینا، دونوں سجدوں کے درمیان مثل تشہد کے بیٹھنا، اور ہاتھوں کو رانوں پر رکھنا، سجدوں میں ہاتھوں کی انگلیوں کا قبلہ رو ہونا اور ملی ہوئی ہونا، اور پاؤں کی دسوں انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا، یعنی انگلیوں کا قبلہ کی طرف مڑنا، دوسری رکعت کے لیے پنجوں کے بل گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھنا، قعدہ میں بایاں پاؤں بچھا کر دونوں سرین اس پر رکھ کر بیٹھنا، داہنا قدم کھڑا رکھنا، اور داہنے قدم کی انگلیاں قبلہ رخ کرنا، عورت کو دونوں پاؤں داہنی جانب نکال کر بائیں سرین پر بیٹھنا، داہنا ہاتھ داہنی ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھنا اور انگلیوں کو اپنی حالت پر چھوڑ دینا، شہادت پر اشارہ کرنا، قعدۂ اخیرہ میں تشہد کے بعد درود شریف اور دعاے ماثورہ پڑھنا۔ (انوار شریعت)
قضاے عمری کا آسان طریقہ:
(قضاے عمری ادا کرنا بہت ضروری ہے جب تک فرض نمازیں ذمے میں باقی رہتی ہیں نفل نمازیں قبول نہیں ہوتی ہیں۔ ہمارے بہت سے بھائی نماز عاشورا اور صلاۃ التسبیح وغیرہ میں تو خوب دلچسپی لیتے ہیں مگر قضاے عمری سے بالکل غافل رہتے ہیں اگر شب قدر اور شب براءت میں نفل نمازوں کی جگہ قضاے عمری ادا کریں تو ذمے سے بہت سی نمازیں نکل جائیں)
قضا نمازیں ادا کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ظہر ہی کے وقت میں ادا کریں بلکہ سورج نکلتے وقت سورج ڈوبتے وقت اور ٹھیک دوپہر کے وقت (ضحوۂ کبریٰ) ان تینوں اوقات کے علاوہ جب بھی چاہیں کسی بھی نماز کی قضا ادا کر سکتے ہیں۔
قضاے عمری میں صرف فرض اور وتر کی قضا کی جاتی ہے (یعنی فجر۲، ظہر۴،
عصر۴، مغرب ۳، عشا۴ ، اور وتر کی تین) سنت اور نفل کی نہیں۔
قضاے عمری کی نیت کیسے کریں:
جس نماز کی نیت کرنی ہو اس میں یوں کہیں اس نماز کی سب سے پہلی قضا یا آخر سے شروع کریں تو کہیں سب سے آخری قضا۔ زبان سے بھی کہنا ضروری نہیں ہے، بلکہ صرف دل میں پکا ارادہ کر لیں کافی ہے۔
آسان طریقہ:
اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ثنا نہ پڑھیں بلکہ فرض و وتر کی پہلی دو رکعتوں میں صرف الحمد شریف اور کوئی چھوٹی سورت پڑھیں، خالی رکعتوں میں یعنی تیسری اور چھوتھی میں الحمد نہ پڑھ کر صرف تین بار سبحان اللہ کہہ کر رکوع کر لیں۔ رکوع اور سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمْ اور سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ تین تین بار کے بجاے صرف ایک بار کہیں۔ آخری رکعت میں التحیات کے بعد صرف اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہ کہہ کر سلام پھیر دیں۔ وتر میں دعاے قنوت کی جگہ صرف رَبِّ اغْفِرْلِیْ کہنا ہی کافی ہے۔ (ملخص از ملفوظات اعلیٰ حضرت، ج: ۱، ص: ۱۲۵)
وظائف بعد نماز پنج گانہ:
کلمہ طیبہ ‘‘لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ’’ ۲۱ بار، (۲) ‘‘لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ’’ سو بار۔ (۳) ‘‘یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْئَلُكَ اَنْ تُنَوِّرَ قَلْبِیْ بِنُوْرِ مَعْرِفَتِكَ یَا اَللّٰہُ’’ ۴۱ بار، (۴) درود شریف سو بار۔
وظیفہ بعد نماز ظہر: اول و آخر ۱۱؍۱۱ بار درود شریف درمیان میں ‘‘اَللّٰہُ الصَّمَدُ’’ سو بار۔
وظیفہ بعد نماز عصر: اول و آخر ۱۱؍۱۱ بار درود شریف درمیان میں ‘‘یَااَللّٰہُ’’ سو بار۔
وظیفہ بعد نماز مغرب: اول و آخر ۱۱؍۱۱ بار درود شریف درمیان میں ۴۱ بار یہ دعا:
اَللّٰھُمَّ طَھِّرْ قَلْبِیْ عَنْ غَیْرِكَ وَ نَوِّرْ قَلْبِیْ بِنُوْرِ مَعْرِفَتِكَ اَبَداً یَا اَللّٰہُ یَا اَللّٰہُ یَا اَللّٰہُ۔
وظیفہ بعد نماز عشا: (۱) درود غوثیہ سو بار، (۲) ‘‘یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِیْثُ’’ سو بار، (۳) کلمہ طیبہ سو بار۔
ختم مجددیہ:
اس ختم کا پڑھنا حل مشکلات و انجاح مہمات اور حصول نسبت بہ حضرت مجدد قدس سرہ کے لیے انتہائی مجرب ہے جیسا کہ ہمارے سلسلہ میں آج تک رائج ہے۔ حضور قلب کے ساتھ وقت متعین کر کے ایک ہی بیٹھک میں پڑھ کر اس کا ثواب حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ کی روح اقدس کو نذر کریں، طریقہ یہ ہے:
(۱)درود شریف سو بار (۲)لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ۵۰۰ بار (۳)سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ ۳۰۰ بار (۴)یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ ۳۰۰ بار (۵)اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیْمْ ۳۰۰ بار (۶)یَا ذَالْجَلَالِ وَ الْاِکْرَامِ ۳۰۰ بار (۷) یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۳۰۰ بار (۸)لا مَلْجَأَ وَلا مَنْجَا إِلا إِلَيْكَ ۳۰۰ بار (۹) رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنۡفُسَنَا وَ اِنۡ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیۡنَ ۳۰۰ بار (۱۰) پھر لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ۵۰۰ بار (۱۱)درود شریف۔
ختم خواجگان:
سورۂ فاتحہ (الحمد شریف) مع بِسْمِ اللّٰہِ سات بار، سو بار درود شریف۔ ہمارے مشائخ کا معمول یہ درود شریف رہا ہے:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ وَ سَلِّمْ
۔ سورۂ الم نشرح مع بِسْمِ اللّٰہِ ہر دفعہ ۷۹ بار، سورۂ اخلاص یعنی قُلْ ھُوَ اللّٰہُ مع بِسْمِ اللّٰہِ ہر دفعہ ہزار بار، سورۂ اَلْحَمْدُ شریف مع بِسْمِ اللّٰہِ سات بار، درود شریف ایک سو بار۔
یہ حضرات خواجگان قدس اللہ اسرارہم کا ختم ہے۔ البتہ حضرات مشائخ کا معمول رہا ہے کہ وہ اس کے بعد مندرجہ ذیل کلمات اور بھی پڑھتے ہیں:
یَا قَاضِیَ الْحَاجَاتِ
ایک سو بار،
یَا کَافِیَ الْمُھِمَّاتِ
ایک سو بار
یَا دَافِعَ الْبَلِیَّاتِ
ایک سو بار
، یَا رَافِعَ الدَّرَجَاتِ
ایک سو بار
یَا شَافِیَ الاَمْرَاضِ
ایک سو بار
، یَا مُجِیْبَ الَّدعْوَاتِ
ایک سو بار
، یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ
ایک سو بار
پھر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگے اور فاتحہ پڑھ کر خواجگان نقشبندیہ کی ارواح مقدسہ کو ایصال ثواب کرے۔
نوٹ: اگر کوئی خاص ضرورت یا مشکل درپیش ہو تو سو بار
یَا مُسَبِّبَ الاَسْبَابِ ....اور .....یَا مُحَلِّلَ الْمُشْکِلَاتِ
کا اضافہ کرے، مگر
شَافِیَ الاَمْرَاضِ
کے بعد اور آخر میں
یَا مُجِیْبَ الَّدعْوَاتِ ..............اور ..........یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ
۔ (ماخوذ از شجرہ شریف)
نوٹ: ختم مجددیہ اور ختم خواجگان حضور بحر العرفان کی مسجد میں ہر دو شنبہ کو بعد نمازظہر کیا جاتا ہے۔