باب ۲ از ۳صفحات ۱۷–۲۹
نماز کے فائدے
نماز کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ عبادات میں سب سے زیادہ جامع اور طاعات میں سب سے زیادہ خدا کے قریب کر نے والی چیز نماز کی ادائیگی ہے،سرکار علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا:‘‘الصلاۃ عماد الدین فمن اقامہا فقد اقام الدین ومن ترکہا فقد ہدم الدین’’یعنی نماز دین کا ستون ہے جس نے اسے قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا اور جس نے اسے چھوڑا اس نے دین کو چھوڑ دیا۔
نماز کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ جس شخص کو ادائے نماز کی توفیق ملتی ہے اسے فحش اور برے امر سے باز رکھتی ہے،آیت کریمہ ہے:اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ بیشک نماز بے حیائی اور بُری بات سے منع کرتی ہے ،اس بات کی تاکید کرتی ہے اور جو نماز ایسی نہیں ہے وہ صورتاً نماز ہے حقیقت نہیں رکھتی ہے لیکن جب تک حقیقت حاصل نہیں ہوتی ہے صورت کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا
چاہیے‘‘مالایدرک کلہ لا یترک کلہ’’یعنی جس کا کل پایا نہیں جا سکتا تو اس کا کل چھوڑا بھی نہیں جا تا،اکرم الاکرمین (اللہ تعالیٰ) اگر صورت کو حقیقت اعتبارکرے تو بعید نہیں،پس تم پر ہمیشہ جماعتوں اور خشوع وخضوع کے ساتھ نماز کی ادائیگی لازم ہے کیونکہ وہ نجات و فلاح کا سبب ہے۔
نماز میں خشوع فلاح کا سبب ہے:
نماز کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ خشوع کے ساتھ نماز ادا کرنا فلاح کا سبب ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ ہُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوۡنَ ( )
بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں۔
دنیامیں نماز کا رتبہ:
نماز کا یہ بڑا اہم اور خاص فائدہ ہے کہ دنیا میں نماز کا وہی رتبہ ہے جو آخرت میں دیدار الٰہی کا رتبہ ہے،دنیا میں نہایت قرب، نماز میں حاصل ہوتی ہے اور آخرت میں نہایت قرب، دیدار کے وقت ہے،یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اور عبادات نماز کے لیے وسائل ہیں جبکہ نماز مقاصد سے ہے۔
نماز میں لذت حاصل کرنا:
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ عبادات میں لذت حاصل ہونا اور ادا میں رنج و مصیبت کا دور ہونا حق سبحانہ کی بڑی نعمتوں سے ہےخاص کر ادائے نماز میں کہ غیر منتہی کو میسر نہیں،خاص کر فرائض کی ادا میں کہ ابتدا میں نفل نماز کی ادا میں لذت حاصل ہوتی ہے اور نہایۃ النہایۃ میں یہ نسبت فرائض سے وابستہ ہوجا تی
.............
۔ المومنون،آیت:۱و۲
ہے،اور ادائے نوافل سے خود کو بے کار جانتا ہے اس کے نزدیک فقط فرائض کی ادائیگی بڑا کام ہے،یہ بھی یاد رہے کہ ادائے نماز کے وقت جو لذت میسر آتی ہے اس میں نفس کو کوئی بھی حظ و لذت نہیں،عین اس لذت میں وہ نالہ و فغاں میں ہے،سبحان اللہ!کیا رتبہ ہے؏
ہنیئًالأرباب النعیم نعیمہا
قرب فرض اور قرب نفل:
عالم امر پر عالم خلق کی برتری اور فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اے فرزند!سنو!انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات نے دعوت کو عالم خلق پر مقصور و محصور رکھا ہے،‘‘بُنی الاسلام علیَ خمس’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے(ان میں سے پانچ چیزوں کا خاص تعلق عالم خلق سے ہے)اور چونکہ قلب عالم خلق سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے،اس لیے اس کی تصدیق کی بھی دعوت فرمائی اور ماورائے قلب کوئی کلام نہ فرمایا اور اس کو کالمطروح فی الطریق (یعنی بے کار کا خیال کیا) اور مقاصد سے شمار نہ فرمایا،ایسا کیوں نہ ہو کہ بہشت کے تنعمات اور دوزخ کے آلام اور دولت دیدار اور محرومی کی بے دولتی سب عالم خلق سے وابستہ ہے،عالم امر کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دوسری وجہِ فضیلت یہ ہے کہ جو عمل فرض،واجب اور سنت ہے اس کی بجاآوری قالب (بدن) سے تعلق رکھتی ہے جبکہ عالم امر کا نصیب اعمال نافلہ ہیں،پس قرب جو ان اعمال کی ادائیگی کا ثمرہ اور دلیل ہےوہ اعمال کے انداز ےسے ہوگا،پھر تو لا محالہ جو قرب کہ ادائے فرائض کا نتیجہ ہے عالم خلق کا نصیب ہوگا اور جو قرب کہ ادائے نوافل کا ثمرہ ہے عالم امر کا نصیب ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ فرض کے مقابل نفل کا کوئی شمار نہیں کاش کہ اتنا بھی شمار ہوتا جو
ایک قطرہ بحر محیط(سمندر)سے رکھتا ہے۔
اکثر مخلوقات چونکہ اس چیز سے کچھ حصہ نہیں رکھتی ہے اس لیے فرائض کو برباد کرکے نوافل کو رواج دینے کی کوشش کرتے ہیں،صوفیہ خام ذکر و فکر کو سب سے بڑا مقصد قراردے کر فرائض وسنن کو بجا لانے میں سستی کرتےہیں اور اربعینات،چلوں اور ریاضات کو اختیار کرکے جمعہ وجماعت کو چھوڑ تے ہیں،انھیں نہیں معلوم کہ ایک فرض کو جماعت سے ادا کرنا ان کے ہزاروں چلوں سے بہتر ہے۔
ہاں!آداب شرعیہ کی مراعات کے ساتھ ذکر وفکر نہایت اہم اور بہتر ہے،علماء بے سرانجام بھی نوافل کی ترویج میں کوشش کرتے ہیں اور فرائض کو برباد اور ناقص جا نتے ہیں،مثال کے طور پر نماز عاشوراء جو حضورﷺ کی کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں اسے پوری جمعیت اور جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں،حالانکہ جا نتے ہیں کہ فقہی روایات جماعت نافلہ کو مکروہ بتاتی ہیں ۔
اور(یہی لوگ)فرائض کی ادائیگی میں کاہلی وسستی سے کام لیتے ہیں،بہت کم ہوتا ہے کہ فرض کو وقت مستحب میں ادا کریں بلکہ اس وقت سے تجاوز کر جاتے ہیں،جماعت کی پابندی کا کچھ خاص خیال نہیں کرتے ہیں،ایک یا دوشخصوں کے ساتھ جماعت میں قناعت کر لیتے ہیں بلکہ بہت دفعہ تو تنہا ہی پڑھ لیتے ہیں،جب اسلام کے مقتدا وپیشوا حضرات یہ کریں گے تو عوام کے بارے میں کیا کہا جائے،اس عمل کی نحوست کی وجہ سے اسلام میں ضعف اور کمزوری پیدا ہوگئی ہے اور اس کردار کی سیاہی و ظلمت سے ہوائے نفس اور بدعت ظاہر ہے۔
نوافل اور فرائض میں ایک فرق یہ بھی ہےکہ نوافل کی اداظلال سے کسی محل کا قرب بخشتی ہے اور ادائے فرائض قرب اصل کا مورث ہے جو کہ ظلیت کا شائبہ
نہیں رکھتا ہے،ہاں!وہ نوافل جو فرائض کی تکمیل کے واسطے ادا کیے جائیں وہ قرب اصل کے ممد ومعاون ہیں اور فرض کے ملحقات سے ہیں،پس لا محالہ فرائض کی ادا عالم خلق کے مناسب ہے جو کہ اصل کی طرف متوجہ ہے اور ادائے نوافل عالم امر کے مناسب ہے جس کا رخ ظل کی طرف ہے، اگرچہ سارے ہی فرائض قرب اصلی بخشتے ہیں لیکن ان میں سب سے افضل و اکمل نماز ہے۔’’
آج کے اکثر علما و مشائخ کا حال:
فقیر مجددی عفی عنہ عرض کرتا ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ نے اپنے عہد کے اس قسم کے علما کے جو حالات قلمبند کیے ہیں آج اس سے کہیں زیادہ برا حال ہے،اب تو اکثر علما سرے سے نماز روزے کے پابند ہیں ہی نہیں،جو ہیں بھی تو ان کی اکثریت جماعت خاص کر مسجد میں مقتدیوں کے ساتھ نماز ادا کرنے کا کوئی خیال ہی نہیں رکھتے ہیں جس کی وجہ سے عوام کے دلوں سے ایسے علما کی قدر وقیمت اور عقیدت ومحبت نکل گئی۔
جوان علما کی نظر میں تو نماز کی کوئی حیثیت نہیں رہی، اکثر پیر اور پیر زادے اور اساتذہ نماز سے کوسوں دور ہیں،پیشہ ور مقرروں کا تو نہایت برا حال ہے،اکثر جوان حفاظ وقراء اور علما جو مساجد کے امام ہیں وہ مجبوری میں نماز پڑھتے ہیں،امامت سے بر طرف ہوتے ہی نماز کی کوئی فکر نہیں۔
آج کے علما و مشائخ کے اس کردار سے اسلام و سنیت کو جو نقصان پہنچا وہ ہر حساس اور ذی علم جانتا ہے،مخالف فرقے عوام کو ان کا کردار دکھا دکھا کر وہابی،دیوبندی وغیرہ بنا ئے جا رہے ہیں،نماز کے تعلق سے اس لا پرواہی کو دیکھ کر عام انسان نماز کی اہمیت و عظمت کو کھو بیٹھا،جب ان علما و مشائخ کا یہ حال ہے تو ان کے مریدین و متوسلین اور ان کے احباب و متعلقین کی لا پرواہی کا آپ بخوبی اندازہ
نماز چھوڑنے سے خود علما کے نقصانات:
حضرت مجدد قدس سرہ نے سچ فرمایا کہ ان کے اس عمل سے اسلام کمزور ہوا ہے،ایسے حضرات کے عمل و کردار سے خود ان کا بھی بڑا نقصان ہوا ایک تو ان کل یا بعض نمازوں کا عذاب و وبال ان کے سر رہا جو انھوں نے چھوڑیں،دوسرے وہ چار امور جن کو حضرت مجدد قدس سرہ نے متممات نماز سے شمار کیا،اسی طرح خشوع و خضوع کے ترک سے جو قرب ذات میسر آتا اس سے محرومی ہو گئی،یہ اتنا بڑا خسارہ ہے کہ جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا ہے،اور اس قدر عظیم نقصان ہے کہ جس کی تلافی نہیں کی جا سکتی ہے۔
تیسرے فرائض چھوٹے تو سنن ومستحبات بھی گئے اور نوافل سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے،لہٰذا جو ان سے قرب میسر آتا وہ گیا،چہارم نماز ایک عمل ہے جو دیگر بہت سی بھلائیوں کو ساتھ میں لگائے رہتا ہے،مثلا جو نماز پڑھتا ہے تو وہ با وضو ہوتا ہے،خارج نماز بھی بہت سی تسبیحات واذکار وغیرہ کا پابند رہتا ہے،برائے نماز رات ودن میں مساجد کی طرف چل کر جاتا ہے،مساجد میں اللہ کا ذکر کرتا ہے ،وعظ سنتا اور سناتا ہے،نیز نماز کی برکت سے برے اور فحش امور سے توبہ کرتا ہے ،نیکیوں کی طرف سبقت کرتا ہے،یہ نماز اور دیگر نیکیاں اسے دیگر بڑی نیکیوں کی طرف لے جا تی ہیں،نور الٰہی قلب و بدن میں سرایت کرتا ہے،نماز پڑھنے اور تلاوت وغیرہ کی رغبت بڑھتی ہے۔
ان کے علاوہ وہ نقصانات ہیں جن کا تعلق خود ایسے لوگوں سے ہے جو بالکل نماز نہیں پڑھتے،یا کچھ پڑھتے ہیں مگر جن آداب کے ساتھ پڑھنا چاہیے نہیں پڑھتے ہیں،اس کے علاوہ اسلام و سنیت کا وہ بڑا نقصان بھی ہے جو ان کے کردار و عمل کو
دیکھ کر ہوا،اور لوگوں میں نمازوں کی طرف سے کا ہلی و سستی پیدا ہوئی یا وہ بد عملی کا شکار ہو ئے،آج ہر با شعور سنی جا نتا ہے کہ بعض فرقۂ با طلہ نے صرف نماز کو ذریعہ بنا کر اس قدر شیوع وعموم پیدا کر لیا ہے کہ ان کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے اور ہماری گھٹتی چلی جا رہی ہے۔
پیرزادوں کے نام اہم پیغام:
حضرت مجدد قدس سرہ اپنے پیرزادوں خواجہ محمد عبید اللہ اور خواجہ محمد عبد اللہ قدس اللہ تعالیٰ اسرارہما العالیہ کے نام مکتوب ۲۶۶ میں نماز کے تعلق سے اہتمام بلیغ کی،چناں چہ یوں تا کید فرماتے ہیں:
‘‘نماز جو کہ دین کا ستون ہے اس کے کچھ فضائل وارکان قلم بند کرتا ہوں انھیں سنیں!پہلے کامل وضو ضروری ہے اس طور پر کہ ہر عضو کو تین بار کامل طور پر دھوئیں تاکہ سنت کے مطابق ہو،سر کے مسح میں استیعاب کریں یعنی پورے سر کا مسح کریں اور کان وگردن کے مسح میں احتیاط فرما ئیں اور پیر کی انگلیوں کے درمیان بائیں ہاتھ کی چھنگلی سے خلال کریں اسے اچھی طرح دھیان رکھیں اور مستحب پر عمل تھوڑا نہ سمجھیں،مستحب وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب اور پسند ہے۔
وہ ایک فعل جس کے بارے میں یہ معلوم ہو جا ئے کہ یہ حق سبحانہ و تعالیٰ کو پسند و محبوب ہے اور اس پر عمل میسر آجائے تو پوری دنیا کے بدلے وہ غنیمت ہے،یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص ٹھیکری کے چند ٹکڑوں کے عوض قیمتی جو ہر ( موتی )خرید لے اور بے فائدہ پتھر کے بدلے روح حاصل کر لے۔
کامل طہارت اور مکمل وضو کے بعد نماز کا قصد کریں جو کہ مومن کی معراج ہے اور اہتمام فرمائیں کہ نماز فرض بے جماعت ادا نہ ہو بلکہ امام کے ساتھ تکبیر اؤلیٰ بھی فوت نہ ہو،نماز وقت مستحب میں ادا کریں،قرأت میں مقدار مسنون کا
خیال رکھیں اور رکوع و سجود میں طمانیت ضروری ہے جو کہ فرض اور بقول مختار واجب ہے۔
قومہ میں(رکوع سے اٹھنے کے بعد)سیدھے کھڑے ہو جا ئیں اور اس حد تک کہ ہڈیاں اپنے اپنے محل میں لوٹ آئیں اور سیدھا کھڑا ہو جائے،طمانیت ضروری ہے جو کہ بحسب اختلاف اقوال فرض،واجب یا سنت ہے۔
اسی طرح جلسہ(دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا)میں اچھی طرح بیٹھنے کے بعد بھی اطمینان درکار ہے جیسا کہ قومہ میں۔ رکوع و سجدہ کی تسبیحات کم سے کم تین بار پڑھے اور زیادہ سے زیادہ سات یا گیارہ بار مع اختلاف الاقوال،امام کی تسبیح مقتدیوں کے حال کے اندازے سے ہے(یعنی مقتدیوں کے حال ضعف وقوت کو ملحوظ رکھے)۔
شرم آتی ہے کہ کوئی شخص تنہا نماز پڑھنے کی حالت میں قوت و استطاعت ہو نے کے با وجود تین ہی بار تسبیح پر اقتصار کرے اور اگر زیادہ نہ ہو سکے تو پانچ یا سات بار کہہ لے۔
سجدہ میں جاتے وقت جو زمین سے نزدیک تر ہے اسے پہلے زمین پر رکھے پس پہلے دونوں زانو زمین پر رکھے اس کے بعد دونوں ہاتھ،اس کے بعد ناک،اس کے بعد پیشانی کو،اور زانو اور ہاتھ رکھتے وقت آغاز دائیں سے ہو اور سر اٹھاتے وقت جو آسمان سے نزدیک ہے پہلے اٹھائے،پس اٹھانے کا آغاز پیشانی سے کرے۔
قیام کے وقت نظر سجدہ کی جگہ جمانا چاہیے اور رکوع کے وقت اپنے پیروں پر،سجدے میں ناک کے نتھنوں اور جلوس (بیٹھنے)میں اپنے دونوں ہا تھوں پر یا اپنے کناریعنی بغلوں کو ملاحظہ کرنا چاہیے اس سے نظر پراگندگی اور انتشار سے محفوظ ہو جائے گی اور مذکورہ جگہوں پر نظر قائم رکھنے سے جمعیت کے ساتھ نماز میسر آجاتی
ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ سے منقول ہے۔
اسی طرح دونوں ہا تھوں کی انگلیوں کو رکوع کے وقت پھیلانا اور بوقت سجدہ انھیں ملائے رکھنا سنت ہے لہٰذا اس کا بھی خیال رکھنا چا ہیےکہ انگلیاں کھولنا یا ملانا بے فائدہ نہیں ہے بلکہ صاحب شریعتﷺ نے ان کے ضمن میں فوائد ملحوظ رکھ کر عمل کیا ہے ہمیں صاحب شریعت ﷺ کی متابعت کے برابر کو ئی فائدہ نہیں ہے،یہ سارے احکام فقہی کتا بوں میں تفصیل اور وضاحت کے ساتھ مذکور ہیں،ان کو اس جگہ بیان کرنے کا مقصد علم فقہ کے مطابق اعمال کی رغبت دلانا ہے۔’’
اسلام کے ارکان خمسہ:
اکثر آیات واحادیث میں دخول جنت کو اعمال صالحہ سے مربوط اور وابستہ کیا ہے،حضرت مجدد قدس سرہ کو مدتوں اس بات میں تردد رہا کہ اعمال صالحہ سے مراد سارے اعمال صالحہ ہیں یا بعض اگر سارے مراد ہیں تو مشکل ہے اس لیے کہ بہت کم ہی کسی کو سارے اعمال صالحہ کرنے کی توفیق ملتی ہوگی اور اگر بعض مراد ہیں تو وہ بعض مجہول اور غیر متعین ہیں۔
آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ آخر محض فضل خداوندی سے دل میں ڈالا گیا کہ شاید اعمال صالحہ سے اسلام کے ارکان خمسہ مراد ہوں جن پر اسلام کی بنیاد ہے،اگر یہ اصول پنجگانہ کامل طور پر ادا ہو جائیں تو نجات و فلاح نقد وقت ہے کیونکہ بذات خود اعمال صالحہ ہیں اور برائیوں،گناہوں اور منکرات سے روکتے ہیں،آیت کریمہ:
اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ ( )
۔ العنکبوت: ۴۵
یعنی بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، اس کی گواہ ہے،جب ان پانچوں کی ادائیگی میسر ہو گئی تو امید ہے کہ شکر ادا ہو گیا اور جب شکر ادا ہو گیاتوعذاب سے نجات حاصل ہو گئی،رب کا ئنات جل و علا فرماتا ہے:
مَا یَفْعَلُ اللہُ بِعَذَابِکُمْ اِنۡ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنۡتُمْ ( )
یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہارے عذاب سے کیا کام اگر تم شکر کرو اور ایمان لاؤ۔
پس اس پنجگانہ کو بجا لانے میں جان سے زیادہ کوشش کرنا چاہیے،خاص کر نماز کو قائم کرنے میں کہ دین کا ستون ہے،جہاں تک ہو سکے اس کے آداب میں سے کوئی ادب چھوڑنے پر راضی نہ ہواگر نماز کو مکمل کر لیا تو اسلام کے بڑے رکن کو پالیااور دوزخ سے چھٹکارا کے لیے مضبوط رسی حاصل کر لی،اللہ سبحانہ ہی توفیق دینے والا ہے۔
تکبیروں کی حکمتیں:
معلوم ہو کہ نماز میں تکبیر اولیٰ اشارہ ہے اس طرح کہ حق سبحانہ وتعالیٰ عابدین کی عبادتوں اور نمازیوں کی نمازوں سے مستغنی اور بڑا ہے اور وہ تکبیریں جو کہ ارکان کے بعد میں(یعنی قیام و غیرہ کے بعد ہیں) ہیں اشارہ ہیں اس طرف کہ ہر رکن کی ادائیگی برائے عبادت خداوندی جل و علا لیاقت نہیں رکھتی ہے اور رکوع کی تسبیح(سبحان ربی العظیم) میں چونکہ تکبیر کے معنیٰ ملحوظ ہیں اسی لیے رکوع سے اٹھتے ہوئے اللّٰہ اکبر کہنے کا حکم نہیں فرمایا بلکہ سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کا حکم دیا۔
اس کے برخلاف دونوں سجدوں کو ان کی تسبیحات کے باوجود ادائے آخر میں اللہ
...............
۔ النساء: ۱۴۷
اکبر کہنے کا حکم آیا تاکہ کوئی وہم میں نہ پڑ جائے کہ سجدہ میں جو کہ نہایت انحطاط وانخفاض اور غایت تذلل و انکسار پر ہے حق عبادت ادا ہو گیا اس وہم کو دفع کرنے کے لیے سجدے کی تسبیح میں بھی لفظ ‘‘اعلیٰ’’ اختیار فرمایا اور تکبیر کی تکرار(یعنی سجدہ میں جاتے اور اٹھتے وقت)مسنون ہو ئی۔
اور چونکہ نماز مومن کی معراج ہے اسی لیے نماز کے آخر میں ان کلمات کو پڑھنے کا حکم آیا جن سے حضور سرورعالم ﷺ معراج میں مشرف ہو ئے تھے،پس نمازی کو چاہیے کہ نماز کو اپنی معراج بنائے اورنماز میں نہایت قرب تلاش کرے،حدیث شریف میں ہے کہ بندہ سب سے زیادہ قریب اس وقت ہو تا ہے جب کہ نماز میں ہو۔(ابو داؤد و نسائی)
نماز کے بعد تسیحات کی حکمتیں:
نمازی چونکہ رب تعالیٰ سے مناجی ہو تا ہے (راز و نیاز کی باتیں کرتا ہے) اور حق تعالیٰ کی عظمت وجلال کا مشاہدہ کرتا ہے اس لیے یہ جگہ ایسی ہے کہ اس میں رعب و ہیبت پیدا ہو اس لیے اس کی تسلی کے لیے نماز کا ختم دو سلاموں سے فرمایا،اور وہ جو حدیث شریف میں نماز فرض کے بعد سوبار تسبیح (سبحان اللہ)،تحمید (الحمد للہ)،تکبیر(اللہ اکبر) اور تہلیل (لاالٰہ اللہ) کا ذکر آیا ہے میرے علم میں اس کا راز یہ ہے کہ ادائے نماز میں چونکہ تقصیر اور کوتاہی واقع ہو جاتی ہے اسی لیے تسبیح و تکبیر سے اس کی تلافی کرنا چاہیے اور اب عدم لیاقت اور اپنی نا تمامیِ عبادت کا اعتراف کرنا چاہیے اور چونکہ عبادت کی ادائگی توفیق الٰہی سے میسر آتی ہے اسی لیے تحمید سے اس نعمت کا شکر بجالانا چاہیے اور مستحق عبادت حق تعالیٰ کے غیر کو نہیں جاننا چاہیے۔
امید ہے کہ ادائے نماز جب شرائط آداب سے مقرون اور ملی ہو ئی ہو اور اس
کے بعد تقصیر کی تلافی اور شکر نعمت کی توفیق اور غیر حق سے استحقاق عبادت کی نفی گہرائی قلب سے اس کلمات طیبہ کے ذریعہ کی جائے تو وہ نماز قبول خداوندی کے لائق ہو جائے گی اور اس نماز کا پڑھنے والا مفلح اور کامیاب ہوگا۔(مکتوب ۳۰۴)
نماز میں تصور شیخ:
حضرت خواجہ محمد اشرف اور حاجی محمدفرکتی رحمہما اللہ نے حضرت مجدد قدس سرہ کی خدمت میں خط بھیجا اور تحریر کیا کہ رابطہ(صورت شیخ کا تصور)اس حد تک غالب ہے کہ نماز میں اس کو اپنا مسجود جانتا اور دیکھتا ہے اور اگر بالفرض نفی کرتا ہے تو منتفی نہیں ہوتا ہے(معلوم رہے کہ اولیائے کاملین جب ذی استعداد مرید کو رابطہ کی تعلیم دیتے ہیں تو اس کا فیضان کبھی ایساہوتا ہے کہ ہر طرف اسے شیخ ہی دکھائی دیتا ہے اور وہ عجب کیفیت کا شکار ہوتا ہے)
حضرت مجدد قدس سرہ جواب میں فرماتے ہیں :‘‘اےمحبت اطوار! یہ دولت تو طالبان خدا کا متمنا ہے شاید ہزاروں میں سے کسی ایک کو دیتے ہیں،اس معاملہ کا مالک صاحب استعداد اور شیخ سے کامل مناسبت رکھتا ہے،ہو سکتا ہے کہ شیخ مقتدیٰ کی تھوڑی سی صحبت سے شیخ کے جملہ کمالات کو جذب کر لے،رابطہ کی نفی کیونکر کریں گے کہ وہ مسجود الیہ ہے(جس کی جانب سجدہ کیا جاتا ہے ) نہ کہ مسجود لہ(جس کے لیے سجدہ کیا جاتا ہے)محرابوں اور مسجدوں کی کیوں نفی نہیں کرتے؟اس قسم کی دولت سعادت مندوں کو میسر ہے تاکہ جمیع احوال میں صاحب رابطہ(شیخ مقتدا)کو اپنا ذریعہ و وسیلہ جانیں اور جمیع اوقات میں اس کی طرف متوجہ رہیں۔
................
۔جیسے کعبہ معظمہ
اس بے دولت جماعت کی طرح نہ ہوں کہ جو خود کو بے نیاز جانتی ہے اور قبلۂ توجہ کو اپنے شیخ سے منحرف کرتے ہیں اور اپنے معاملے کو خراب اور ناقص کرتے ہیں۔’’(مکتوب۳۰ دفتر دوم)
معلوم رہے کہ حالت نماز میں شیخ کامل کا تصور خود بخود ہوجانا الگ چیز ہے اور بہ تکلف تصور کرنا دوسری چیز ہے،حضرت مجدد قدس سرہ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کا تعلق اول سے ہے دوم سے نہیں یہ کیفیت کس قدر محمود اور مفید ہے وہ مکتوب مذکور سے واضح اور عیاں ہے۔
اس سے پتہ چلا کہ شیخ کامل کے تصور کا جب یہ عالم ہے تو اس خوش نصیب کا کیا حال ہوگا جس کو سرور عالم ﷺ کی صورت مبارکہ کے تعلق سے یہ دولت حاصل ہو جائے،اس سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنا چاہیے جو رسول پاک ﷺ کے خیال مبارک کو بھی نہایت قبیح الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں۔( )
.........................................
1-
۔جیسا کہ مولوی اسماعیل دہلوی اپنی کتاب ‘‘صراط مستقیم’’ مطبوعہ مجتبائی، دہلی کے ص: ۸۶ میں لکھتے ہیں: ‘‘از وسوسۂ زنا خیالِ مجامعت زوجہ خود بہتر است و صرف ہمت بسوے شیخ و امثال آں از معظمین گو جناب رسالت مآب باشند بچندیں مرتبہ از استغراق در صورت گاؤ خر خود است’’ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نماز میں شیخ اور دیگر معظمین کا تصور چاہے وہ جناب رسالت مآبﷺ ہی کیوں نہ ہوں، اس سے تو بدرجہا بہتر ہے کہ زنا اور اپنی بیوی سے صحبت کا وسوسہ ہو نیز اپنے بیل اور گدھے کا خیال آئے۔ نعوذ باللہ
مسلمانوں کو چاہیے کہ امام ربّانی کا طریقہ اپنائیں اور ایسے گستاخوں کے بہکاوے میں نہ آئیں۔