مواد پر جائیں

باب ۱ از ۳صفحات ۵–۱۷

پیش لفظ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حمداً لک یا اللہ و الصلاۃ السلام علیک وعلیٰ آلك و اصحابك یا رسول اللّٰہﷺ

اللہ تعالیٰ کے بڑے احسانات سے یہ ہے کہ اس نے ہمیں ایمان کی ہدایت دی نیز یہ اس کے بہت بڑے تفضلات و اکرامات سے ہے کہ اس نے ہمیں آداب عبودیت و بندگی کی بجا آوری اور عظیم کمالات سے نوازنے کے لیے نماز جیسی دولت عطا فر مائی،نماز جس قدر بندوں کے لیے ضروری اور مفید تھی اسی قدر آج اس سے غفلت ہے،حد تو یہ ہے کہ عوام تو عوام خواص تک اس میں کس طرح کی کو تا ہی کے شکا ر ہیں،بہت سے تو پڑھتے ہی نہیں بعض ہیں جو کہیں پھنس گیے تو مجبوراََ پڑھ لیتے ہیں،بعض ایک دو وقت ادا کر لیتے ہیں،بہت سے ایسے ہیں جو اپنے گھروں پر ادا کر لیتے ہیں اور با جما عت مسجد میں نہیں پڑھتے ہیں وہ متممات نماز(وہ امور جو نماز کو تمام و کمال تک پہنچاتے ہیں) سے غافل ہیں اور خضوع و خشوع کی کو ئی فکر نہیں پھر قرأت بھی بڑی مختصر جس کا نتیجہ ہے کہ نما ز سے جو انوار و تجلیات اور قرب خداوندی کا حصول ہو نا چا ہیے اس سے محروم ہیں۔

ہماری یہ کو تا ہی جہاں ہماری محرومی کا سبب ہے وہیں اس سے اسلام و سنیت کا بڑا نقصان ہو رہا ہے،لوگ ہم سے دور ہورہےہیں،تارکین نماز ہمیں دلیل بنا رہے ہیں،غیر ہمیں سوتا ہوا دکھا کر سنیت سے متنفر کرا رہے ہیں،حیرت کی با ت یہ ہے کہ قرآن و سنت نے جگہ جگہ اس کی تاکید فر ما ئی،اس کے فوائد و کما لات سے آگاہ فرما یا،ترک پر نہا یت سخت و عیدیں فر ما ئیں جنھیں ہم پڑھتے،پڑھاتےاور تقریروں میں بیان بھی کرتےہیں،پھر ہم ہی کھلے بندوں لو گوں کے سامنے ترک

بھی کرتے ہیں۔

ہمارے بہت سے نا دان پیر نماز کے تعلق سے طرح طرح کی با تیں کرتے ہیں جس سے ان کے مریدوں کی نظر میں نما ز کی کو ئی وقعت نہیں رہی۔

ہم نے نماز کے تعلق سے کتاب ‘‘ذکر و فکر’’ میں قدرے گفتگو کی ہے پھر سوچا کہ حضرت مجدد قدس سرہ نے نماز کے جو کمالات کشفی طور پر بیان فرما ئے ہیں انھیں ایک رسالے میں جمع کر دوں ہو سکتا ہے کہ اسی طرح لو گوں کو حقیقت نماز سے واقفیت ہو اور وہ اس کے پا بند ہو جا ئیں،ہو سکتا ہے بزرگوں کی محبت ہی نماز کے جذبے سے سرشار کر دے اور عاقبت کی فلاح کے لیے نما زوں کے پابند ہو جائیں،ارادہ تھا کہ اس تعلق سےمختلف سلاسل کے بزرگوں کے واقعات،حالات اور ارشادات جمع کر دوں اور ان کی کیفیت نماز بھی بیان کروں مگر ہجوم کار وافکار ما نع ہوا اور اسی مختصر تحریر پر قناعت کی۔

میں اپنے احباب و متعلقین اور مریدین و منتسبین کو سخت وصیت کرتا ہوں کہ جب تک ہوش ہے اور حیات ہے کسی بھی حال میں نماز نہ چھوڑیں۔

وما علینا الاالبلاغ

آفاق احمد مجددی

نماز سے متعلق چندآیتیں

(۱)ہُدًی لِّلْمُتَّقِیۡنَ الَّذِیۡنَ یُؤْمِنُوۡنَ بِالْغَیۡبِ وَیُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ( )

اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں خرچ کریں ۔

(۲) وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَارْکَعُوۡا مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ ( )

اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو ۔

(۳)حٰفِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَقُوۡمُوۡا لِلہِ قٰنِتِیۡنَ ( )

نگہبانی کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی اور کھڑے ہو اللہ کے حضور ادب سے۔

(۴) وَ اِنَّہَا لَکَبِیۡرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیۡنَ ( )

اور بیشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔

(۵)حضرت ابراہیم علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و التسلیم اللہ تعالیٰ سے نماز قائم رکھنے اور اپنی ذریت کے لیے یوں دعا کرتے ہیں:

رَبِّ اجْعَلْنِیۡ مُقِیۡمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ ( )

..............

۔البقرۃ: ۳

۔البقرۃ:۴۳

۔البقرۃ:۲۳۸

۔البقرۃ:۴۵

۔سورہ ابراہیم:۴۰

اے میرے رب مجھے نماز کا قائم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو،اے ہمارے رب او رمیری دعا سن لے ۔

فائدہ:

نماز اور اذکار کے بعد مستحب ہے کہ یہی دعا (رَبِّ اجْعَلْنِیۡ۔۔۔) پڑھے۔

(۶)نماز سے گنا ہ معاف ہو تے ہیں،ارشاد خداوندی ہے:

وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیۡلِ ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ ؕ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیۡنَ ( )

اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کو۔

(۷)فرمان خداوندی ہے:

اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُوۡدًا ( )

نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے رات کی اندھیری تک اور صبح کا قرآن بیشک صبح کے قرآن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔

(۸)مومنانہ اوصاف:

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوۡنَ ۙ﴿۱﴾ الَّذِیۡنَ ہُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوۡنَ ۙ﴿۲﴾ وَالَّذِیۡنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوۡنَ ﴿ۙ۳﴾ وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ ۙ﴿۴﴾ وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ ۙ﴿۵﴾ اِلَّا عَلٰۤی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿۶﴾

...........

۔ سورہ ہود،آیت:۱۱۴

۔ سورہ اسراء،آیت:۷۸

فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْعٰدُوۡنَ ۚ﴿۷﴾ وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَ عَہۡدِہِمْ رَاعُوۡنَ ۙ﴿۸﴾ وَالَّذِیۡنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوۡنَ ۘ﴿۹﴾ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْوٰرِثُوۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾ الَّذِیۡنَ یَرِثُوۡنَ الْفِرْدَوْسَ ؕ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۱﴾ ( )

ترجمہ: بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات (توجہ) نہیں کرتے اور وہ کہ زکوٰۃ دینے کا کام کرتے ہیں اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیبیوں یا شرعی باندیوں پر جو ان کے ہاتھ کی مِلک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں تو جو ان دو کے سوا کچھ اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں یہی لوگ وارث ہیں کہ فردوس کی میراث پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

اس کو بار بار پڑھیں پھر آسانی سے یقین کر سکتے ہیں کہ جنت کن کے لیے ہے؟نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جو نماز خشوع کے ساتھ ادا ہوتی ہے وہی انسان کو دولت فلاح سے مالامال کر تی ہے،نیز پتہ چلا کہ محافظت اور چیز ہے اور خشوع جدا چیز، محافظت چا ہتی ہے کہ پابندی سے نما ز پڑھی جا ئے اور پڑھنے کے بعد کو ئی ایسا عمل نہ کیا جائے جو پڑھی ہو ئی نماز کو ضائع کردے جبکہ خشوع چا ہتا ہے کہ حضور قلب کے ساتھ اور یاد خدا میں ڈوب کر نماز پڑھی جا ئے۔

(۹)نماز ترک کرنا تو بہت بڑے عذاب کا سبب ہے ہی مگر جو قضا کرتے ہیں ان کے لیے ارشاد خدا وندی ہے:

۔ سورہ المومنون، آیت :۱تا۱۱

فَوَیۡلٌ لِّلْمُصَلِّیۡنَ ۙ﴿۴﴾ الَّذِیۡنَ ہُمْ عَنۡ صَلَاتِہِمْ سَاہُوۡنَ ۙ﴿۵﴾ ( )

تو ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں ۔

فائدہ:

‘‘ویل’’ ہلاکت کے معنیٰ میں بھی آتا ہے اور ویل جہنم کی ایک ایسی ہو لنا ک وادی ہے کہ جس سے جہنم بھی پناہ ما نگتا ہے،جان بوجھ کر نماز چھوڑنے والے اس کے مستحق ہیں۔

(۱۰)فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ﴿ۙ۵۹﴾ ( )

تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غَی کا جنگل پائیں گے۔

فائدہ:

‘‘غَیْ’’ جہنم کی ایک ایسی وادی ہے جس کی گرمی اور گہرائی سب سے زیا دہ ہے،اس میں ایک کنواں ہے جس کا نام ‘‘ہبہب’’ ہے جب جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کنویں کو کھول دیتا ہے جس سے وہ بدستور بھڑکنے لگتی ہے،جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘

کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰہُمْ سَعِیۡرًا

’’یعنی (جہنم)جب کبھی بجھنے پر آئے گی ہم اسے اور بھڑکادیں گے۔( )

یہ کنواں بے نمازیوں،زانیوں،شرابیوں،سودخوروں اور ماں باپ کو تکلیف دینے والوں کے لیے ہے۔(بہارشریعت حصہ سوم)

..............

۔ الماعون،آیت:۴و۵

۔ سورہ مریم،آیت:۵۹

۔ الاسراء،آیت:۹۷

نماز سے متعلق چند حدیثیں

(۱)عن ابن عمر رضی اللہ عنہما قال،قال رسول اللہﷺ بنِیَ الاسلام علی خمس،شہادۃ ان لا الٰہ الااللہ وانَّ محمدا عبدہ و رسولہ واقام الصلوٰۃ وایتاء الزکوٰۃ والحج و صوم رمضان۔’’ ( )

یعنی حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرما یا:اسلام کی بنیاد پا نچ چیزوں پر ہے(اول)گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کو ئی معبود نہیں اورمحمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں(دوم)نماز قائم رکھنا(سوم)زکات دینا(چہارم)حج کرنا(پنجم)رمضان کے روزے رکھنا۔

(۲)حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ جاڑے کے موسم میں نکلے،پیڑوں کے پتے گر رہے تھے،آپ ﷺ نے ایک درخت کی ٹہنی پکڑی اس کے پتے مزید گرنے لگے،فرمایا:اے ابوذر!

انِّ العبد المسلم لیصلی الصلوٰۃ یرید بہا وجہ اللہ فتہافت ذنوبہ کما ھٰذا الورق عن ھٰذہٖ الشجرۃ،

یعنی مسلمان بندہ جب رضاے الٰہی کے لیے نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ ایسے ہی گرتے ہیں جیسے اس درخت کے پتے گر رہے ہیں۔( )

(۳)عن ابی ہریرۃ قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول أرأیتم لو انَّ نہرا بباب احدکم یغتسل فیہ کل یوم خمس مرات ھل بقی من درنہ شئ؟قالوا:لا یبقیٰ من درنہ شئ،قال فکذٰلک مثل الصلوات الخمس یمحواللہ بہن الخطایا۔’’( )

..........

۔صحیح البخاری، ج:۱، ص:۱۱، حدیث نمبر: ۸۔ صحیح مسلم، ج: ۱، ص: ۴۵، حدیث نمبر: ۱۶

۔مسند احمد، حدیث نمبر: ۲۱۰۴۶

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ کو فرماتے سنا کہ بتاؤ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو جس میں وہ روزانہ پانچ بار غسل کرے تو کیا اس کے جسم پر میل کچیل باقی رہے گا؟ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا،نہیں کچھ بھی باقی نہیں رہے گا،ارشاد فرمایا:اسی طرح پانچ نمازیں ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ خطائیں مٹا دیتا ہے۔(بخاری و مسلم)

(۴)‘‘عن حذیفہ رضی اللہ عنہ قال کان رسول اللہ ﷺ اذاحزبہ امر فزع الیَ الصلوٰۃ’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو کو ئی سخت امر پیش آتا تو نماز کی طرف جلدی کر تے۔(احمد و ابو داؤد)

(۵)حضرت ابو مسلم تغلبی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو امامہ کے پاس پہنچا اس وقت وہ مسجد میں بیٹھے تھے،میں نے کہا:اےابو امامہ! آپ کے حوالے سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ آپ نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا:‘

من توضأ فاسبغ الوضوء و غسل یدیہ و وجہہ و مسح علیَ رأسہٖ و اذنیہ ثم قام الیِ صلوٰۃ مفروضۃ غفر اللہ لہ فی ذٰلک الیوم ما مشت الیہ رجلہ و قبضت الیہ یداہ و سمعت الیہ اذناہ و نظرت الیہ عیناہ’’( )

یعنی جس نے اچھی طرح وضو کیا اپنے ہاتھوں کو دھلا، چہرا دھلا، اور کانوں کا مسح کیا، پھر فرض نماز پڑھنے کھڑا ہوا تو اس دن کے اس کے وہ سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں جو اس نے اپنے پیروں، ہاتھوں، کانوں اور آنکھوں سے کیا۔

................

۔المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر: ۸۰۳۲

کمالات نماز بزبان حضرت مجدد قدس سرہ

غواص بحر معرفت و حقیقت حضرت مجدد الف ثانی نے جو کمالات نماز تحریر فرمائے ہیں انھیں پڑھنے کے بعد اندازہ ہو تا ہے کہ نمازخداوند قدوس کے خصوصی احسانات سے ہے،ہم آپ کے بیان کردہ حقائق و معارف کا خلاصہ درج کرتے ہیں،حضرت خواجہ میر محمد نعمان قدس سرہ کو تحریر فرماتے ہیں:

‘‘اسلام کے پنجگانہ ارکان سے دوسرا رکن نماز ہے جو جامع عبادات ہے،ایسا جزء ہے کہ جس نے جا معیت کی وجہ سے کل کا حکم پیدا کر لیا ہے،اللہ کے قریب کر نے والے جس قدر اعمال ہیں نماز ان سب سے بلند اور اہم ہے،معراج کی شب سرورعالمﷺ کو جنت میں دولت دیدار میسر ہو ئی تھی وہاں سے آنے کے بعد اس دنیا میں اس جہان کے منا سب آپ کو وہ دولت نماز میں میسر ہو ئی،اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا:اقرب ما یکون العبد من الرب فی الصلوٰۃ یعنی بندہ اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب نماز میں ہو تا ہے۔

سرکار دوعالمﷺ کے کامل امتیوں کے لیے اس دنیا میں اس دولت سے نماز میں کامل نصیب اور حظ وافر ہے،اگرچہ دیدارباری تعالیٰ نہیں ہے کیونکہ یہ دنیا اس کی تاب نہیں رکھتی ہے،اگر نماز پڑھنے کا حکم نہ ہوتا تو مقصود کے رخ سے نقاب کون اٹھاتا اور طالب کی مطلوب تک رہنمائی کون کرتا؟نماز ہے کہ غمگساروں کے لیے لذت بخش ہے،نماز ہے کہ بیماروں کے لیے راحت دہ ہے،ارحنی یا بلال! اے بلال!ًمجھے راحت دو اسی قصے کی طرف اشارہ ہے اور‘‘قرۃ عینی فی الصلوٰۃ’’(میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے) سے اسی کی طرف اشارہ ہے۔

اذواق و مواجید،علوم و معارف،احوال و مقامات،انوار و الوان،تلوینات و تمکینات،تجلیات متکیفہ وغیر متکیفہ،ظہورات متلونہ وغیر متلونہ ان میں سے جو کچھ بیرون نماز میسر آتا ہے،حقیقت نماز سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ظاہر ہو تا ہے،ان سب کا منشأ ظلال و امثال بلکہ وہم و خیال سے ناشی ہے۔

جو نمازی کہ حقیقت نماز سے آگاہ ہے،اداے نماز کے وقت گویا وہ اس دنیا سے باہر آجا تا ہے اور جہان آخرت میں داخل ہو جا تا ہے،لا محالہ وہ اس وقت میں اس دولت سے جو آخرت کے ساتھ مخصوص ہے نصیب حاصل کرتا ہے اور اصل سے بے شائبۂ ظلیت حصہ حاصل کرتا ہے،کیونکہ دار دنیا کمالات ظلی پر محصور ہے اور جو معاملہ ظلال سے با ہر ہے وہ آخرت کے ساتھ مخصوص ہے،اس لیے لا محالہ معراج ہوگی اور مو منین کے حق میں وہی نماز ہی (معراج) ہے۔

یہ دولت اس امت کے ساتھ مخصوص ہے کہ اپنے پیغمبرﷺ کی تبعیت میں اس کمال سے مشرف ہوئی،اور اس سعادت سے نیک بخت ہوئی(جو ان کے پیغمبرﷺ)شب معراج میں دنیاسے آخرت کی طرف گیے اور جنت میں داخل ہو کر دولت دیدار سے مشرف ہو ئے۔’’(ماخوذ از مکتوب،۲۶۱)

حضرت مجدد قدس سرہ قرب فرائض و نوافل کا فرق بیان کرتے ہو ئے فرماتے ہیں:‘‘حضورﷺ کا وہ وقت خاص جو کہ‘‘لی مع اللہ وقت’’(میرے لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ وقت ہے)سے تعبیر ہے،فقیر (مجدد الف ثانی)کے نزدیک نماز ہی میں ہو تا ہے،نماز ہے کہ گنا ہوں کا کفارہ کرتی ہے،نماز ہے کہ بے حیائیوں اور برائیوں سے روکتی ہے،نماز ہے کہ حضورﷺ جس میں راحت طلب کرتے اور فرماتے:‘‘ارحنی یا بلال!(اے بلال!مجھے راحت پہنچاؤ)’’نماز ہے جو کہ دین کا ستون ہے،نماز ہے کہ اسلام اور کفر کے درمیان فرق ہے۔’’(مکتوب۲۶۰)

نماز کی تمامیت:

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘نماز کی تمامیت(پورا ہونا)اور اس کا کمال فقیر (حضرت مجدد قدس سرہ) کے نزدیک (چارچیزوں) فرائض، واجبات، سنن اور مستحبات نماز کو بجا لانا ہے،جن کی تفصیل کتب فقہ میں بیان ہوئی ہے، کتاب کے آخر میں بھی ہے،ان چار امور کے سوا کوئی دیگرامر نہیں جس کو نماز کی تمامیت میں کوئی دخل ہو،نماز کا خشوع بھی ان چار امور میں مندرج ہے اورقلب کا خضوع بھی ان ہی سے وابستہ ہے،ایک گروہ نے ان امور کے علم پر اکتفا کیا اور عمل میں سستی و کا ہلی اختیارکی اس لیے لا محالہ نماز کے کمالات سے کم حصہ پایا۔

دوسرے گروہ نے (نماز کی تمامیت کو) حق سبحانہ کے ساتھ حضور قلب میں منحصر سمجھ لیا اور اسی حضور کو کافی جانا انھوں نے ظاہری اعضا سے تعلق رکھنے والے مستحبات کا خیال کم کیا اور فرائض و سنن پر اقتصار کر لیا یہ گروہ بھی حقیقت نماز سے آگاہ نہ ہوا اور کمال نماز کو غیر نماز میں تلاش کیا کیونکہ انھوں نےحضورقلب احکام نماز سے شمار نہ کیا۔( )

مبتدی اور منتہی کی نماز میں فرق:

مذکورہ بالا تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ مبتدی اور منتہی کی نماز میں کو ئی فرق نہیں ہے اس لیے کہ مذکورہ چاروں امور دونوں کی نماز میں پا ئے جاسکتے ہیں،اس کا جواب یہ ہے کہ نفس عمل کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں بلکہ فرق عامل کے اعتبار سے پیدا ہوتا ہے،عامل جس قدر خدا کا قرب رکھتا ہے اسی قدر ثواب پاتا

................

۔ بلکہ نماز کو صرف حضور قلب میں منحصر قرار دے کر واجبات و مستحبات کو چھوڑ دیا۔ (ماخوذ از حاشیہ مکتوبات امام ربّانی مترجم)

ہے،ایک ہی عمل کا ثواب عاملوں کے فرق مراتب سے مختلف ہوجاتا ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ جو عمل محبوب و مقبول عامل سے وقوع میں آتا ہے اس کا ثواب چند در چند گنا ہے اس اجر سے جو کہ اس غیر محبوب و مقبول عامل کے عمل پر مرتب ہوتا ہے،کیونکہ عامل جس قدر عظیم القدر ہوگا اس کا عمل کثیر الاجر ہوگا اسی لیے کہا گیا ہے کہ عارف کا عمل ریائی مرید کے اس عمل سے بہتر ہے جو اخلاص پر مبنی ہو ،جب عمل ریائی کا یہ حال ہے تو عامل کے اس عمل کا کیا حال ہوگا جو اخلاص سے سرزد ہو۔

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے روایت میں آیا ہے :‘‘یالیتنی کنت سہو محمد’’اے کاش! میں محمد مصطفیٰ ﷺ کا سہو ہوتا،یعنی آپ اپنے قصد وعمل سے بہتر حضورﷺ کے سہو کو قرار دے رہے ہیں اور مکمل طور پر خود کو سرکار دوعالمﷺ کا سہو بناناچاہتے ہیں،پس اپنے تمام اعمال واحوال کو سرکار علیہ السلام کے سہو سے جانتے تھے اور پوری تمنا کے ساتھ ساری حسنات اور نیکیوں کو سرکار علیہ السلام کے درجۂ سہو میں ہونے کا سوال کر رہے ہیں،سرکار علیہ السلام کا عملِ سہو وہ ہے جب آپ نے چار رکعتی نماز میں دو پر سلام پھیر دیا جیسا کہ روایت کیا گیا،پس منتہی کی نماز پر دنیوی ثمرات و نتائج کے باوجود اس پر آخرت کا اجر کثیر مرتب ہوگا ،اس کے برخلاف مبتدی وعامی کی نمازمیں نماز منتہی کے خصائص سے تھوڑا سا ظاہر ہوتاہے،اس سے قیاس کریں۔؏

چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک

منتہی کی نماز کے خصائص یہ ہیں کہ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ منتہی نماز میں قرأت قرآن کے وقت میں اور اپنی زبان سے تسبیحات و تکبیرات کو بجا لاتے وقت شجرۂ موسوی کی طرح ہوجاتا ہے اور قویٰ وجوارح اور آلات و وسائط سے زیادہ نہیں

جانتا ہے اور نماز کی ادائیگی کے وقت اپنے باطن اور حقیقت کو پورے طور پر ظاہر اور صورت سے منقطع کرکے عالم غیب سے ملحق ہوجاتا ہے اور غیب سے نسبتِ مجہول الکیفیت پیدا کر لیتا ہے اور جب نماز سے فارغ ہوجاتا ہے پھر رجوع کرلیتا ہے۔

اس سوال کا دوسرا جواب یہ بھی دیا جا سکتا ہے کہ مذکورہ بالا چاروں امور کو مکمل اور پورے طور پر بجا لانا منتہی کا حصہ ہے مبتدی و عامی کے بس میں نہیں ہے کہ وہ ان امور کو تمام وکمال طور پر بجالائے اگرچہ ممکن وجائز ہے۔(ماخوذ ازمکتوب۳۰۵)

نمازدین کا ستون ہے:

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ آدمی کے لیے جس طرح اعتقادات کی درستگی ضروری ہے اسی طرح اعمال صالحہ کی بجا آوری بھی ضروری ہے۔